• KHI: Partly Cloudy 28.3°C
  • LHR: Partly Cloudy 26.8°C
  • ISB: Partly Cloudy 23.4°C
  • KHI: Partly Cloudy 28.3°C
  • LHR: Partly Cloudy 26.8°C
  • ISB: Partly Cloudy 23.4°C

25 اگست کے بعد وہی ڈمپر چلے گا، جس میں ٹریکر اور کیمرے لگے ہوں گے، شرجیل میمن

شائع August 11, 2025
شرجیل میمن نے ایم کیو ایم کا نام لیے بغیر تنقید کی، اپوزیشن نے تقریر کے دوران شور شرابہ کیا — فوٹو: اسکرین گریب/ایس آئی ڈی
شرجیل میمن نے ایم کیو ایم کا نام لیے بغیر تنقید کی، اپوزیشن نے تقریر کے دوران شور شرابہ کیا — فوٹو: اسکرین گریب/ایس آئی ڈی

سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے خبردار کیا ہے کہ 25 اگست کے بعد صرف وہی ڈمپر سڑک پر چلتا نظر آئے گا جس میں ٹریکر اور کیمرے لگے ہوں گے۔

سندھ اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شرجیل میمن نے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کا نام لیے بغیر تنقید کی اور کہا کہ حکومت اپنا کام کررہی ہے، کوئی بدمعاشی کرے گا تو اسے اسی طرح جواب بھی دیا جائے گا، اس بیان پر اپوزیشن جماعت کے ارکان نے شور شرابہ کیا اور نعرے لگائے۔

شرجیل میمن نے کہا کہ گزشتہ روز راشد منہاس روڈ پر ہونے والا ٹریفک حادثہ افسوسناک ہے، پولیس نے ڈمپر ڈرائیور کو گرفتار کرلیا تھا، کچھ دہشت گرد سوچ کے لوگ سڑکوں پر آکر 7 ڈمپرز کو آگ لگا دیتے ہیں، کیا ان کو گرفتار نہیں کرنا چاہیے؟ ان پر دہشت گردی کی دفعات لگائیں گے، ہم کسی سے نہیں ڈریں گے۔

سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ ہم اس شہر میں دہشت گردی نہیں کرنے دیں گے، چاہے کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے، جن کے پیارے اس افسوسناک حادثات میں چلے گئے کیا وہ ڈمپر جلا رہے ہیں؟ بدمعاشوں کے ساتھ بدمعاشوں کی طرح نمٹیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ڈمپر مالکان نے سڑکیں بند کیں تو ان سے بات کی اور سڑکیں کھلوائیں، ہم نے انہیں بھی پابند کیا کہ 25 تاریخ کے بعد سڑکوں پر وہی ڈمپر آئیں گے جن میں ٹریکر لگے ہوں گے۔

شرجیل میمن نے کہا کہ ایک ڈرائیور کو اتنا مارا گیا ہے کہ وہ کومہ میں چلا گیا ہے، جان بوجھ کر اس شہر میں فساد پھیلایا جا رہا ہے، ایم کیو ایم نے آج بھی اس معاملے پر سیاست کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں سب سے زیادہ اقلیتی بہنیں ہیں، اقلیتوں کے حقوق پر قرارداد کو متنازع بنانے کی کوشش کی گئی ہے، ایم کیو ایم کے ارکان نفرت پھیلا رہے ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ نے اسمبلی میں قومی پرچم لہرا دیا

قبل ازیں وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاھ نے سندھ اسمبلی قومی پرچم لہرایا، سندھ اسمبلی کا اجلاس اسپیکر اویس قادر شاہ کی زیر صدارت اولڈ سندھ اسمبلی بلڈنگ میں ہوا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ یہ تاریخی ہال ہے، جہاں 1943 کو سندھ اسمبلی نے قیام پاکستان کے حق میں قراداد منظور کی تھی، قائد اعظم نے اسی نشست پر 1947 کو خطاب کیا تھا، ہمارے بزرگوں نے اس ہال میں بیٹھ کر پاکستان بنانے میں کردار ادا کیا تھا۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ قائد اعظم نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ آپ اپنے مذہب کے معاملے میں آزاد ہیں، ہماری آزادی سے 3 دن پہلے اقلیتوں کا دن منانے کا مطلب یہ ہے کہ ہر شہری کو مذہب اور تحفظ کی ضمانت ہو۔

انہوں نے کہا کہ اسی ہال میں 16 جون 1947 کو ایک قرارداد منظور ہوئی تھی، ایک مراسلہ لکھا گیا تھا صوبے کے گورنر کو، غلام حسین ہدایت اللہ نے ایوان میں قراداد پیش کی تھی جو بعد میں ایوان نے منظور کی تھی۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ پہلا صوبہ تھا جس نے اپنی حیثیت ختم کرکے پاکستان میں شمولیت اختیار کی، سندھ نے اپنی حیثیت ختم کرکے پاکستان کو ووٹ دیا تھا، ہم نے پاکستان بنانے میں پہل کی تھی اس صوبے کے نمائندے پاکستان کی بقا کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ قائد اعظم نے کہا تھا کہ وہ خود کو ہندو اقلیت کا محافظ سمجھتے ہیں، شہید چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو نے اپنا کردار ادا کیا تھا، شہید بے نظیر بھٹو نے کہا تھا کہ ہر آمر مذہب کا سہارا لیتا ہے، ہم ہمیشہ مساوات کے لیے کھڑے رہیں گے۔

کارٹون

کارٹون : 26 مارچ 2026
کارٹون : 25 مارچ 2026