فیملی ولاگنگ کے نام پر ماں، بہن کو سوشل میڈیا پر نہیں لانا چاہیے، شکیل صدیقی
کامیڈین و اداکار شکیل صدیقی نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا اچھا پلیٹ فارم ہے لیکن پاکستان میں اسے شوشن میڈیا بنادیا گیا، اس پر فیملی ولاگنگ کے نام پر ماں اور بہن کو دکھایا جا رہا ہے۔
شکیل صدیقی حال ہی میں احمد بٹ کے پوڈکاسٹ میں شریک ہوئے، جہاں انہوں نے مختلف معاملات پر کھل کر گفتگو کی۔
اداکار کا کہنا تھا کہ انہیں لگتا ہے کہ اگر پاکستانی فلم انڈسٹری کا مرکز شروع سے ہی کراچی رہتا تو انڈسٹری تباہ نہ ہوتی۔
ان کے مطابق وہ ماضی میں متعدد فلموں میں کام کر چکے ہیں، فلموں کے معیار کو گرایا گیا، کچھ افراد اپنے 500 بچانے کے لیے دوسروں کے 5 کروڑ روپے ڈبونے لگے۔
ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں فلموں میں غلط ڈائلاگ بولے جاتے تو ایسے ڈائلاگ کی دوبارہ شوٹ کروانے کے بجائے ان پر ڈبنگ کروائی جاتی اور کہا جاتا کہ مینیج کرلیا جائے گا اور پھر ایسے ہی کافی عرصے تک فلموں کو مینیج کیا جاتا رہا۔
کامیڈین نے کہا کہ فلموں کو مینیج کرتے کرتے فلمیں مینیج ہی ہوگئیں، فلموں کا معیار گر گیا اور انڈسٹری تباہ ہوئی لیکن ان کا خیال ہے کہ انڈسٹری اگر کراچی میں ہوتی تو ایسے تباہ نہ ہوتی۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ پاکستان میں کامیڈین کی عزت نہیں ہوتی۔
ان کا کہنا تھا کہ انہیں پاکستان میں عزت اور محبت ملی، تبھی تو بھارت والوں نے انہیں کام کے لیے بلایا اور وہ پوری دنیا میں پرفارمنس کرنے گئے۔
شکیل صدیقی کے مطابق اگر انہیں ملک میں عزت نہیں ملتی تو کوئی دوسرا انہیں ٹکٹ اور ویزا دے کر بیرون ملک کیوں بلاتا؟
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے اعتراف کیا کہ انہوں نے بعض غلط کردار اور کام بھی کیے، تاہم انہوں نے ایسے کرداروں اور ڈراموں کا نام نہیں لیا۔
ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے مزاج نہ ملنے اور اچھے کام کی پیش کش نہ ہونے کی وجہ سے ٹی وی پر کام کردیا۔
اداکار نے یہ بھی کہا کہ ان کے بیٹے اور چھوٹے بھائی بھی اداکار ہیں لیکن وہ ایک ساتھ کام نہیں کرتے، کیوں کہ وہ سب ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں اور بزرگوں نے انہیں احترام ہی سکھایا۔
سوشل میڈیا سے متعلق پوچھے گئے سوال پر اداکار کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا اچھا پلیٹ فارم ہے لیکن پاکستانیوں نے اسے شوشن میڈیا بنا دیا۔
شکیل صدیقی کا کہنا تھا کہ فیملی ولاگنگ نہیں ہونی چاہئیے، فیملی ولاگنگ کے نام پر ماں اور بہن کو ویڈیوز میں دکھایا جاتا ہے۔
ان کے مطابق والدہ کو کچن میں کھانا بناتے دکھانا تو ٹھیک ہے لیکن فیملی ولاگنگ میں اور بھی بہت ساری چیزیں ہو رہی ہیں اور نئی نسل کے بچے ایسے ولاگ دیکھ کر غلط تربیت حاصل کر رہے ہیں۔
انہوں کہا کہ ان کے 12 سالہ بیٹے بھی فیملی ولاگنگ دیکھتے ہیں اور انہیں یہ خدشہ لاحق رہتا ہے کہ ان کا بیٹا کیا تربیت حاصل کرے گا؟
شکیل صدیقی نے بتایا کہ بیٹے کو فیملی ولاگنگ دیکھتے ہوئے وہ ان سے فون چھین لیتے ہیں، فیملی ولاگنگ نہیں ہونی چاہئیے، ماں اور بہن کو سوشل میڈیا پر نہیں لانا چاہئیے۔












لائیو ٹی وی