• KHI: Partly Cloudy 29.1°C
  • LHR: Partly Cloudy 26.8°C
  • ISB: Partly Cloudy 23.9°C
  • KHI: Partly Cloudy 29.1°C
  • LHR: Partly Cloudy 26.8°C
  • ISB: Partly Cloudy 23.9°C

ٹائٹین آبدوز کا حادثہ ناقص انجینئرنگ اور ناکافی جانچ کا شاخسانہ تھا، امریکی رپورٹ

شائع October 16, 2025
حادثے میں پاکستانی نژاد شہزادہ داؤد اور ان کے بیٹے سلیمان سمیت 5 فراد لقمہ اجل بنے تھے— فائل فوٹو: رائٹرز
حادثے میں پاکستانی نژاد شہزادہ داؤد اور ان کے بیٹے سلیمان سمیت 5 فراد لقمہ اجل بنے تھے— فائل فوٹو: رائٹرز

امریکی نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ (این ٹی ایس بی) نے کہا ہے کہ 2023 میں ٹائٹینک کے ملبے تک جانے والی نجی آبدوز ٹائیٹین میں ہونے والا ہولناک دھماکا ناقص انجینئرنگ اور ناکافی جانچ کا شاخسانہ تھا۔

خبر رساں اداروں رائٹرز اور اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق بدھ کو جاری رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ اوشین گیٹ نامی کمپنی کی غفلت اور اس کی آبدوز ’ٹائیٹن‘ کے ڈیزائن کی خامیوں کا نتیجہ تھا، جن کی نشاندہی امریکی کوسٹ گارڈ نے اگست میں اپنی تحقیق میں بھی کی تھی، رپورٹ میں کہا گیا کہ اس سانحے کو روکا جاسکتا تھا، جس میں سوار تمام 5 مسافر لقمہ اجل بن گئے تھے۔

این ٹی ایس بی کی رپورٹ کے مطابق ’اوشین گیٹ میں انجینئرنگ کے مسائل تھے، جس کے نتیجے میں تیار کیا گیا کاربن فائبر کمپوزٹ پریشر ویسل متعدد تکنیکی خامیوں کا حامل تھا اور ضروری مضبوطی اور پائیداری کے معیار پر پورا نہیں اترتا تھا‘۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ کمپنی نے ٹائیٹن کی مناسب جانچ نہیں کی، جس کی وجہ سے اسے دباؤ برداشت کرنے کی اصل صلاحیت کا اندازہ نہیں ہو سکا، جو غالباً مطلوبہ معیار سے بہت کم تھی۔

اس کے مطابق، اوشین گیٹ کا پریشر ویسل کے ریئل ٹائم مانیٹرنگ ڈیٹا کا تجزیہ بھی غلط تھا، جس کے باعث کمپنی کو علم نہیں ہو سکا کہ آبدوز کو نقصان پہنچ چکا ہے اور اسے فوراً سروس سے ہٹا دینا چاہیے تھا۔

اوشین گیٹ کے چیف ایگزیکٹو اسٹاکٹن رش اس سفر میں شریک تھے، جس میں برطانوی مہم جو ہی مش ہارڈنگ، فرانسیسی ماہرِ سمندر پال ہنری نارگیولیٹ، پاکستانی نژاد برطانوی صنعت کار شہزادہ داؤد اور ان کا بیٹا سلیمان بھی سوار تھے، آبدوز میں ایک نشست کی قیمت 2 لاکھ 50 ہزار ڈالر تھی۔

18 جون 2023 کو غوطہ لگانے کے تقریباً ایک گھنٹہ 45 منٹ بعد آبدوز سے رابطہ منقطع ہو گیا، جس کے بعد دنیا بھر میں جاری ایک ڈرامائی تلاش شروع ہوئی۔

چند روز بعد ٹائٹینک کے اگلے حصے سے تقریباً 500 میٹر کے فاصلے پر سمندر کی تہہ میں آبدوز کا ملبہ ملا، اور جب اسے سطح پر لایا گیا تو انسانی باقیات بھی برآمد ہوئیں۔

سانحے کے فوراً بعد اوشین گیٹ نے تمام آپریشنز معطل کر دیے تھے، گزشتہ سال نارگیولیٹ کے خاندان نے اوشین گیٹ پر 5 کروڑ ڈالر کا مقدمہ دائر کیا، جس میں کمپنی پر شدید غفلت کا الزام عائد کیا گیا۔

ٹائٹینک کا ملبہ نیو فاؤنڈ لینڈ کے ساحل سے 644 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور 1985 میں دریافت ہونے کے بعد سے ماہرینِ بحریات اور زیرِ آب سیاحت کے شائقین کے لیے دلچسپی کا مرکز بنا ہوا ہے۔

یہ جہاز 1912 میں اپنے پہلے سفر کے دوران انگلینڈ سے نیویارک جاتے ہوئے برفانی تودے سے ٹکرا کر ڈوب گیا تھا، جہاز میں 2224 مسافر اور عملے کے ارکان سوار تھے جن میں سے 1500 سے زائد ہلاک ہوگئے تھے۔

کارٹون

کارٹون : 26 مارچ 2026
کارٹون : 25 مارچ 2026