روس کے یوکرین پر رات بھر حملے، اہم سرکاری عمارت متاثر، ماں اور بچے سمیت 5 افراد ہلاک
روس کی جانب سے یوکرین پر حملے میں اہم سرکاری عمارت کو پہلی بار نشانہ بنانے کے دوران ماں اور بچے سمیت کم از کم 5 افراد ہلاک جب کہ درجنوں زخمی ہوگئے۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق کیف کے میئر وٹالی کلیچکو کا کہنا ہے کہ حملوں میں 20 افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں ایک حاملہ خاتون بھی شامل ہے، 7 افراد کو ہسپتال منتقل کیا گیا، دیگر کو موقع پر ہی طبی امداد دی گئی۔
کلیچکو نے بتایا کہ شہر میں اب تک دو ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے، جن میں ایک خاتون اور اس کا دو ماہ کا بیٹا شامل ہیں، تلاش اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
یوکرین کی فضائیہ کا کہنا ہے کہ روس نے رات کے حملے میں 805 ڈرون اور 13 میزائل داغے، ان میں سے 751 کو مار گرایا گیا۔
کیف کی فوجی انتظامیہ کے سربراہ تیمور تکاچینکو نے شہریوں سے پناہ گاہوں میں رہنے کی اپیل کی اور خبردار کیا ہے کہ روس جان بوجھ کر شہری سہولیات کو نشانہ بنا رہا ہے۔
دوسری جانب کیف کے میئر ویتالئی کلیچکو نے وسطی پیچرِسکی ضلع میں ایک سرکاری عمارت میں آگ لگنے کی اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ یہ آگ غالباً روسی ڈرون مار گرائے جانے کے بعد لگی۔
یوکرین پر رات گئے ہونے والے یہ حملے اس وقت ہوئے ہیں، جب ولادیمیر پیوٹن نے مغرب کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس مشکل وقت میں یوکرین کی مدد نہ کرے۔
علاقائی انتظامیہ کے سربراہ ایوان فیدوروف نے بتایا کہ یوکرین کے دیگر علاقوں میں گزشتہ شام زاپوریزہیا شہر پر روسی حملے میں 17 افراد زخمی ہوئے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ 16 رہائشی بلاکس، 12 مکانات، ایک کنڈرگارٹن اور کارخانے کو نقصان پہنچا ہے۔
ایوان فیدوروف نے کہا کہ شہر سے باہر نووپاولیووکا گاؤں پر روسی گلائیڈ بم حملے میں ایک خاتون ہلاک ہو گئی جب کہ ایک شخص تاحال لاپتہ ہے، جس کی لاش ڈھونڈنے کی کوششیں جاری ہیں۔
صدر زیلنسکی کے آبائی شہر پر حملہ
مقامی انتظامیہ کے سربراہ اولیکساندر ولکول نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ یہ ایک سخت رات تھی، کیوں کہ ٹرانسپورٹ کا بنیادی ڈھانچہ، کاروبار، صنعتی تنصیب، تعلیمی ادارہ اور تقریباً ایک درجن رہائشی بلاکس کو نقصان پہنچا اور 3 افراد زخمی ہوئے۔
ولکول نے مزید کہا کہ کریوی رِہ کے جنوب مشرق میں واقع شہر نیکوپول میں، ایک شہری ہلاک اور دوسرا زخمی ہوا۔
پہلی بار سرکاری عمارت کو نقصان پہنچایا گیا
بی بی سی کے مطابق یوکرین کی وزیرِاعظم یولیا سْوریڈینکو نے باضابطہ طور پر تصدیق کی ہے کہ روس کے حملے میں کیف میں کابینہ کی عمارت کو نقصان پہنچا ہے، یہ پہلا موقع ہے کہ اس عمارت کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
فیس بک پر یوکرین کی وزیرِاعظم یولیا سویریڈینکو نے لکھا کہ پہلی بار سرکاری عمارت، اس کی چھت اور بالائی منزلیں دشمن کے حملے کے باعث متاثر ہوئی ہیں، ریسکیو اہلکار آگ بجھانے میں مصروف ہیں۔
