غزہ کی جانب گامزن گلوبل صمود فلوٹیلا پر اسرائیل کے ڈرون حملے، مواصلاتی نظام جام کردیا
غزہ کی ناکہ بندی توڑنے اور امدادی سامان لے جانے والے بحری بیڑے ‘ گلوبل صمود فلوٹیلا‘ کو اسرائیل نے بین الاقوامی پانیوں میں ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا ہے جبکہ مواصلاتی نظام بھی جام کردیا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق گلوبل صمود فلوٹیلا نے بتایا کہ منگل کی رات یونان کے قریب سفر کے دوران بیڑے کے اردگرد درجن سے زیادہ دھماکے سنے گئے اور کشتیوں کے ڈیک پر ’نامعلوم اشیا‘ گرنے سے نقصان ہوا۔
بیان میں کہا گیا ہے ’متعدد ڈرونز سے نامعلوم اشیا پھینکی گئیں، مواصلات جام کر دیے گئے اور کئی کشتیوں سے دھماکوں کی آوازیں آئیں‘۔
ایک جہاز پر سوار پولینڈ کے رکن پارلیمنٹ فرانیک اسٹیرچوسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ مجموعی طور پر 10 کشتیوں پر 13 حملے ہوئے جن میں ان کی کشتی بھی شامل ہے، انہوں نے کہا کہ ’تین جہازوں کو نقصان پہنچا‘۔
جرمن انسانی حقوق کی کارکن اور فلوٹیلا کی رکن یاسمین آجر نے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو میں کہا کہ 5 کشتیوں پر حملہ ہوا ہے، ان کا کہنا تھا کہ ’ہم صرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد لے جا رہے ہیں، ہمارے پاس کوئی ہتھیار نہیں ہیں، ہم کسی کے لیے خطرہ نہیں ہیں، اسرائیل ہے جو ہزاروں افراد کو قتل کر رہا ہے اور پوری آبادی کو بھوک سے مار رہا ہے‘۔
ایک اور ویڈیو میں آجر نے کہا کہ کارکنوں نے ’15 سے 16 ڈرون دیکھے‘ اور ان کے ریڈیو جام ہو گئے جبکہ اونچی آواز میں موسیقی بجائی گئی۔
فلوٹیلا کے آفیشل انسٹاگرام پیج پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں ایک دھماکا دکھایا گیا جس کے بارے میں کہا گیا کہ یہ جہاز ’اسپیکٹر‘ پر 01:43 جی ایم ٹی پر ریکارڈ کیا گیا۔
یونانی کوسٹ گارڈ نے اے ایف پی کو بتایا کہ یورپی یونین کی سرحدی ایجنسی فرنٹیکس کی گشت پر مامور کشتی ایک جہاز کے قریب پہنچی اور کسی نقصان کے آثار نہیں دیکھے، ترجمان نے کہا کہ ’کوسٹ گارڈ آپریشن روم کو صبح 2:30 ( جی ایم ٹی) کے بعد اطلاع ملی، ایک فرنٹیکس گشتی کشتی موقع پر پہنچی جس نے بادبانی کشتی کو محفوظ پایا اور وہاں کوئی نقصان نہیں تھا، کشتی میں سوار افراد نے واقعے کا ذکر کیا لیکن یہ ثابت نہیں ہو سکا کہ ایسا ہوا تھا‘۔
ترجمان اس بات کی تصدیق نہیں کر سکی کہ مبینہ واقعہ بین الاقوامی پانیوں میں پیش آیا یا نہیں، وارسا میں فرنٹیکس کے ہیڈکوارٹر سے رابطہ کرنے پر ایجنسی نے فوری طور پر اس کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔
اسی پیج پر پوسٹ کی گئی ایک اور ویڈیو میں برازیلی کارکن تھییاگو ایویلا نے کہا کہ 4 کشتیوں کو ’ڈرونز سے پھینکی جانے والی اشیا‘ کا نشانہ بنایا گیا، اس دوران پس منظر میں ایک اور دھماکے کی آواز سنائی دی۔
گلوبل صمود فلوٹیلا کے ساتھ کئی پاکستانی بھی سفر کررہے ہیں جن میں جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان بھی شامل ہیں۔
سابق سینیٹر مشتاق احمد خان نے اپنے فیس بک پیج پر شیئر کردہ ویڈیو میں بتایا کہ اسرائیل نے گزشتہ رات گلوبل صمود فلوٹیلا پر 10 ڈرون حملے کیے، ڈرونز سے دھماکا خیز مواد، آگ کے گولے، ساؤنڈ بم اور ایسا خطرناک کیمیکل پھینکا گیا جسے سونگھنے اور چھونے سے انتہائی نقصان پہنچتا ہے۔
انہوں نے اسرائیلی ہتھکنڈوں کو نفسیاتی جنگ اور ڈرانے کی کوششوں سے تعبیر کرتے ہوئے کہاکہ ہم رکیں گے نہیں، ڈریں گے نہیں اور خوفزدہ نہیں ہوں گے، ہم ہرصورت غزہ جائیں گے، ہم اس غیرانسانی محاصرے کو ختم کریں گے، انسدادی امداد غزہ پہنچائیں گے، امدادی کوریڈور قائم کریں گے اور غزہ میں نسل کشی ختم کرائیں گے۔
مشتاق احمد نے کہا کہ گلوبل صمود فلوٹیلا پر بین الاقوامی پانیوں میں حملے کیے گئے، ایک ریاست نے اپنی دہشت گردی، بدمعاشی اور جرائم سے پوری دنیا کو یرغمال بنایا ہوا ہے، اب پوری دنیا کو صہیونی حکومت کے خلاف اٹھ جانا چاہیے۔
گلوبل صمود فلوٹیلا اس ماہ کے آغاز میں بارسلونا سے روانہ ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیلی ناکہ بندی کو توڑنا اور غزہ تک امداد پہنچانا تھا، فی الحال بیڑے میں 51 جہاز شامل ہیں جن میں سے زیادہ تر یونانی جزیرے کریٹ کے قریب ہیں۔
بیڑے میں شامل ہونے کے منتظر جہازوں کو پہلے ہی تیونس میں 2 مشتبہ ڈرون حملوں کا سامنا کرنا پڑا تھا، سویڈن کی ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ بھی شمالی افریقہ میں ان جہازوں میں سوار ہوئیں۔
جون اور جولائی میں امدادی کارکنوں کی سمندر کے راستے غزہ تک پہنچنے کی دو کوششوں کو روکنے والے اسرائیل نے پیر کو کہا تھا کہ وہ فلوٹیلا کو فلسطینی علاقے تک نہیں پہنچنے دے گا۔
اسرائیل پر بین الاقوامی دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ غزہ میں اپنی جنگ بند کرے، جہاں اس نے قحط زدہ غزہ شہر میں زمینی آپریشن شروع کر رکھا ہے۔












لائیو ٹی وی