سینیٹ کمیٹی کی نئی لاجز کی تعمیر میں تاخیر پر کڑی تنقید
سینیٹ کی پارلیمانی کمیٹی نے نئی لاجز کی تعمیر میں تاخیر پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تاخیر سے نہ صرف لاگت میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے بلکہ عوامی خزانے پر غیر ضروری مالی بوجھ بھی ڈال دیا ہے۔
ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق سینیٹ ہاؤس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس سینیٹر ناصر محمود کی زیر صدارت جمعہ کو منعقد ہوا۔
سینیٹر دنیش کمار، ہدایت اللہ خان اور پونجو بھیل نے اجلاس میں شرکت کی، شرکا نے زور دیا کہ نئی لاجز کی تعمیر میں مزید تاخیر کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
کمیٹی نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ منصوبہ 2009 میں ہی پارلیمنٹیرینز کی بڑھتی ہوئی رہائشی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے منظور کیا گیا تھا، لیکن یہ مسلسل تاخیر کا شکار رہا۔
کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) حکام نے بتایا کہ فنڈز کی کمی اور سائٹ کے قریب سیاسی رکاوٹوں کے باعث کئی بار کام رکا، 2015 میں ٹھیکیدار نے لاگت میں بڑے اضافے کا مطالبہ کیا، جس کے نتیجے میں طویل عدالتی کارروائی ہوئی۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ 2025 میں نظرِ ثانی شدہ پی سی-ون 7 ارب 17 کروڑ روپے کی لاگت پر منظور ہوا اور کنٹریکٹ میاں عثمان عمر اینڈ کمپنی کو دیا گیا۔
کمیٹی نے کہا کہ طویل تاخیر کے باعث منصوبے کی لاگت کئی گنا بڑھ گئی ہے، 3.5 ارب روپے پہلے ہی دستیاب ہیں، لہٰذا مزید غفلت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
سینیٹر ناصر محمود نے سی ڈی اے کو فوراً کام شروع کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ منصوبے کی بروقت تکمیل انتہائی ضروری ہے تاکہ لاگت میں ایک اور اضافے اور عدالتی کارروائی سے بچا جا سکے۔
کمیٹی نے مزید ہدایت دی کہ وزارتِ داخلہ اور منصوبہ بندی سائٹ کا دورہ کریں اور پیش رفت رپورٹس جمع کرائیں تاکہ مستقل پیش رفت اور شفافیت و احتساب کو یقینی بنایا جاسکے جب کہ کمیٹی نے خود بھی سائٹ کا دورہ کرنے کا اعلان کیا۔
موجودہ لاجز کی مرمت کے معاملے پر کمیٹی نے عمارتوں کی خستہ حالت پر عدم اطمینان کا اظہار کیا حالانکہ بھاری اخراجات کے دعوے کیے گئے تھے۔
اراکین نے کہا کہ اس کا مکمل معائنہ کیا جائے گا اور سی ڈی اے کو ہدایت دی گئی کہ لاج وار تفصیلات فراہم کی جائیں جن میں مرمتی اخراجات، استعمال شدہ مواد اور زائد اخراجات کا جواز شامل ہو۔
کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ عوامی پیسے کے استعمال پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا اور چند لاجز پر غیر متناسب اخراجات برداشت نہیں کیے جائیں گے۔
کمیٹی نے چیئرمین سی ڈی اے کو ہدایت دی کہ باعزت افسران پر مشتمل ایک اندرونی کمیٹی تشکیل دی جائے جو پچھلے دو برسوں میں ہر لاج پر کام کے معیار اور اخراجات کی ابتدائی تحقیقات کرے۔
ذیلی کمیٹی کے کنوینر نے شفافیت پر زور دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ سی ڈی اے 21 دن کے اندر اندرونی انکوائری رپورٹ پیش کرے۔
کمیٹی نے پارلیمنٹ لاجز میں صفائی کے ناقص معیار کا بھی معاملہ اٹھایا۔ اراکین نے نوٹ کیا کہ صفائی کے لیے تعینات عملہ اپنی ذمہ داریاں مؤثر طریقے سے ادا نہیں کر رہا جس پر صفائی کے کنٹریکٹ، عملے کی تعیناتی اور متعلقہ اخراجات کی تفصیلات طلب کی گئیں۔
چیئرمین سی ڈی اے نے پی ڈبلیو ڈی کے ملازمین کے انضمام کے باعث ادارے پر اضافی مالی بوجھ کو اجاگر کیا جب کہ محکمہ بند کر دیا گیا تھا۔
کمیٹی نے وزارتِ خزانہ اور داخلہ کو ہدایت دی کہ اس معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں اور زور دیا کہ ادارہ جاتی خلا کارکردگی میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔












لائیو ٹی وی