وزیراعظم شہباز شریف کی آج وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ سے ملاقات متوقع
وزیرِاعظم شہباز شریف کا سفارت کاری سے بھرپور امریکا کا دورہ آج (جمعرات) کو وائٹ ہاؤس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے ذریعے اپنے عروج پر پہنچنے کی توقع ہے۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اپنے طوفانی دورے کے دوران، وزیرِاعظم اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس، مسلم بلاک کے ایک اہم کثیرالجہتی اجلاس، اور نیویارک میں بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے سربراہان سے علیحدہ ملاقاتوں میں شرکت کر چکے ہیں۔
اب تمام اشارے واشنگٹن میں ایک مرکزی ملاقات کی طرف ہیں، اگرچہ حکام تفصیلات کے بارے میں محتاط ہیں۔
وزیرِاعظم کی میڈیا ٹیم، پاکستان کے سفارت خانے اور اس کے اقوام متحدہ مشن کے عملے نے اس ملاقات کو ’تقریباً یقینی‘ قرار دیا ہے۔
یہ بات اس سے بھی ظاہر ہے کہ کئی سینئر سفارت کار پہلے ہی واشنگٹن واپس جا چکے ہیں تاکہ تیاری کر سکیں، سفارت خانے کے میڈیا عملے کے کچھ اراکین بھی دارالحکومت منتقل ہو رہے ہیں، جب کہ پاکستان سے دورے کی کوریج کے لیے آنے والے صحافی بھی تیزی سے جنوب کا رخ کر رہے ہیں۔
ایک میڈیا گفتگو میں جب رپورٹرز نے وزیرِاعظم سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ جمعرات کو ملاقات کے امکان کے بارے میں پوچھا تو شہباز شریف صرف مسکرائے اور کہا کہ وہ اگلے دن اس پر بات کریں گے۔
ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی واشنگٹن میں وزیرِاعظم کے ساتھ ملاقات میں شامل ہوسکتے ہیں، اس سال کے اوائل میں آرمی چیف ملک کے پہلے فوجی کمانڈر بنے تھے جنہیں وائٹ ہاؤس میں دو طرفہ ملاقات کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔
تاہم، اس وقت تک صدر ٹرمپ سے ملاقات کی باضابطہ سرکاری تصدیق نہیں ہوئی تھی۔
جب ملاقات کے امکان کے بارے میں پوچھا گیا تو ایک سینئر امریکی محکمہ خارجہ کے اہلکار نے صحافیوں کو مہارت سے صدر کے شیڈول کی طرف رجوع کرنے کو کہا، لیکن جمعرات کے لیے صدر ٹرمپ کا شیڈول اس وقت تک جاری نہیں کیا گیا تھا۔
مشترکہ اعلامیہ
بدھ کو ہونے والی ملاقات کے بعد وزیرِاعظم شہباز شریف اور وزیرِخارجہ اسحٰق ڈار نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ علیحدہ طور پر بھی کچھ وقت گزارا۔
’ایکس‘ پر دفتر خارجہ کے ایک بیان میں اس گفتگو کو غیر رسمی ملاقات قرار دیا گیا، ویڈیو میں امریکی صدر کو وزیرِاعظم اور وزیرِ خارجہ ڈار کا گرمجوشی سے استقبال کرتے اور مختصر گفتگو کرتے دکھایا گیا۔
امریکی صدر کے ساتھ مسلم ممالک کے رہنماؤں کی ملاقات کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیہ میں غزہ کی پٹی میں ناقابل برداشت صورتحال، انسانی المیے اور بھاری جانی نقصان کو اجاگر کیا گیا، ساتھ ہی اس کے خطے پر سنگین اثرات اور مجموعی طور پر مسلم دنیا پر اثرات کی نشاندہی بھی کی گئی۔
مسلم ممالک کے رہنماؤں نے اپنے مشترکہ مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے غزہ سے لوگوں کی جبری بے دخلی کو مسترد کیا۔ انہوں نے جنگ کے خاتمے اور فوری جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیا تاکہ یرغمالیوں کی رہائی اور انسانی ہمدردی کی خاطر امداد کی فراہمی ممکن ہو سکے، جو کہ ایک منصفانہ اور دیرپا امن کی جانب پہلا قدم ہوگا۔












لائیو ٹی وی