نیوزی لینڈ کے سابق رگبی پلیئر شین کرسٹی انتقال کرگئے
نیوزی لینڈ کے دماغی امراض کا شکار سابق رگبی پلیئر شین کرسٹی 39 سال کی عمر میں انتقال کرگئے، مقامی میڈیا نے ان کی موت کو خودکشی قرار دیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق نیوزی لینڈ کے سابق رگبی کے کھلاڑی، جو متعدد دماغی چوٹوں کے اثرات جھیل چکے تھے اور موت کے بعد اپنا دماغ تحقیق کے لیے عطیہ کرنا چاہتے تھے، بدھ کے روز 39 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔
شین کرسٹی، جو سابق ماؤری آل بلیکز کے کھلاڑی تھے، رگبی میں بار بار سر پر لگنے والے جھٹکوں کے اثرات کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کی مہم چلا رہے تھے۔
اطلاعات کے مطابق 2017 میں کھیل سے ریٹائر ہونے کے بعد، کرسٹی سر درد، یادداشت کی کمی، بولنے میں مشکلات، ڈپریشن اور موڈ میں شدید تبدیلیوں کا شکار تھے، جو کہ کرونک ٹرامیٹک اینسیفالوپیتھی (سی ٹی ای) کی علامات کے مطابق تھیں۔
مقامی میڈیا کے مطابق کرسٹی کی موت ممکنہ طور پر خودکشی ہے۔
نیوزی لینڈ رگبی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ شین کرسٹی کھیل کے بارے میں انتہائی پرجوش تھے اور وہ ’ ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔’
اطلاعات کے مطابق شین کرسٹی چاہتے تھے کہ ان کا دماغ نیوزی لینڈ اسپورٹس ہیومن برین بینک کو عطیہ کیا جائے تاکہ سی ٹی ای پر تحقیق کی جا سکے، یہ ایک ایسی بیماری ہے جو بار بار دماغی چوٹ لگنے سے ہوتی ہے اور جس کی شناخت زندہ افراد میں ممکن نہیں۔
امریکی فٹبال (این ایف ایل) کے سیکڑوں کھلاڑی اس بیماری سے متاثر ہوئے ہیں، جس کا تعلق رویے سے جڑے مسائل بشمول ڈپریشن، سے ہے۔
سی ٹی ای کا تعلق کئی پرتشدد اموات سے بھی جوڑا گیا ہے، جن میں سابق این ایف ایل کھلاڑی بھی شامل تھے۔
بوسٹن یونیورسٹی سی ٹی ای سینٹر کی 2023 کی ایک تحقیق میں کہا گیا تھا کہ سابق این ایف ایل کھلاڑیوں کے 376 دماغوں میں سے 345 میں سی ٹی ای پایا گیا۔












لائیو ٹی وی