1990 کے ویلنٹائن ڈے پر خلا سے 6 ارب کلومیٹر سے کھینچی گئی زمین کی تصویر

اپ ڈیٹ 14 فروری 2020

ای میل

عام طور پر 14 فروری کو صرف ویلن ٹائنز ڈے ہی منایا جاتا ہے—فائل فوٹو: شٹر اسٹاک
عام طور پر 14 فروری کو صرف ویلن ٹائنز ڈے ہی منایا جاتا ہے—فائل فوٹو: شٹر اسٹاک

آج 14 فروری ہے جسے عام طور پر 'ویلنٹائنز ڈے' بھی کہا جاتا ہے۔ بعض لوگ اس دن کو اپنے محبوب سے محبت کے اظہار کے لئے وقف کردیتے ہیں تو کئی لوگوں کے لئے یہ دن بھی عام دنوں کی طرح ایک مصروف دن ہوتا ہے۔ اکثر اسے 'بےحیائی' کا عالمی دن قرار دیتے ہیں تو کئی محبّت کرنے والوں کا کہنا یہ ہوتا ہے کہ ہماری محبت اس ایک دن کی محتاج نہیں!

ایسے میں ہمیں یہ دیکھنے کو ملا کہ سائنس کے شوقین بھی اس سال 14 فروری کے لئے بہت پرجوش ہیں اور کسی 'ہلکے نیلے نقطے' کی تیسویں سالگرہ مانا رہے ہیں۔ سننے میں تو یہ نام بہت عجیب لگتا ہے لیکن اس کا تصور ہی دماغ کے دریچوں کو کھولنے کے لئے کافی ہے۔

سائنس کے شوقین افراد یہ جانتے ہیں کہ انسانوں کی بنائی گئی کل 3 خلائی گاڑیاں ایسی ہیں کہ جن میں سے 2 ہمارے نظام شمسی سے باہر جا چکی ہیں اور تیسری نظام شمسی کے کنارے پر ہے، یہ خلائی گاڑیاں وائجر ون، وائجر ٹو اور نیو ہورائیزن ہیں، ان تینوں نے اپنی اپنی منزلیں طے کیں اور ہمیں نظام شمسی کے بیرونی سیاروں، جن میں مشتری، زحل، یورینس اور نیپچون اور بونا سیارہ پلوٹو شامل ہے کے بارے میں معلومات فراہم کی لیکن وائجر ون خلائی گاڑی نے وہ کارنامہ کر دکھایا جس کا آج تک ہر سائنسی اور فلسفی محفل میں ذکر کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا زمین کے علاوہ نظام شمسی میں زندگی کی دریافت ممکن ہے؟

ہوا کچھ یوں کہ 1990 کے آغاز میں مشہور فلکیات دان ڈاکٹر کارل سیگان جو کہ امریکی خلائی ادارے ناسا کے ابتدائی دنوں میں مشیر بھی رہ چکے ہیں انہوں نے مشورہ دیا کہ وائجر ون خلائی گاڑی جو اس وقت سیارہ نیپچون کے مدار سے آگے جا چکی تھی کا رخ زمین کی طرف کیا جائے اور تقریباً 6 ارب کلومیٹر کی دوری سے نظام شمسی کی ایک تصویر لی جائے۔

یہ چھوٹا سا نقطہ اس بڑی کائنات میں موجود ہماری زمین ہے—فوٹو: ناسا
یہ چھوٹا سا نقطہ اس بڑی کائنات میں موجود ہماری زمین ہے—فوٹو: ناسا

یوں 13 فروری 1990 کو ناسا کی طرف سے وائجر ون خلائی گاڑی کو کیمرے اسٹارٹ کرنے کا پیغام بھیجا گیا اور معیاری وقت کے مطابق 14 فروری 1990 کو صبح 4 بجکر 48 منٹ (پاکستانی وقت کے مطابق صبح 9 بجکر 48 منٹ) پر وائجر ون نے نظام شمسی کے مرکز کی طرف اپنا رخ کیا اور ایک تاریخی تصویر کھینچی جس میں سورج کی روشنی میں یہ مدھم نیلا نقطہ معلق تھا جس پر اس وقت تقریباً 5 ارب انسان اپنی روز مرہ زندگی میں مشغول تھے۔

