• KHI: Partly Cloudy 26.5°C
  • LHR: Partly Cloudy 23°C
  • ISB: Partly Cloudy 21.8°C
  • KHI: Partly Cloudy 26.5°C
  • LHR: Partly Cloudy 23°C
  • ISB: Partly Cloudy 21.8°C

اہلخانہ کے قتل پر 100 سال قید: مجرم کی 25 سال سزا ختم ہونے پر اگلی سزا شروع ہوگی، تحریری فیصلہ

شائع September 26, 2025
— فائل فوٹو: اے پی
— فائل فوٹو: اے پی

لاہور کے ایڈیشنل سیشن جج نے پب جی سے متاثر ہوکر ماں اور 3 بہن بھائیوں کو قتل کرنے والے ملزم کو سنائی گئی 100 سال سز ا کا تحریری فیصلہ جاری کردیا۔

ایڈیشنل سیشن جج ریاض احمد نے پب جی سے متاثر ہوکر والدہ، 2 بہنوں اور بھائی کو قتل کرنے والے مجرم کو سنائی گئی 100 سال قید کی سزا کا 13 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ مجرم کو 4 افراد کے قتل پر 4 دفعہ عمر قید کی سزا سنائی جاتی ہے، مجرم کی 25 سال سزا ختم ہونے پر اگلی 24 سال سزا شروع ہوگی۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پراسیکیوشن کیس کو ثابت کرنے میں کامیاب رہی، مجرم علی زین نے اپنے حتمی بیان میں کہا کہ یہ جعلی اور بے بنیاد اسٹوری بنائی گئی، مجرم نے کہا کہ ’میری تمام فیملی قتل ہوچکی ہے، میں اکیلا بچا ہوں‘۔

فیصلے کے مطابق مجرم علی زین نے الزام لگایا کہ ’تفتیشی ٹیم نے میری ماں کی پراپرٹی لینے کے لیے مجھے ملوث کیا‘۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مجرم علی زین کی موقع پر موجودگی فرانزک رپورٹ سے ثابت ہوتی ہے، مجرم سے پستول برآمد ہوا جس کے فائر سے سب ہلاک ہوئے، مجرم نے فرانزک کے فوٹوگرامیٹک ٹیسٹ میں بھی بیانات کو تبدیل کیا۔

فیصلے کے مطابق فرانزک لیب کی رپورٹ سے مجرم علی زین کی وقوعہ پر موجودگی ثابت ہوتی ہے، مجرم نے انٹرویو میں تسلیم کیا کہ وہ رات دیر تک ایک گیم کھیلتا رہا، مجرم سے جو پستول برآمد ہوا وہ اس کے کمرے میں تھا، فرانزک لیب کی رپورٹ میں پستول پر مجرم کی انگلیوں کے نشان ثابت ہوئے۔

واضح رہے کہ مجرم علی زین نے جنوری 2022 میں اپنی والدہ ناہید مبارک، بھائی تیمور سلطان اور بہنوں ماہ نور اور جنت فاطمہ کو قتل کیا تھا، تھانہ کاہنہ پولیس نے 2022 میں مجرم کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔

کارٹون

کارٹون : 26 مارچ 2026
کارٹون : 25 مارچ 2026