ایران کا یورپ کی جانب سے ’بلا جواز و غیر قانونی‘ پابندیوں کے دوبارہ نفاذ پر ردِعمل کا اعلان

شائع August 29, 2025
— فائل فوٹو: ڈان
— فائل فوٹو: ڈان

ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران، فرانس، برطانیہ اور جرمنی کی جانب سے 2015 کے معطل ایٹمی معاہدے کے تحت اقوامِ متحدہ کی پابندیوں کو دوبارہ نافذ کرنے کے فیصلے پر مناسب ردِعمل دے گا۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں ’رائٹرز اور اے ایف پی‘ کے مطابق عباس عراقچی نے فرانسیسی، برطانوی اور جرمن ہم منصبوں سے فون پر گفتگو میں کہا کہ ’اسلامی جمہوریہ ایران ان تین یورپی ممالک کے اس غیر قانونی اور بلاجواز اقدام پر مناسب ردِعمل دے گا تاکہ اپنے قومی حقوق اور مفادات کا دفاع اور انہیں یقینی بنایا جا سکے۔‘

انہوں نے مطالبہ کیا کہ یہ تینوں ممالک آنے والے دنوں میں اس ’غلط فیصلے کی مناسب اصلاح‘ کریں۔

اگرچہ عباس عراقچی نے یہ واضح نہیں کیا کہ ایران کس قسم کے جوابی اقدامات کرے گا، تاہم تہران پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ ایسا قدم یورپی طاقتوں کو ایران کے ایٹمی پروگرام پر مستقبل کے کسی بھی مذاکرات سے باہر کر سکتا ہے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’ان تین یورپی ممالک کا یہ فیصلہ ایران اور انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے درمیان جاری تعاون اور تعلقات کے عمل کو سنگین طور پر نقصان پہنچائے گا، اور اسے ’اشتعال انگیز اور غیر ضروری اضافہ‘ قرار دیا۔

یورپی ممالک کا یہ اقدام، جنہیں اجتماعی طور پر ای 3 کہا جاتا ہے، جنیوا میں ایران اور یورپی سفارتکاروں کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے صرف چند دن بعد سامنے آیا، اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد 12 روزہ جنگ کے بعد یہ مذاکرات کا دوسرا دور تھا۔

ای 3 نے حالیہ ہفتوں میں خبردار کیا تھا کہ ایران کی 2015 کے معاہدے کے تحت وعدوں کی مسلسل خلاف ورزی کے باعث وہ پابندیوں کی بحالی کے لیے ’اسنیپ بیک‘ میکنزم استعمال کریں گے، تینوں ممالک نے 30 روزہ عمل شروع کیا ہے تاکہ دوبارہ پابندیاں نافذ کی جا سکیں، بصورتِ دیگر انہیں اکتوبر کے وسط تک یہ اختیار کھونے کا خدشہ تھا۔

فرانسیسی وزیرِ خارجہ ژاں نوئل بارو نے کہا کہ اس فیصلے کا مطلب سفارتکاری کا خاتمہ نہیں ہے، جبکہ ان کے جرمن ہم منصب یُوہان واڈےفل نے ایران پر زور دیا کہ وہ اقوامِ متحدہ کے ایٹمی نگران ادارے سے مکمل تعاون کرے اور اگلے مہینے امریکہ کے ساتھ براہِ راست مذاکرات پر متفق ہو۔

کارٹون

کارٹون : 6 فروری 2026
کارٹون : 5 فروری 2026