چونکہ آج تک کوئی انسان اتنی دور نہ گیا اور نہ ہی مستقبل قریب میں جاسکے گا تو اس مقام سے تمام انسانیت کو چھوٹے سے نقطے میں قید دیکھنا ہم انسانوں کو اس کائنات میں اپنی وقعت کا احساس دلاتا ہے، آج وائجر ون کو اس تصویر کو کھینچے 30 سال ہوگئے اور یہ خلائی گاڑی اب 'انٹرسٹیلر اسپیس' یعنی ستاروں کے بیچ کی خلا میں موجود ہے۔

13 فروری 2020 سے لے کر 20 فروری 2020 تک دنیا میں جگہ جگہ اس نقطے کی 30 ویں سالگرہ پر فلکیاتی تقریبات منعقد ہورہی ہیں جن میں لوگوں کو فلکیات کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ دوربینوں سے آسمان کا مشاہدہ بھی کروایا جائے گا۔

مزید پڑھیں: بلیک ہول کی پہلی تصویر کی اتنی اہمیت کیوں ہے؟

اس تصویر میں سورج کی تیز روشنی میں چھپے اس مدھم نیلے نقطے کے پیچھے چھپی پوری داستان کارل سیگان نے1994 میں شائع ہونے والی اپنی کتاب میں بیان کی جس کا عنوان "مدھم نیلا نقطہ: خلا میں انسانی مستقبل کا نظارہ" تھا، اس کتاب میں انہوں نے نہایت خوبصورتی سے انسانیت اور انسانی سوچ کا نقشہ کھینچا ہے کہ پڑھنے والا حیران رہ جاتا ہے۔

نظام شمسی کے کنارے سے زمین کی جو تصویر وائجر ون خلائی گاڑی نے بھیجی. اس میں زمین کا حجم ایک پکسل (تصویر کا اکائی) سے بھی کم تھا اور اگر ہم اس تصویر پر غور کرنا شروع کریں تو سوچ کا پورا سمندر امڈ آئے گا کیونکہ یہ نقطہ وہی جگہ ہے جہاں ہر وہ شخص گزرا ہے جسے آپ نے تاریخ میں پڑھا یا آپ حقیقت میں ملے۔

اتنی وسیع و عریض کائنات میں ہمارا سیارہ کاغذ پر پین سے بنائے گئے نقطے سے بھی چھوٹا ہے—فوٹو: ناسا
اتنی وسیع و عریض کائنات میں ہمارا سیارہ کاغذ پر پین سے بنائے گئے نقطے سے بھی چھوٹا ہے—فوٹو: ناسا

اسی نقطے میں ہی بہت سے بادشاہوں نے اپنے غلاموں پر ظلم کی انتہا کی، یہیں بہت سے محبت کرنے والوں کو سنگسار کردیا گیا اور اسی نقطے کے چھوٹے سے حصے کے لیے بہت سے قبائل نے ایک دوسرے کی خون ریزی کی اور یہیں بہت سے مذاھب وجود میں آئے اور ادھر ہی حکومتیں بنی بھی اور کرپشن بھی ہوئی، مختصراً یہ کہ ہم انسان اس زمین پر تقریباً 2 لاکھ سال سے موجود ہیں لیکن ابھی تک ترقی کی اس منزل تک ہی پہنچے ہیں جہاں ساڑھے 7 ارب لوگوں میں سے صرف 12 لوگ ہی چاند سے ہو کر آئے ہیں۔

یہ سب پڑھنے کے بعد انسان یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ اس کائنات میں تو دور اس دنیا میں ہماری حیثیت کس قدر کم ہے لیکن اس کے باوجود ہم میں سے بہت سے لوگ 'خدا' بنے پھرتے ہیں۔

یہ سچ ہے کہ ہم انسان اس کائنات میں انتہائی چھوٹے تو ہیں لیکن ہماری سوچ ہمیں ستاروں سے آگے لے جاسکتی ہے لہذا ہمیں چاہیے کہ دوسروں پر اپنا رعب دکھانے کی بجائے اپنی عقل کے گھوڑوں کو دوڑائیں اور اپنے معاشرے میں ایک مثبت سوچ پیدا کریں۔


سید منیب علی نیشنل سائنس ایوارڈ یافتہ سائنس رائیٹر ہیں اور ان کی کتاب "کائنات – ایک راز" اردو سائنس بورڈ نے شائع کردی ہے۔ آپ اسٹروبائیولوجی نیٹ ورک آف پاکستان کے جنرل سیکرٹری ہیں۔ انہیں علم فلکیات کا بہت شوق ہے اور اس کے موضوعات پر لکھنا ان کا من پسند مشغلہ ہے۔ان سے [email protected] پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔انہیں ٹوئٹر پر فالو کریں @muneeb227][18


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دیئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