مسلم لیگ (ن) کیساتھ کشیدگی: بلاول بھٹو نے سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی کا اجلاس طلب کر لیا
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پارٹی کی مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی (سی ای سی) کا اجلاس 18 اکتوبر کو طلب کر لیا، تاکہ ملک کی سیاسی صورتِ حال اور مسلم لیگ (ن) کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں ’اہم فیصلے‘ کیے جا سکیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ کئی دنوں سے پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ کی پنجاب قیادت کے درمیان لفظی جنگ جاری ہے، جو سیلاب زدگان کے لیے معاوضوں اور چولستان کینال منصوبے میں پانی کے حقوق جیسے معاملات پر شروع ہوئی تھی، سندھ میں برسر اقتدار پیپلز پارٹی خاص طور پر پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز کے بیانات پر برہم ہے، حالانکہ اُن ( مریم نواز) کی جماعت (ن) لیگ وفاق میں بھی حکمران ہے۔
پیپلز پارٹی کے ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس طلب کرلیا‘
مزید بتایا گیا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے 18 اکتوبر ہفتے کو سی ای سی کا اجلاس بلاول ہاؤس کراچی میں طلب کیا ہے۔
بیان کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی کی سی ای سی کے اجلاس میں ملکی سیاست سے متعلق اہم فیصلے ہوں گے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز سینیٹر شیری رحمٰن نے اتحادی جماعت کو خبردار کیا تھا کہ اگر پیپلز پارٹی کی ’ واضح حمایت‘ حاصل نہ ہوئی تو سینیٹ میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
پیپلزپارٹی کی سینئر نائب صدر شیری رحمٰن نے کہا تھا کہ ’اگر آپ پورا اتحاد توڑنا چاہتے ہیں تو میں پہلے ہی قومی اسمبلی میں کہہ چکی ہوں کہ ہمارے حکومتی بینچوں پر بیٹھنے کو یقینی مت سمجھیں، اور یہ بھی نہ سمجھیں کہ ہم آپ کو ہر حال میں مستحکم رکھیں گے۔‘
انہوں نے مزید کہا تھا کہ ’اگر آپ کو ہماری ضرورت نہیں تو یہ آپ کی مرضی ہے، لیکن یاد رکھیں کہ ہم سینیٹ کی سب سے بڑی جماعت ہیں، اور پیپلز پارٹی کی واضح حمایت کے بغیر آپ کے لیے حالات بہت مشکل ہو جائیں گے۔‘
باخبر ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور صدر آصف علی زرداری نے حالات کو معمول پر لانے کے لیے کوششیں تیز کر دی ہیں، صدر زرداری نے وزیر داخلہ محسن نقوی سے بھی رابطہ کیا ہے اور انہیں کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی ہدایت کی ہے۔
ذرائع کے مطابق امکان ہے کہ محسن نقوی متعلقہ اداروں سے رابطہ کر کے دونوں جماعتوں کے درمیان جاری تنازع کو کم کرنے کی کوشش کریں گے۔
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے وفاقی اتحادی جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی پر زور دیا تھا کہ وہ اپنے سیاسی اختلافات کو ختم کریں اور سندھ اور پنجاب کی حکومتوں کے درمیان جاری تنازع سے آگے بڑھیں۔
جب رانا ثناء اللہ سے پوچھا گیا تھا کہ آیا یہ تنازع اس حالیہ قیاس آرائی سے متعلق ہے کہ آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر ملک کے صدر بن سکتے ہیں، تو انہوں نے کہا کہ ’ متعلقہ حلقوں’ نے ایسی تمام باتوں کو پہلے ہی ’رد ‘ کر دیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا تھا کہ آرمی چیف کا ’ کوئی ذاتی ایجنڈا نہیں ہے، اور یہ بات بالکل غلط ہے کہ اُن کی کوئی اور نیت یا منصوبہ ہے۔’












لائیو ٹی وی