بھارت کیلئے امریکی مشیر پر خفیہ دستاویزات رکھنے اور چین سے تعلقات کے الزام میں فردِ جرم عائد
امریکی استغاثہ کا کہنا ہے کہ امریکا میں بھارتی امور کے ماہر اور حکومت کے مشیر کے طور پر خدمات انجام دینے والے معروف اسکالر ایشلے ٹیلِس پر خفیہ معلومات رکھنے اور چینی حکام سے ملاقات کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
ڈان اخبار میں شائع خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق منگل کو دائر کردہ ایک فوجداری حلف نامے میں بتایا گیا ہے کہ دو دہائیوں سے زائد عرصے تک امریکی حکومت میں بطور مشیر خدمات انجام دینے والے 64 سالہ ایشلے ٹیلِس کے گھر سے ایک ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل خفیہ اور انتہائی خفیہ دستاویزات برآمد ہوئیں۔
حلف نامے کے مطابق 25 ستمبر کی شام ایشلے ٹیلِس وزارتِ خارجہ میں داخل ہوئے، جہاں وہ بلا معاوضہ مشیر کے طور پر کام کر رہے تھے، اور ایسا ظاہر ہوا کہ انہوں نے امریکی فضائیہ کی تکنیکس سے متعلق ایک خفیہ دستاویز پرنٹ کی۔
مزید کہا گیا کہ ٹیلِس نے ورجینیا کے شہر فیئرفیکس کے ایک ریسٹورنٹ میں متعدد بار چینی حکام سے ملاقاتیں کیں۔
حلف نامے میں کہا گیا ہے کہ ایک ملاقات میں ایشلے ٹیلِس ایک منیلا لفافہ لے کر ریسٹورنٹ میں داخل ہوئے لیکن جاتے وقت ان کے پاس وہ لفافہ نہیں تھا، جبکہ دو مواقع پر چینی حکام نے انہیں تحائف کا تھیلا پیش کیا۔
امریکی محکمہ انصاف کے مطابق اگر ایشلے ٹیلِس پر الزام ثابت ہوا تو انہیں زیادہ سے زیادہ 10 سال قید اور ڈھائی لاکھ ڈالر جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔
ایشلے ٹیلِس کے وکلا نے اس معاملے پر تبصرے کی درخواست کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔ ورجینیا کے مشرقی ضلع کی امریکی اٹارنی لنڈسے ہیلیگن، جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ناقدین کے خلاف مقدمات چلانے کے حوالے سے جانی جاتی ہیں، نے کہا کہ ’اس مقدمے میں لگائے گئے الزامات ہمارے شہریوں کی سلامتی اور تحفظ کے لیے ایک سنگین خطرہ ہیں‘۔
امریکی محکمہ خارجہ نے تصدیق کی کہ ٹیلِس کو ہفتے کے روز گرفتار کیا گیا تھا تاہم جاری تحقیقات کے باعث مزید تبصرے سے انکار کیا۔
بھارتی نژاد امریکی شہری ایشلے ٹیلِس کارنیگی اینڈوومنٹ فار انٹرنیشنل پیس میں سینئر فیلو ہیں اور سابق صدر جارج ڈبلیو بُش کے دورِ حکومت میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔












لائیو ٹی وی