اسرائیلی فورسز کے غزہ میں اسکول، خیموں اور گھروں پر حملے، مزید 21 شہادتیں
اسرائیلی فوج نے غزہ میں اسکول، خیموں اور گھروں پر حملوں میں تیزی دکھا دی ہے، دن بھر ہونے والے حملوں میں مزید 21 افراد شہید ہو گئے ہیں۔
قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی قابض افواج نے غزہ سٹی کے مغربی علاقے میں قائم ’الفارابی اسکول‘ پر حملہ کیا، جس میں کم از کم 8 افراد شہید ہوئے، اسرائیلی حملے کا نشانہ بننے والے اسکول میں بے گھر فلسطینی پناہ لیے ہوئے تھے۔
ایک اور حملہ غزہ سٹی کے شیخ رضوان محلے میں کیا گیا، جہاں کم از کم 9 افراد کی شہادت کی تصدیق کی گئی ہے، جن میں 4 بچے بھی شامل ہی۔
اس کے علاوہ اسرائیلی افواج نے رِمال محلے میں بے گھر افراد کے خیمے پر حملہ کیا، جس میں 2 بچے شہید اور متعدد افراد زخمی ہوئے۔
صہیب فودہ، جو غزہ شہر کے الفارابی اسکول میں زمین پر بچھائے ہوئے ایک گدے پر سو رہے تھے، انہوں نے بتایا کہ ’میں نے دھماکے کی آواز سنی اور ایک بلاک میرے چہرے پر آ کر لگا، میری کزن کی بیٹی، جو میرے ساتھ ہی سو رہی تھی، زخمی ہو کر گر پڑی‘۔
’اس کے بعد دوسرا بلاک اُس بچی کے سر پر آ لگا، سب لوگ چیخ رہے تھے، میں خوفزدہ تھا، جب میں نے اپنا چہرہ چھوا تو وہ خون سے بھرا ہوا تھا اور مجھے احساس ہوا کہ میں زخمی ہو گیا ہوں‘۔
محمد عاید، جنہوں نے اس حملے کو ہوتے ہوئے دیکھا، انہوں نے ’الجزیرہ‘ کو بتایا کہ ریسکیو ٹیمیں اب بھی ملبے تلے دبے لاپتہ افراد کی تلاش اور لاشوں کو نکالنے کا کام کر رہی ہیں۔
گزشتہ 24 گھنٹوں میں بھوک سے مزید 5 فلسطینی شہید
غزہ کی وزارتِ صحت نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بھوک سے مزید 5 فلسطینی، جن میں 3 بچے شامل ہیں، شہید ہو گئے ہیں۔
ان شہادتوں کے بعد اب تک غزہ میں غذائی قلت کے باعث شہید ہونے والوں کی تعداد 387 ہو گئی ہے، جن میں 138 بچے شامل ہیں۔
اکتوبر 2023 کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں اب تک کم از کم 64 ہزار 368 فلسطینی شہید جب کہ ایک لاکھ 62 ہزار 776 زخمی ہو چکے ہیں۔












لائیو ٹی وی