• KHI: Partly Cloudy 28.3°C
  • LHR: Partly Cloudy 26.8°C
  • ISB: Partly Cloudy 23.4°C
  • KHI: Partly Cloudy 28.3°C
  • LHR: Partly Cloudy 26.8°C
  • ISB: Partly Cloudy 23.4°C

اسمگل شدہ سامان اور توانائی کی بلند لاگت سے معیشت مفلوج، حریفوں سے مسابقت متاثر

شائع August 10, 2025
شرح سود میں کمی کے باوجود کچھ برآمد کنندگان مایوس ہیں۔
— فائل فوٹو: اے ایف پی
شرح سود میں کمی کے باوجود کچھ برآمد کنندگان مایوس ہیں۔ — فائل فوٹو: اے ایف پی

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی حالیہ پالیسی ریٹ میں کمی، جو جولائی 2024 کے مقابلے میں تقریباً آدھی ہو کر 11 فیصد پر آ گئی ہے، ملک کے تاجروں اور صنعت کاروں میں جوش پیدا کرنے میں ناکام رہی ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اگرچہ شرح سود میں اس کمی کو کاروبار کرنے کی لاگت کم کرنے کی طرف ایک قدم سمجھا جا رہا ہے، لیکن شعبے کے بہت سے افراد کا کہنا ہے کہ یہ شرح خطے کی دیگر ممالک کے مقابلے میں اب بھی غیر مسابقتی ہے اور معیشت کی ترقی میں رکاوٹ بننے والے بنیادی مسائل کو حل نہیں کرتی۔

صنعتی برادری پیداواری لاگت میں اضافے، ایران، چین اور بنگلہ دیش جیسے ممالک سے اسمگل شدہ سامان کی بڑھتی ہوئی آمد کو پاکستانی مصنوعات کی مسابقت کو گھریلو اور بین الاقوامی منڈیوں میں نقصان پہنچانے والے عوامل قرار دیتے ہیں۔

ایک کرنسی ڈیلر نے کہا کہ مارکیٹ اسمگل شدہ سامان سے بھری پڑی ہے، اعلیٰ معیار کے جوتے، کپڑے سے لے کر خوراک تک سب کچھ، کراچی میں نئے شاپنگ سینٹرز اسمگل شدہ درآمدات سے بھرے ہوئے ہیں، اور دکاندار اپنے اسمگل شدہ اسٹاک کا کھلے عام اشتہار دیتے ہیں۔

انہوں نے انسدادِ اسمگلنگ اقدامات کی ناکامی کا سبب وہ غیر ملکی زرمبادلہ بتایا جو ان غیر قانونی درآمدات کی مالی معاونت کرتا ہے، جس کی وجہ سے حکام کے لیے مؤثر کارروائی کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

شرح سود میں نمایاں کمی کے باوجود صنعت پالیسی مسائل کے حل نہ ہونے پر بدستور شکوک و شبہات کا شکار ہے، جو معاشی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔

اسٹیٹ بینک کے اعدادوشمار ایک تشویش ناک رجحان کی عکاسی کرتے ہیں، نجی شعبے کی جانب سے قرض لینے میں سستی ہے، اور بینکوں کو نئے قرضوں کے مقابلے میں زیادہ قرضوں کی ادائیگیاں موصول ہو رہی ہیں۔

قرض نہ لینے کا رجحان اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ کاروبار ایسے ماحول میں سرمایہ کاری سے گریزاں ہیں، جہاں کاروبار کرنے کی لاگت اب بھی حد سے زیادہ ہے۔

کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر جاوید بلوانی نے سوال کیا کہ ہم بینکوں سے قرض کیسے لیں جب یہاں کاروبار کرنے کی لاگت اب بھی پڑوسی ممالک سے کہیں زیادہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، ٹیکسز تجارت اور صنعت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر رہے ہیں، اور پالیسی ساز معیشت کو بحال کرنے کے بجائے زیادہ ریونیو اکٹھا کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔

جاوید بلوانی نے اس بات پر شک کا اظہار کیا کہ پاکستان اس سال 3.5 فیصد کی معاشی ترقی بھی حاصل کر پائے گا، انہوں نے پیشگوئی کی کہ پیداواری لاگت میں اضافے اور فعال ایکسپورٹ فنانسنگ اسکیم کی عدم موجودگی کے باعث برآمدات مزید کم ہوں گی۔

انہوں نے امریکی حکومت کی جانب سے پاکستانی مصنوعات پر 19 فیصد ٹیرف عائد کرنے پر بھی تنقید کی، جس کے بارے میں ان کا ماننا ہے کہ یہ پاکستان کو عالمی منڈی سے مزید باہر کر دے گا، ہمارے خطے کے حریف (سوائے بھارت کے، جس پر 50 فیصد ٹیرف ہے) بہتر پوزیشن میں ہیں۔

صنعتی شعبے نے اس بات پر بھی مایوسی کا اظہار کیا کہ حکومت نے کیپٹیو پاور پلانٹس کو گیس فراہم کرنے میں ناکامی کا مظاہرہ کیا، جو مینوفیکچررز کے لیے توانائی کی بلند لاگت کو کم کر سکتا تھا، اس کے بجائے، 2 فیصد لیوی عائد کر دی گئی ہے۔

پاکستان بجلی پیدا کرنے کے لیے مہنگے درآمدی ری گیسیفائیڈ لیکویفائیڈ نیچرل گیس (آر ایل این جی) پر انحصار جاری رکھے ہوئے ہے، جب کہ مقامی گیس وسائل غیر استعمال شدہ پڑے ہیں، توانائی کے ادارے نے بجلی کی کھپت میں کمی کی اطلاع دی ہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ صنعت نے اب تک کوئی خاطر خواہ بحالی کا تجربہ نہیں کیا ہے۔

ایک اور صنعتکار نے کہا کہ کھپت میں کمی اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ صنعتی شعبہ بہتر نہیں ہو رہا، مالی سال 26 میں ترقی کے امکانات مزید مایوس کن نظر آ رہے ہیں، انہوں نے اس بات کو بھی اجاگر کیا کہ مکانات میں سورج کی روشنی سے بجلی پیدا کرنے کے رجحان میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، کیوں کہ گھریلو صارفین مہنگی بجلی اور بار بار اوور بلنگ کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے متبادل ذرائع کی طرف رجوع کر رہے ہیں۔

سابق وزیر خزانہ مفتاح اسمعٰیل نے حال ہی میں بتایا تھا کہ پاکستان میں شمسی توانائی کی پیداوار 23 ہزار میگاواٹ تک پہنچ چکی ہے، اور یہ شعبہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے کیوں کہ مزید لوگ سستی اور زیادہ قابل بھروسہ توانائی کے ذرائع کو اپنا رہے ہیں۔

شرح سود میں کمی کے باوجود کچھ برآمد کنندگان مایوس ہیں۔

تیار شدہ ٹیکسٹائل مصنوعات کے برآمد کنندہ عامر عزیز نے کہا کہ اگرچہ 11 فیصد کی شرح گزشتہ سال کے مقابلے میں آدھی ہے، لیکن اس نے کاروباری سرگرمیوں کو فروغ نہیں دیا۔

انہوں نے کہا کہ تجارت اور صنعت، ایف بی آر کو تاجروں کو گرفتار کرنے کے وسیع تر اختیارات، ضرورت سے زیادہ ٹیکس، اوور بلنگ اور سیاسی غیر یقینی صورتحال جیسے مسائل میں جکڑی ہوئی ہے۔

کارٹون

کارٹون : 26 مارچ 2026
کارٹون : 25 مارچ 2026