حماس-اسرائیل جنگ کے خاتمے پر کس بات کا احتجاج؟ وزیر دفاع کا مذہبی جماعت سے سوال
وزیر دفاع خواجہ آصف نے مذہبی جماعت کے مظاہرین سے سوال کیا ہے کہ حماس اور اسرائیل میں جنگ کے خاتمے پر غزہ میں مٹھائیاں تقسیم ہو رہی ہیں، مگر یہاں کس بات پر احتجاج ہو رہا ہے؟
اسلام آباد اور لاہور میں مذہبی جماعت کے احتجاج پر خواجہ آصف نے سوشل میڈیا پر طنز بھرا پیغام جاری کردیا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر اپنے پیغام کے ساتھ وفاقی وزیر نے مسجد اقصیٰ کے سائے میں جنگ بندی پر خوش فلسطینیوں کی ویڈیو بھی شیئر کردی۔
اپنی پوسٹ میں وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ 2 سال غزہ کے باسیوں پر ظلم کے پہاڑ ٹوٹ رہے تھے اور بچوں کا قتل عام جاری تھا، تب ساری دنیا کے عوام احتجاج کر رہے تھے، جن میں بہت بڑی تعداد اور اکثریت غیر مسلم ممالک کے باسیوں کی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ اب جنگ بندی کے معاہدے پر اسرائیل اور حماس نے دستخط کردیے ہیں اور جنگ بند ہو گئی ہے لیکن پاکستان میں بعض خود کو فلسطین پر جان قربان کرنے کے خواش مند افراد جلوس نکال رہے ہیں اور اسلام آباد پر چڑھائی کردی ہے۔
خواجہ آصف نے مذہبی جماعت کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ ’جنگ ختم ہوچکی ہے تو احتجاج کس بات کا کیا جارہا ہے، جلاؤ گھیراؤ کیوں ہو رہا ہے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ زیادتی ہے، ان کو بتایا نہیں جارہا ہے کہ لڑائی ختم ہوگئی ہے تو پھر آپ لوگ کس بات کا احتجاج کر رہے ہو، گھر جاؤ، وہاں فلسطینی مٹھائی کھا رہے ہیں اور ہم احتجاج کررہے ہیں، یہ بات سجھ سے بالاتر ہے۔
واضح رہے کہ لاہور میں اسرائیل مخالف مظاہروں کے دوران پولیس کے ساتھ پرتشدد جھڑپوں کے بعد ہزاروں کی تعداد میں تحریکِ لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے کارکنان ہفتے کے روز دارالحکومت کی جانب مارچ کرتے ہوئے روانہ ہوگئے۔
ٹی ایل پی نے اپنے مظاہروں کا آغاز جمعرات کو لاہور سے کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ وہ اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے تک مارچ کرے گی، تاکہ غزہ میں 2 سالہ جنگ کے بعد اسرائیل اور حماس کے درمیان امریکی ثالثی میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرایا جا سکے۔












لائیو ٹی وی