’میں منٹو نہیں ہوں‘ کی شوٹنگ کے وقت حمل کے ساتویں مہینے میں تھی، صنم سعید
اداکارہ صنم سعید نے انکشاف کیا ہے کہ ’میں منٹو نہیں ہوں‘ کی شوٹنگ کے دوران وہ حمل کے ساتویں مہینے میں تھیں اور انہیں اپنا ’بے بی بمپ‘ بھی چھپانا پڑا۔
اداکارہ نے حال ہی میں ’سم تھنگ ہاٹ‘ کو دیے گئے انٹرویو میں مختلف معاملات پر کھل کر بات کی اور یہ بھی بتایا کہ وہ سات سال بعد ٹی وی اسکرین پر واپسی پر کتنی خوش تھیں۔
صنم سعید نے جون 2025 میں بتایا تھا کہ ان کے ہاں 18 مئی 2025 کو بیٹے ولی حسن مرزا کی پیدائش ہوئی تھی، انہوں نے ایک ماہ بعد بچے کی پیدائش کا اعلان کیا تھا۔
ان کا ڈراما ’میں منٹو نہیں ہوں‘ اس وقت اے آر وائے ڈیجیٹل پر نشر ہو رہا ہے اور مذکورہ ڈرامے کے ذریعے انہوں نے سات سال بعد ٹی وی اسکرین پر واپسی کی ہے، انہوں نے پہلی بار ایک ساتھ ہمایوں سعید اور سجل علی کے ہمراہ کام کیا ہے۔
انٹرویو کے دوران انہوں نے بتایا کہ وہ سات سال بعد ٹی وی اسکرین پر واپسی کرنے پر بہت خوش ہیں جب کہ وہ سجل علی اور ہمایوں سعید کے ساتھ کام کرنے پر بھی پرجوش تھیں۔
انہوں نے بتایا کہ ڈرامے کی شوٹنگ سے قبل ہی ان کے ہاں حمل ٹھہر گیا تھا اور انہوں نے ہدایت کار ندیم بیگ سے اس بات کا اظہار بھی کیا کہ وہ حمل کے ساتھ اسکرین پر کیسی نظر آئیں گی؟
صنم سعید کا کہنا تھا کہ ڈرامے کے ابتدائی مناظر کی شوٹنگ کے وقت وہ حمل کے ساتویں مہینے میں تھیں اور انہوں نے بڑے احتمام کے ساتھ اپنا پیٹ چھپایا۔
ان کے مطابق وہ ڈرامے میں لیکچرر خاتون کا کردار ادا کرنے پر بھی پرجوش تھیں، انہوں نے ڈرامے میں ساڑھی پہنی اور بڑے اچھے انداز میں حمل کے ساتھ کام کیا۔
اداکارہ نے بتایا کہ لاہور میں ڈرامے کے مناظر کی شوٹنگ کے وقت وہ تقریبا حمل کے آٹھویں مہینے میں تھیں اور وہ وہاں تین ہفتوں تک شوٹنگ کرواتی رہیں۔
خیال رہے کہ صنم سعید اور محب مرزا نے 2023 میں شادی کا اعتراف کیا تھا، اس سے قبل 2020 سے ان کی شادی کی افواہیں تھیں۔
دونوں کی یہ دوسری شادی ہے، محب مرزا کی پہلی شادی ماڈل آمنہ شیخ سے 2005 میں ہوئی تھی اور دونوں کے درمیان 2019 میں طلاق ہوگئی تھی، انہیں ایک بیٹی بھی ہے۔
اسی طرح صنم سعید نے بھی 2015 میں خاندان کی مرضی سے محبت کی شادی کی تھی، جس کے بعد وہ دبئی منتقل ہوگئی تھیں مگر جلد ہی ان کی طلاق ہوگئی اور اداکارہ نے 2018 میں اس کی تصدیق کی تھی۔












لائیو ٹی وی