آئندہ اسموگ سیزن شدید، ’سائلنٹ ڈیزاسٹر‘ کیلئے تیار رہنا ہوگا، ماہر ماحولیات کا انتباہ

شائع September 27, 2025 اپ ڈیٹ September 28, 2025
— فوٹو: ڈان نیوز
— فوٹو: ڈان نیوز

ماہر ماحولیات ڈاکٹر زینب نعیم نے رواں برس سموگ سیزن کا پہلے کے مقابلے میں شدید ہونے کا خدشہ ظاہر کر دیا، انہوں نے کہا ہمیں ایک ’سائلنٹ ڈیزاسٹر‘ کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

ڈان نیوز کے پروگرام ’خبر سے خبر ود افتخار شیرازی‘ میں گفتگو کرتے ہوئے ماہر ماحولیات ڈاکٹر زینب نعیم نے کہا اگر حکومت نے موسمیاتی تبدیلی کو کچھ برس قبل سنجیدہ لیا ہوتا تو آج ہم اتنے مسائل سے دو چار نہ ہوتے، اسموگ کا سیزن شروع ہونے والا ہے جبکہ کئی علاقوں میں ابھی تک سیلاب کا پانی بھی نہیں نکالا جا سکا۔

انہوں نے کہا کہ رواں برس اسموگ سیزن پہلے سے شدید ہوگا، جس میں پاکستان کے صوبہ پنجاب کا سب سے زیادہ متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

ڈاکٹر زینب نعیم نے بتایا کہ بھارت اور پاکستان کے پنجاب کو ’ایئر شیڈ‘ کہا جاتا ہے، یہ وہ علاقے ہیں جہاں اسموگ کا خطرہ زیادہ رہتا ہے۔

ماہر ماحولیات کے مطابق اسموگ کسی حد تک قدرتی طور پر ہے لیکن اس کے پھیلاؤ کی بڑی وجہ ہمارے اپنے اقدامات ہیں، جن میں انڈسٹریز اور پرانی گاڑیوں کا دھواں، کنسٹرکشن کا بے تہاشا کام اور فصلیں جلانا۔

ڈاکٹر زینب نعیم کا کہنا تھا کہ حکومت نے اس حوالے سے اقدامات تو اُٹھائے ہیں، تاہم اندازہ نہیں تھا سیلاب اتنی زیادہ تباہی پھیلا دے گا، ہماری تیاری ناکافی ہے، سیلاب کا پانی میدانی علاقوں سے آہستہ ٓہستہ کم ہوتا ہے، نمی زیادہ ہونے کی وجہ سے ان علاقوں میں اسموگ کا خطرہ بڑھ جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پڑوسی ملک بھارت سے ہوا کی آلودگی، پاکستان کے صوبہ پنجاب میں داخل ہوتی ہے، یہ پاکستان میں فضائی آلودگی کا ایک بڑا فیکٹر ہے۔

ماہر ماحولیات کے مطابق حکومت نے فضائی آلودگی کی بڑی وجہ بننے والے اینٹوں کے بھٹے، دھواں پھیلانے والی پرانی گاڑیوں کے خلاف اقدامات تو اٹھائے ہیں، تاہم یہ مسائل بہت پرانے ہیں اور حکومتی اقدامات اب سامنے آئے ہیں، جس کی وجہ سے ان کے فائدہ فوری طور پر تو نہیں تاہم آئندہ 2 سے 3 برسوں میں کچھ بہتری ممکن ہو سکے گی۔

زینب نعیم نے زور دے کر کہا کہ اعلیٰ حکام کو فصلوں کو جلانے کے اقدامات کی حوصلہ شکنی کرنا ہوگی، ان فصلوں کو حکومت پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ کے تحت دوبارہ قابل استعمال بنا سکتی ہے۔

آلودگی میں کمی کے حوالے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے ریاست کو پورا سال آگاہی مہم چلانا ہو گی، ہمیں شہریوں کو پبلک ٹرانسپورٹ، سائیکلنگ اور الیکٹرک گاڑیوں کی طرف راغب کرنا ہوگا۔

انہوں نے مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ فضائی آلودگی سے لڑنے کے لیے ہمیں گرین بفر زون بنانا ہوں گے، شہروں میں سڑکوں کے اطراف میں درخت لگائیں اور میدانی علاقوں میں جنگلات کو بڑھائیں، تاکہ آب و ہوا کو بہتر بنایا جا سکے۔

ماہر ماحولیات نے آخر میں کہا کہ سردیوں کے موسم میں کنسٹرکشن کے کام میں کسی حد تک کمی لانی چاہیے، ان اقدامات سے فوری طور پر تو نہیں تاہم آئندہ چند سیزن میں فائدہ ملنے کی توقع ہے۔

موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے لیے ڈان میڈیا گروپ کی مہم بریتھ پاکستان کا حصہ بنیں۔

کارٹون

کارٹون : 8 فروری 2026
کارٹون : 7 فروری 2026