ارکان سندھ اسمبلی کی تنخواہ بڑھا کر ساڑھے چار لاکھ روپے کرنے کی منظوری
ارکان سندھ اسمبلی کی تنخواہ ساڑھے چار لاکھ روپے مقرر کرنے کی منظوری دے دی گئی۔
ڈان نیوز کے مطابق اسپیکر اویس قادر شاہ کی زیر صدارت سندھ اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس ہوا۔
اجلاس میں میں پیپلز پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم)، جماعت اسلامی اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے حامی اراکین شریک ہوئے۔
کمیٹی نے ارکین صوبائی اسمبلی ایز کی تنخواہیں بڑھانے کی منظوری دی، جبکہ جماعت اسلامی کے محمد فاروق نے تنخواہیں بڑھانے کی مخالفت کی۔
واضح رہے کہ 9 اگست کو سندھ اسمبلی نے اراکین اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافہ کیے جانے کا بل متفقہ طور پرمنظور کرلیا تھا۔
وزیرقانون ضیاء الحسن لنجار نے اراکین اسملی کی تنخواہوں اور مراعات کے اضافے کی اجازت سے متعلق بل ایوان میں پیش کیا تھا، تمام ممبران نےڈیسک بجاکر بل کی حمایت کی اور ایوان نے بل کی متفقہ طور پر منظوری دے دی تھی۔
اس بات کا فیصلہ کیا گیا تھا کہ اراکین سندھ اسمبلی کی تنخواہوں اور مراعات میں کتنا اضافہ کیا جائے گا، یہ اسپیشل کمیٹی طے کرے گی۔
یاد رہے کہ 16 دسمبر 2024 کو پنجاب اسمبلی میں عوامی نمائندگان کی تنخواہوں پر نظر ثانی بل 2024 منظوری کیے جانے کے بعد ایم پی اے کی تنخواہ 76 ہزار سے 4 لاکھ روپے اور وزیر کی تنخواہ ایک لاکھ سے بڑھا کر 9 لاکھ 60 ہزار ہوگئی تھی۔
پنجاب اسمبلی میں ایک ایم پی اے کی تنخواہ 76 ہزار روپے سے بڑھاکر 4 لاکھ روپے کردی گئی تھی، صوبائی وزیر کی تنخواہ ایک لاکھ سے بڑھا کر 9 لاکھ ساٹھ 60 روپے اور اسپیکر کی تنخواہ ایک لاکھ 25 ہزار سے 9 لاکھ 50 ہزارروپے کردی گئی تھی۔
ڈپٹی اسپیکرکی تنخواہ ایک لاکھ 20 ہزار روپے سے بڑھا کر 7 لاکھ 75 ہزار روپے کردی گئی تھی، جبکہ پارلیمانی سیکریٹری کی تنخواہ 83 ہزار روپےسے بڑھا کر 4 لاکھ 51 ہزار اور وزیر اعلیٰ کے مشیر کی تنخواہ ایک لاکھ روپے سے بڑھا کر 6 لاکھ 65 ہزار روپے کردی گئی تھی۔
اسی طرح یکم فروری کو ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے تنقید کو مسترد کرتے ہوئے ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں بڑے اضافے کی منظوری دے دی تھی۔
اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی سربراہی میں قائم کمیٹی نے ہر رکن قومی اسمبلی اور سینیٹر کی ماہانہ تنخواہ میں 5 لاکھ 19 ہزار روپے اضافے کی منظوری دی تھی۔












لائیو ٹی وی