صوفی ٹرنر کا کئی سال بعد ’گیم آف تھرونز‘ کے جنسی مناظر کا دفاع
ماضی کی شہرہ آفاق امریکی ٹی وی سیریز ’گیم آف تھرونز‘ کی اداکارہ صوفی ٹرنر نے مذکورہ سیریز میں اپنے کردار پر فلمائے گئے جنسی مناظر کا کئی سال بعد دفاع کرتے ہوئے انہیں ڈرامے کی ضرورت قرار دے دیا۔
’پیپلز میگزین‘ کے مطابق 29 سالہ اداکارہ نے حال ہی میں فلانٹ میگزین سے گفتگو میں ’گیم آف تھرونز‘ کے مناظر پر اپنے خیالات شیئر کیے۔
صوفی ٹرنر سیریز کی تمام قسطوں میں ’سانسا اسٹارک‘ کا کردار ادا کیا تھا جو کہ بچپن سے جوانی کی طرف آتی ہیں۔
اداکارہ نے تازہ انٹرویو میں بتایا کہ عمر بڑھنے کے ساتھ ان کی ’گیم آف تھرونز‘ کی کہانی کے بارے میں سمجھ بھی گہری ہوتی گئی، انہوں نے 12 سال میں سیریز میں کام کرنے کے لیے آڈیشن دیا اور 23 سال کی عمر تک اس میں کام کرتی رہیں۔
انہوں نے مذکورہ سیریز کے دوسرے میں اپنے کردار کے ساتھ ہونے والی ریپ کی کوشش کے منظر کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت وہ اسے مکمل طور پر سمجھ نہیں سکی تھیں کیونکہ وہ کافی کم عمر تھیں۔
انہوں نے کہا کہ دوسرے سیزن کے وقت وہ ’ریپ‘ کے منظر کو اپنے چھوٹے سے دماغ کے ذریعے سمجھنے کی کوشش کر رہی تھیں۔
انہوں نے اسی سیریز کے پانچویں سیزن کی ایک قسط میں اپنے کردار کے ساتھ شوہر کی پرتشدد جنسی مناظر پر بھی بات کی اور کہا کہ اس وقت تک ان کی عمر اتنی بڑھ چکی تھی کہ وہ کہانی کو بہتر انداز میں سمجھ رہی تھیں۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ ان کے کردار کے ساتھ جنسی تشدد کے مناظر بحث کو جنم دیا، جہاں لوگوں نے کہانی اور سیریز کی مخالفت کی، وہیں مداحوں نے کہانی کی تعریفیں بھی کیں۔
’گیم آف تھرونز‘ کے پانچویں سیزن کی ایک قسط میں صوفی ٹرنر کے کردار کی شادی ہوجاتی ہے اور شوہر انہیں جنسی تشدد کا نشانہ بناتے ہیں اور اس وقت مذکورہ مناظر پر کافی ہنگامہ بھی ہوا تھا۔
اداکارہ نے اپنے کردار کے ساتھ جنسی تشدد کے مناظر کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں ایسے مناظر دکھانا مشکل ہوسکتا ہے لیکن گیم آف تھرونز نے ان مظالم کو درست انداز میں اجاگر کیا جو خواتین صدیوں سے برداشت کرتی آ رہی ہیں۔
صوفی ٹرنر کے مطابق پدر شاہی نظام میں خواتین کے ساتھ اشیا کی طرح سلوک کیا جاتا ہے اور انہیں جنسی ذیادتی کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے اور یہ کہ ان کے خیال میں ایسی کوئی خاتون نہیں جو اس کا سامنا نہ کر چکی ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر آج گیم آف تھرونز ریلیز ہوتی تو اس میں ’ٹرگر وارننگز‘ شامل کی جاتیں لیکن وہ اس سیریز کا حصہ بننے پر فخر محسوس کرتی ہیں، جس نے ان مسائل پر کھل کر بات کی۔
حالیہ بیان سے قبل صوفی ٹرنر نے جولائی 2025 میں ایک پوڈکاسٹ پر بات کرتے ہوئے مزاحیہ انداز میں کہا تھا کہ انہیں گیم آف تھرونز کی فلم بندی کے دوران اپنی نوعمری میں ’ضرورت سے زیادہ‘ جنسی تعلیم ملی۔
انہوں نے بتایا تھا کہ انہوں نے 12 سال کی عمر میں گیم آف تھرونز کے لیے آڈیشن دیا اور 23 سال کی عمر میں اس کی تکمیل تک اس میں کام کرتی رہیں۔
انہوں نے سیریز کے عریاں مناظر کو پاگل پن قرار دیتے ہوئے کہا تھاکہ انہوں نے مذکورہ سیریز سے ضرورت سے زیادہ اپنی جنسی تعلیم مکمل کی، انہوں نے بہت کچھ سیکھا۔
خیال رہے کہ ’گیم آف تھرونز‘ امریکی ٹی وی چینل ایچ بی او کی ڈراما سیریز تھی، جس کے 8 سیزن نشر کیے گئے۔
’گیم آف تھرونز‘ کا آغاز 2011 میں ہوا اور 2019 کے اختتام پر اس کا آٹھواں اور آخری سیزن ریلیز کیا گیا۔
اس کی کہانی جارج آر ویل کے فنٹیسی ناول ’اے سانگ آف آئس اینڈ فائر‘ سے لی گئی ہے، اس ڈرامے کو ایچ بی او کے لیے ڈیوڈ بینیوف اور ڈی بی ویزز نے بنایا۔












لائیو ٹی وی