سندھ ہائیکورٹ نے بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبے کی تکمیل کا ٹائم فریم طلب کرلیا
سندھ ہائی کورٹ (ایس ایچ سی) نے بدھ کو صوبائی حکام اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبے کی تکمیل کے لیے ٹائم فریم طلب کر لیا۔
ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق جسٹس محمد اقبال کلہوڑو اور جسٹس محمد عبدالرحمٰن پر مشتمل 2 رکنی بینچ ایک درخواست پر سماعت کر رہا تھا، جس میں اس اہم ٹرانسپورٹ منصوبے کی تکمیل میں غیر معمولی تاخیر کو چیلنج کیا گیا ہے۔
عدالت نے سیکریٹری ٹرانسپورٹ، سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی اور ٹرانس کراچی (منصوبے کے نفاذ کی ایجنسی) کو ہدایت دی کہ وہ منصوبے سے واقف افسران کو اگلی سماعت پر عدالت میں پیش کریں، مزید یہ کہ ان سے کہا گیا ہے کہ 9 ستمبر کو منصوبے کی تکمیل کے لیے درکار مدت کے بارے میں اپنی رپورٹس بھی جمع کرائیں، ساتھ ہی سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل کو بھی نوٹس جاری کیا گیا۔
درخواست گزار آصف اقبال کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ منصوبے کی تعمیر، خصوصاً یونیورسٹی روڈ پر، میں تاخیر کی ذمہ داری تمام متعلقہ اداروں پر یکساں عائد ہوتی ہے، جس کے باعث عوامی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔
وکیل نے کہا کہ درخواست گزار علاقے کا رہائشی ہے اور پچھلے 8 برسوں سے متعلقہ اداروں کی غفلت کے باعث اذیت برداشت کر رہا ہے۔
آصف اقبال کی جانب سے دائر درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ یہ منصوبہ 2017 میں کراچی بریز نیٹ ورک کے حصے کے طور پر متعارف کرایا گیا تھا، یہ شہر کے شدید ٹرانسپورٹ بحران کا حل قرار دیا گیا اور اسے تقریباً 27 کلومیٹر پر محیط بنایا گیا تھا، جو ملیر ہالٹ سے نمائش تک یونیورسٹی روڈ کے راستے تک پھیلتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ منصوبے کی ابتدائی لاگت تقریباً 79 ارب روپے رکھی گئی تھی، لیکن بار بار تاخیر اور بدانتظامی کے باعث اس کی لاگت بڑھ کر اب 103 ارب روپے تک جا پہنچی ہے۔
درخواست گزار نے مزید کہا کہ منصوبے پر کام کا آغاز 2022 کے اوائل میں ہوا اور اس کی تکمیل 2023 تک متوقع تھی، جو بعد میں 2024 تک مؤخر ہوئی اور اب اسے بڑھا کر 2026 کے آخر تک کر دیا گیا ہے۔
تاہم، ان کے مطابق یہ نئی تاریخ بھی غیر حقیقی ہے کیونکہ منصوبہ نہایت سست رفتاری سے آگے بڑھ رہا ہے، حکام نے ٹھیکیداروں سے تنازعات، حفاظتی وجوہات کی بنا پر رکاوٹیں، روپے کی قدر میں کمی کے باعث تعمیراتی اخراجات میں اضافہ، زمین کے حصول میں مشکلات، یوٹیلیٹیز کی منتقلی اور اداروں کے درمیان رابطے کی کمی کو تاخیر کی وجہ قرار دیا۔
درخواست گزار نے کہا کہ فیز وائز کام نہ کرنے اور عوام کو متبادل سہولتیں فراہم نہ کرنے کے باعث علاقے کے رہائشیوں کو مرکزی اور ملحقہ شاہراہوں پر شدید ٹریفک جام برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔
انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ منصوبے کی جلد تکمیل کے احکامات دیے جائیں اور قرار دیا جائے کہ متعلقہ اداروں کی مسلسل بے عملی ان کے قانونی فرائض کی عدم ادائیگی ہے۔












لائیو ٹی وی