غزہ: اسرائیلی فورسز کے غزہ بھر میں حملے جاری، مزید 53 فلسطینی شہید
اسرائیلی افواج کی جانب ستے دن بھر نہتے فلسطینیوں پر حملے جاری رہے، جس میں کم از کم 53 فلسطینی شہید ہو گئے۔
قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کی رپورٹ کے مطابق قابض افواج نے غزہ شہر پر مسلسل بمباری سے علاقے کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا ہے، روزانہ درجنوں افراد شہید ہورہے ہیں، بے شمار رہائشی عمارتیں اور اسکول تباہ ہو چکے ہیں، ہزاروں فلسطینیوں کو جنوب کی جانب ہجرت پر مجبور کیا گیا ہے، جہاں راستے میں بھی اُن پر حملے کیے جاتے ہیں۔
ساحلی سڑک ’الرشید‘ سے رپورٹنگ کرتے ہوئے الجزیرہ کے نمائندے ہانی محمود نے بتایا کہ اسرائیلی فوج پہلے لوگوں کو نکلنے کا حکم دیتی ہے اور پھر ہیلی کاپٹرز، ڈرونز اور ٹینکوں کے ذریعے انہیں نشانہ بناتی ہے، جس سے مزید ’افراتفری اور خوف‘ پھیلتا ہے۔
طبی زرائع کے مطابق غزہ میں انصار کے علاقے میں اسرائیلی ڈرون حملے کے دوران ایک بچہ شہید ہوا، مرکزی غزہ پٹی میں اسرائیلی اسنائپرز سے 9 افراد کو شہید اور 13 کو زخمی کیا۔
البریج پناہ گزین کیمپ میں ایک گھر پر ڈرون حملے کے دوران فلسطینی جوڑے شہید ہو گیا، دیر البلح کے جنوب میں ایک اور ڈرون حملے میں ایک فلسطینی شہید اور 10 سے زائد زخمی ہوئے۔
خان یونس میں اسرائیلی ڈرون نے الاقصیٰ یونیورسٹی کے کیمپس میں بے گھر افراد کے خیمے کو نشانہ بنایا، جس سے 8 افراد زخمی ہوئے۔
اگرچہ اسرائیل کی جانب سے غزہ شہر پر وحشیانہ بمباری شہریوں کو جنوب کی طرف نکلنے پر مجبور کر رہی ہے،تاہم پھر بھی کچھ لوگ خطرہ مول لیتے ہوئے شمال کی طرف واپس لوٹنے پر مجبور ہیں، ہزاروں فلسطینی اس خطرناک راستے پر شمال سے جنوب کی طرف ہجرت پر مجبور ہوئے ہیں۔
دریں اثنا، فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس، امریکا کے پیش کردہ جنگ بندی منصوبے پر غور کر رہی ہے، جس سے دو سالہ جنگ ختم ہوسکتی ہے۔
تاہم اس منصوبے کی شرائط جنہیں زیادہ تر اسرائیل کے مقاصد کے حق میں سمجھا جا رہا ہے، ان پر حماس کی رضامندی تاحال غیر یقینی دکھائی دے رہی ہے۔
اسرائیلی حملوں میں 7 اکتوبر 2023 سے اب تک 66 ہزار 225 فلسطینی شہید جب کہ ایک لاکھ 68 ہزار 938 زخمی ہو چکے ہیں۔
صرف مارچ میں اسرائیل کی جانب سے یکطرفہ طور پر جنگ بندی توڑنے کے بعد سے اب تک 13 ہزار 357 شہری شہید جب کہ 56 ہزار 897 زخمی ہوئے۔












لائیو ٹی وی