وزیر خارجہ اسحٰق ڈار اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کیلئے نیویارک پہنچ گئے
ڈپٹی وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نیویارک پہنچ گئے جہاں وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس میں شرکت کریں گے، اس اجلاس میں فلسطین اور غزہ کے مسائل ایجنڈے میں نمایاں رہیں گے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطح کے اجلاس کا انعقاد 22 سے 26 ستمبر تک ہوگا، جس میں پاکستان کے وفد کی قیادت وزیراعظم شہباز شریف کریں گے، وزیراعظم اقوام متحدہ میں مقبوضہ کشمیر اور فلسطین کے مسائل کے حل پر زور دیں گے۔
دفتر خارجہ نے بتایا کہ وزیر خارجہ اسحٰق ڈار کی آمد پر اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد، امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ اور مشن کے اعلیٰ حکام نے ان کا استقبال کیا۔
بیان میں کہا گیا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ کا نیویارک میں مصروف شیڈول ہوگا، وہ وزیراعظم کے ساتھ مختلف ملاقاتوں میں شریک ہونے کے علاوہ خود بھی متعدد وزارتی اور اعلیٰ سطح کے اجلاسوں میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے اور اپنے ہم منصب وزرائے خارجہ سے درجن سے زائد دوطرفہ ملاقاتیں کریں گے۔
اقوام متحدہ کی 80ویں سالگرہ کے موقع پر دنیا کے تقریباً 150 رہنما جمع ہو رہے ہیں لیکن یہ عالمی فورم اس وقت احتجاج اور جنگوں کے سائے میں ہے، آغاز ہی سے فلسطین کا حل طلب مسئلہ اقوام متحدہ کی ساکھ اور امن قائم کرنے کی صلاحیت کے لیے ایک امتحان رہا ہے۔
فلسطین کے پرامن حل اور دو ریاستی فارمولے پر عملدرآمد کے لیے بین الاقوامی اعلیٰ سطح کانفرنس فرانس اور سعودی عرب کی مشترکہ میزبانی میں ہو رہی ہے، روایتی طریقہ کار سے ہٹ کر جنرل اسمبلی نے گزشتہ ہفتے ووٹ کے ذریعے فلسطینی صدر محمود عباس کو ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کی اجازت دی، کیونکہ امریکا نے انہیں اور ان کے وفد کو اجلاس میں شرکت کے لیے ویزا دینے سے انکار کر دیا تھا۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اپنے خطاب میں عالمی برادری سے مطالبہ کریں گے کہ وہ طویل قبضے اور حق خودارادیت کی محرومی کی صورتحال، خصوصاً بھارت کے زیرقبضہ کشمیر اور فلسطین کے مسائل حل کرے، وہ غزہ کے سنگین بحران کی طرف بھی عالمی توجہ مبذول کرائیں گے اور فلسطینی عوام کی مشکلات ختم کرنے کے لیے فیصلہ کن اقدامات پر زور دیں گے۔
وزیراعظم کشمیر و فلسطین مسائل کے حل کا مطالبہ کریں گے
وزیراعظم اپنے خطاب میں خطے کی سیکیورٹی کی صورتحال پر پاکستان کے مؤقف کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلی، دہشت گردی، اسلاموفوبیا اور پائیدار ترقی جیسے عالمی مسائل کو بھی اجاگر کریں گے۔
دفتر خارجہ نے یہ بھی بتایا کہ وزیراعظم نیویارک میں جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور منتخب مسلم رہنماؤں کی ملاقات میں شریک ہوں گے، جہاں علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے معاملات پر تبادلہ خیال ہوگا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ وزیراعظم مختلف عالمی رہنماؤں اور اقوام متحدہ کے اعلیٰ حکام سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے اور پاکستان کے اس عزم کو اجاگر کریں گے کہ وہ سلامتی کونسل کے رکن کی حیثیت سے اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق دنیا بھر میں امن، تنازعات کی روک تھام اور خوشحالی کے لیے کام کرتا رہے گا۔













لائیو ٹی وی