روس کا یوکرین پر سب سے بڑا فضائی حملہ، 4 افراد ہلاک، سرکاری دفاتر میں آگ لگ گئی

شائع September 7, 2025 اپ ڈیٹ September 8, 2025
روسی ڈرون اور میزائل حملے کے بعد  کیف میں سرکاری عمارت می آگ لگی ہوئی ہے — فوٹو: اے ایف پی
روسی ڈرون اور میزائل حملے کے بعد کیف میں سرکاری عمارت می آگ لگی ہوئی ہے — فوٹو: اے ایف پی

روس نے اتوار کی صبح یوکرین پر اب تک کا سب سے بڑا فضائی حملہ کیا، جس میں 4 افراد ہلاک ہو گئے اور کیف میں سرکاری دفاتر آگ کی لپیٹ میں آ گئے، یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے خبردار کیا کہ اس حملے سے جنگ طول پکڑے گی۔

عالمی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق آگ کے شعلے اس وسیع و عریض سرکاری کمپلیکس کی چھت سے بلند ہوتے دیکھے گئے جس میں یوکرین کی کابینہ کے وزرا کے دفاتر ہیں، یہ پہلا موقع تھا کہ تین سالہ جنگ کے دوران اس عمارت کو نشانہ بنایا گیا۔

ایمرجنسی سروسز کے مطابق ڈرون حملوں سے دارالحکومت کیف میں کئی بلند عمارتیں بھی متاثر ہوئیں۔

روس نے امریکی کوششوں کے باوجود یوکرین پر حملے روکنے پر آمادگی ظاہر نہیں کی، اور کیف کے رہائشی حملوں اور خطرے کی گھنٹیوں کے عادی ہو چکے ہیں۔

30 سالہ رہائشی اولگا نے اے ایف پی کو بتایا کہ’ یہ بدقسمتی سے ہمارے لیے معمول بن چکا ہے۔’ ایک اے ایف پی رپورٹر نے دیکھا کہ ہیلی کاپٹر سرکاری عمارت کی چھت پر پانی گرا رہے تھے جبکہ ایمرجنسی ٹیمیں موقع پر موجود تھیں۔

دشمن کی ‘دہشت گردی’

روس یوکرین میں عام شہریوں کو نشانہ بنانے کی تردید کرتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس نے کیف میں ایک پلانٹ اور لاجسٹک مرکز کو نشانہ بنایا، اور روسی وزارت دفاع نے کہا کہ ’کیف کی حدود میں دیگر اہداف پر کوئی حملہ نہیں کیا گیا۔‘

یوکرینی وزیراعظم یولیا سویریدینکو نے ایک ویڈیو جاری کی جس میں سرکاری عمارت کی ایک متاثرہ منزل دکھائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ’ ہم عمارتوں کو دوبارہ تعمیر کر لیں گے، لیکن ہم جانیں واپس نہیں لا سکتے۔ دشمن روزانہ ہمارے لوگوں کو پورے ملک میں دہشت زدہ کرتا اور قتل کرتا ہے۔’

یوکرین کی فضائیہ کے مطابق روس نے ہفتہ کی رات سے اتوار کی صبح تک کم از کم 810 ڈرون اور 13 میزائل داغے، جو اب تک کا نیا ریکارڈ ہے۔

زیلنسکی نے کہا کہ’ اس وقت جب حقیقی سفارت کاری شروع ہو سکتی تھی، ایسے قتل جان بوجھ کر کیا گیا جرم اور جنگ کو طول دینے کی کوشش ہیں۔’

انہوں نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون سے بات کی اور بتایا کہ فرانس یوکرین کے دفاع کو مضبوط بنانے میں مدد کرے گا۔

میکرون نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے ایکس (سابق ٹوئٹر) پر لکھا کہ روس ’ خود کو مزید گہری جنگ اور دہشت کی منطق میں دھکیل رہا ہے۔’

برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے حملوں کو ’ بزدلانہ’ قرار دیا جبکہ یورپی یونین کی سربراہ ارسولا فان ڈیر لیین نے کریملن پر ’ سفارت کاری کا مذاق اڑانے’ کا الزام لگایا۔

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ واشنگٹن ان ممالک پر محصولات عائد کر کے روس پر دباؤ بڑھانے کے لیے تیار ہے جو روسی تیل خریدتے ہیں۔

انہوں نے این بی سی کو بتایا کہ’ روسی معیشت مکمل طور پر تباہ ہو جائے گی، اور اس سے صدر (ولادیمیر) پیوٹن مذاکرات کی میز پر آئیں گے۔’

گھوڑے بھی مارے گئے

پراسیکیوٹرز کے مطابق کیف کے مغرب میں ایک حملے میں کم از کم دو افراد ہلاک ہوئے۔ ایمرجنسی سروسز کے مطابق کیف میں دو درجن سے زائد افراد زخمی ہوئے۔

ان میں ایک 24 سالہ حاملہ خاتون بھی شامل تھیں جنہوں نے حملے کے فوراً بعد قبل از وقت بچے کو جنم دیا، سرکاری ٹی وی سپسلنے کے مطابق ڈاکٹر خاتون اور بچے کی جان بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

حکام کے مطابق مشرق اور جنوب مشرق میں رات کے حملوں میں مزید دو افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔ یوکرین کی وزارت خارجہ نے بتایا کہ ایک گھڑ سواری کلب میں سات گھوڑے بھی مارے گئے۔

وزارت نے ایکس پر لکھا کہ’ دنیا تماشائی نہیں بنی رہ سکتی جبکہ ایک دہشت گرد ریاست ہر روز انسانی یا حیوانی جانیں لیتی ہے۔’

یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے جب دو درجن سے زائد یورپی ممالک نے جنگ کے خاتمے کے کسی بھی معاہدے کی نگرانی کا وعدہ کیا تھا جن میں سے کچھ نے زمینی افواج تعینات کرنے کی خواہش بھی ظاہر کی۔

یوکرین نے روس کے مستقبل کے حملوں کو روکنے کے لیے مغربی حمایت یافتہ سیکیورٹی ضمانتوں پر اصرار کیا ہے، لیکن پیوٹن نے خبردار کیا ہے کہ یوکرین میں کسی بھی مغربی فوجی کی موجودگی ناقابل قبول ہوگی اور وہ جائز ہدف تصور کیے جائیں گے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ ہفتوں میں جنگ ختم کرنے کی کوششیں کی ہیں لیکن ابھی تک کوئی خاص کامیابی نہیں ملی۔

اتوار کو، روس کے فضائی حملوں کے چند گھنٹے بعد، ٹرمپ نے کہا کہ وہ ماسکو پر نئی پابندیاں لگانے کے لیے تیار ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے، جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ مزید پابندیاں لگانے کے لیے تیار ہیں تو انہوں نے جواب دیا: ’ہاں، میں ہوں،‘ مگر مزید تفصیل بیان نہیں کی۔

روس مہنگی اور طویل لڑائیوں کے ذریعے علاقے پر قبضہ جاری رکھے ہوئے ہے اور اب یوکرین کے تقریباً 20 فیصد حصے پر قابض ہے۔ یہ یورپ کی خونریز ترین جنگ ہے جس میں ہزاروں افراد مارے جا چکے ہیں اور لاکھوں اپنے گھروں سے بے دخل ہو چکے ہیں، جو دوسری جنگِ عظیم کے بعد کی سب سے بڑی تباہی ہے۔

کارٹون

کارٹون : 8 فروری 2026
کارٹون : 7 فروری 2026