کیف کے میئر ویتالِی کلیچکو نے کہا کہ سرکاری عمارت مبینہ ڈرون حملے کے نتیجے میں آگ کی لپیٹ میں آ گئی تھی۔
کلیچکو نے ’ٹیلی گرام‘ پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ یہ عمارت مرکزی پیچرسکی ضلع میں واقع تھی، فائر فائٹرز اب بھی موقع پر کام کر رہے ہیں۔
دارالحکومت کے دیگر حصوں میں ایک گودام، 16 منزلہ رہائشی عمارت اور ایک 4 منزلہ عمارت کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
صدر پیوٹن کی مغرب کو وارننگ
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ان مغربی تجاویز کو مسترد کر دیا، جن میں جنگ بندی طے پانے کی صورت میں یوکرین میں ایک ’اشیورنس فورس‘ تعینات کرنے کی بات کی گئی تھی۔
یہ پیش رفت فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کی سربراہی میں پیرس میں ہونے والی ایک سربراہی کانفرنس کے بعد سامنے آئی تھی، جس میں نام نہاد ’اتحادی ممالک‘ شامل تھے اور مقصد سیکیورٹی ضمانتوں کے منصوبوں کو حتمی شکل دینا تھا۔
ایمانوئل میکرون نے زور دیا کہ کسی بھی فوج کو تعینات کرنے کا مقصد کسی نئی بڑی جارحیت کو روکنا ہوگا اور انہیں محاذِ جنگ پر نہیں بھیجا جائے گا، اس فورس کا ’نہ تو جنگ لڑنے کا ارادہ ہے اور نہ ہی مقصد روس کے خلاف جنگ کرنا ہے‘۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پیوٹن کے ترجمان نے کہا کہ کوئی بھی غیر ملکی افواج، چاہے وہ نیٹو کی ہوں یا کسی اور کی، روس کے لیے خطرہ ہوں گی کیوں کہ ہم نیٹو کے دشمن ہیں۔
زیلنسکی کا اتحادیوں سے پیرس معاہدوں کے نفاذ کا مطالبہ
روس کے رات گئے حملوں پر اپنے پہلے ردعمل میں یوکرین کے صدر ولاودیمیر زیلنسکی نے اتحادیوں پر زور دیا ہے کہ وہ ’پیرس میں طے پائے گئے تمام معاہدوں کو نافذ کریں‘۔
’ٹیلی گرام‘ پر اپنے پیغام میں زیلنسکی نے لکھا کہ یوکرین پر 800 سے زائد ڈرون، 4 بیلسٹک میزائلوں سمیت 13 میزائلز سے حملہ کیا گیا۔
کیف میں 32 سالہ خاتون اور اس کے 2 ماہ کے بچے کی ہلاکت کی خبروں کا حوالہ دیتے ہوئے زیلنسکی نے کہا کہ ایسے قتل آج، جب حقیقی سفارت کاری بہت پہلے شروع ہو سکتی تھی، ایک سوچا سمجھا جرم ہیں اور جنگ کو طول دینے کے مترادف ہیں۔
اس ہفتے پیرس میں یوکرین کے لیے سیکیورٹی ضمانتوں پر مزید بات چیت کے لیے ہونے والی نام نہاد ’رضاکار اتحاد‘ کی ملاقات کے بعد، زیلنسکی نے اتحادیوں سے مطالبہ کیا کہ ہر وہ چیز نافذ کریں جو طے پائی تھی۔
انہوں نے لکھا کہ دنیا کریملن کے مجرموں کو قتل روکنے پر مجبور کر سکتی ہے، اس کے لیے صرف سیاسی عزم درکار ہے۔
یو کرین کے حملے میں روسی آئل پائپ لائن متاثر
یوکرین کی ڈرون فورسز کے سربراہ نے بتایا کہ یوکرین نے رات کے وقت ڈرون حملے میں روس کی تیل کی پائپ لائن کو نشانہ بنایا ہے۔
’ٹیلی گرام‘ پر رابرٹ مجار بروودی نے کہا کہ یہ تنصیب بیلاروسی ریفائنریوں سے روسی فیڈریشن تک تیل کی مصنوعات کی ترسیل کے لیے اسٹریٹجک اہمیت رکھتی ہے۔
بروودی کے مطابق یوکرینی یونٹس نے آئل پمپ کو پیچیدہ آتشزدگی سے نقصان پہنچایا ہے۔












لائیو ٹی وی