’پاکستان کی 8 ارب ڈالر کی معدنی صلاحیت اجاگر کرنے کیلئے فوری اقدامات ناگزیر ہیں‘
پاکستان کا معدنیات کا شعبہ قومی معیشت میں اپنی شراکت کو نمایاں طور پر بڑھانے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور اگر ملک اپنی وسیع غیر استعمال شدہ معدنی دولت سے فائدہ اٹھائے تو اس کی آمدنی 2030 تک سالانہ 2 ارب ڈالر سے بڑھ کر 6 سے 8 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق قدرتی وسائل اور توانائی سمٹ 2025 میں بدھ کے روز کلیدی خطاب کرتے ہوئے نیشنل ریسورسز لمیٹڈ (این آر ایل) کے چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای او) شمس الدین اے شیخ نے اس شعبے کی کم استعمال شدہ صلاحیت کو اجاگر کیا۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ پاکستان دنیا کی سب سے مالا مال معدنی پٹیوں میں سے ایک پر واقع ہے، لیکن اس کا حصہ عالمی معدنی پیداوار میں صرف 0.15 فیصد اور ملکی جی ڈی پی میں 2 سے 3 فیصد ہے، ملک میں موجود 92 معلوم معدنیات میں سے تقریباً 90 فیصد اب تک غیر دریافت شدہ ہیں۔
شمس الدین اے شیخ نے ان وسائل کے بروقت استعمال پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو غیر ملکی کمپنیاں اس موقع سے فائدہ اٹھا لیں گی۔
انہوں نے کہا کہ یہ وقت پاکستانی کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کے لیے ہے کہ وہ مشترکہ منصوبوں اور شراکت داری کے ذریعے قیادت کریں، اور ملک کے اندر دولت اور روزگار پیدا کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ اہم منصوبوں میں ریکو ڈک شامل ہے، جو سالانہ 4 سے 5 ارب ڈالر پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، سیاح ڈیک (1 سے 2 ارب ڈالر)، تھر کول توسیعی منصوبہ (20 کروڑ ڈالر)، اور بیرا یٹ، سیسہ اور جست کے منصوبے (10 کروڑ ڈالر)۔
شمس الدین اے شیخ نے کہا کہ یہ تمام منصوبے آئندہ پانچ سالوں میں معیشت میں اربوں ڈالر کا اضافہ کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔ شمس الدین نے چاغی کے علاقے میں مزید تانبے اور سونے کی تلاش کی طرف بھی اشارہ کیا، جو 2030 کے بعد سالانہ 5 سے 10 ارب ڈالر تک پیدا کر سکتا ہے۔
این آر ایل کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ریکو ڈک اور تھر کول میں سرمایہ کاری 2030 تک معدنیات کی آمدنی کو 6 سے 8 ارب ڈالر تک بڑھا سکتی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ ذمہ دارانہ کان کنی نمایاں سماجی فوائد لا سکتی ہے، جن میں روزگار کے مواقع، بہتر رہائش، صحت کی سہولتوں اور تعلیم تک رسائی شامل ہیں، خصوصاً پسماندہ علاقوں میں۔
انہوں نے کہا کہ کان کنی صرف معدنیات نکالنے کا عمل نہیں، بلکہ یہ کمیونٹیز بنانے اور غربت کے خاتمے کا ذریعہ ہے۔
فائیڈیلیٹی انشورنس بروکرز کے بانی و ڈائریکٹر حسن آر محمدی نے بھی سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معدنیات اور توانائی کے شعبے معاشی ترقی کو فروغ دینے، توانائی کے تحفظ کو بہتر بنانے اور زرمبادلہ کمانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
انہوں نے یقین دلایا کہ انشورنس سیکٹر مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو موزوں رسک حل فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
اسی کمپنی کے سی ای او خرم علی خان نے کہا کہ بڑے منصوبوں کو جاری رکھنے میں انشورنس کا اہم کردار ہے، غیر یقینی حالات میں انشورنس وہ حفاظتی جال ہے جو منصوبوں کو آگے بڑھنے اور سرمایہ کاروں کو پراعتماد رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
لکی سیمنٹ کے چیئرمین محمد سہیل ٹبہ نے اس بات کی نشاندہی کی کہ کان کنی خاص طور پر دیہی صوبوں میں نمایاں سماجی و اقتصادی فوائد لا سکتی ہے، اگر وسائل کی ترقی کو تعلیم اور صلاحیت سازی میں سرمایہ کاری کے ساتھ جوڑ دیا جائے تو یہ پسماندہ علاقوں میں خوشحالی، استحکام اور امن لا سکتی ہے۔
تاہم ماہرین نے خبردار کیا کہ اگر حکمرانی، ضابطہ کاری، اور انسانی وسائل کی ترقی میں سرمایہ کاری نہ کی گئی تو اس شعبے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پالیسیوں میں عدم تسلسل اور ماحولیاتی خطرات جیسے چیلنجز کو دانشمندی سے نمٹنے کی ضرورت ہے، اور اس کے لیے جدت اور ٹیکنالوجی کا استعمال اہم ہوگا۔
یہ سمٹ، جس میں پالیسی سازوں، سرمایہ کاروں، سی ای اوز، انشورنس ماہرین اور بین الاقوامی ماہرین نے شرکت کی، اس بات پر مرکوز رہی کہ کس طرح معدنیات اور توانائی کے شعبے پاکستان کے معاشی مستقبل کے مرکزی ستون بن سکتے ہیں۔
گفتگو میں خصوصی انشورنس کے کردار اور مصنوعی ذہانت جیسی نئی ٹیکنالوجیز پر بھی روشنی ڈالی گئی جو ان صنعتوں کی معاونت کر سکتی ہیں۔
شمس الدین اے شیخ نے حکومت اور صنعت دونوں پر زور دیا کہ وہ فیصلہ کن اقدامات کریں، انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کا لمحہ ہے، درست پالیسیوں اور مقامی سرمایہ کاری کے ساتھ، کان کنی 10 ارب ڈالر سے زائد کی صنعت بن سکتی ہے، جو ترقی، استحکام اور قومی وقار کی ضامن ہوگی۔












لائیو ٹی وی