پاک بھارت جنگ میں شاندار کارکردگی پر انڈونیشیا کا بھی چین سے جے 10 فائٹر جیٹ حاصل کرنے کا فیصلہ
انڈونیشیا کے وزیردفاع سجافری سیامسودین نے کہا ہے کہ فضائیہ کے لیے چین سے چینگدو جے-10 لڑاکا طیارے حاصل کیے جائیں گے، یہ انڈونیشیا کی جانب سے بیجنگ سے گزشتہ ایک دہائی میں پہلی بڑی دفاعی خریداری ہوگی۔
انڈونیشین بزنس پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز وزارت دفاع کے دفتر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیردفاع سجافری سیامسودین نے تصدیق کی کہ چین سے جے 10 لڑاکا طیارے حاصل کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ’ یہ طیارے جلد ہی جکارتہ کی فضاؤں میں پرواز کرتے دکھائی دیں گے۔’ تاہم انہوں نے طیاروں کی تفصیلات یا ترسیل کے شیڈول کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔
چین سے جے 10 لڑاکا طیارے حاصل کرنے کی تصدیق صدر پربووو سوبیانتو کے ستمبر میں چین کے سرکاری دورے کے چند ہفتے بعد سامنے آئی، جہاں دفاعی تعاون اور 42 جے-10 ’ ویگرس ڈریگن’ طیاروں کی ممکنہ خریداری پر چینی قیادت کے ساتھ بات چیت ہوئی تھی۔
ڈپٹی ایئر فورس چیف، ایئر مارشل ٹیڈی رزالیہادی نے اس سے قبل تسلیم کیا تھا کہ یہ منصوبہ وزارتِ دفاع کے تحت ہے، جبکہ فضائیہ کی تکنیکی جائزہ ٹیم ابھی اپنی رپورٹ کو حتمی شکل دے رہی ہے۔
وزارتِ دفاع کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل فریگا ویناس انکریوانگ نے کہا کہ ’جے-10 کا معاملہ اب بھی زیرِ غور ہے، کیونکہ ہم ان پلیٹ فارمز کا جائزہ لے رہے ہیں، جو ہماری ‘پریسائی تریسولا نوسانتارا’ دفاعی حکمتِ عملی کو بہتر طور پر سہارا دے سکیں۔‘
یہ حکمتِ عملی سابق وزیرِ دفاع پربووو کے دور میں متعارف کرائی گئی تھی اور اب سجافری کے تحت جاری ہے۔
ڈپٹی وزیرِ دفاع ڈونی ارموان توافانتو نے رواں سال کے آغاز میں کہا تھا کہ انڈونیشیا اپنے دفاعی اثاثے آزادانہ طور پر حاصل کرنے کا حق رکھتا ہے، جو ملک کی غیرجانبدار خارجہ پالیسی کا حصہ ہے۔
انہوں نے کہا تھا کہ ’ہم ایک غیرجانبدار ملک ہیں، کسی فوجی اتحاد کا حصہ نہیں، یہی ہمیں یہ لچک دیتا ہے کہ ہم کسی بھی ملک بشمول چین سے اسلحہ خرید سکیں، بشرطیکہ وہ ہماری دفاعی ضروریات پوری کرے۔‘
ڈونی ارموان نے تصدیق کی کہ جے-10 طیاروں کی پیشکش سب سے پہلے مئی 2025 میں چین کے ایئر شو کے موقع پر سامنے آئی تھی، جب ایئر فورس چیف ایئر چیف مارشل ایم. ٹونی ہر جونو نے شو میں شرکت کی تھی، تاہم انہوں نے زور دیا کہ اُس وقت ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ پاک فضائیہ کے پاس جے 10 سی لڑاکا طیارے موجود ہیں، جو رپورٹس کے مطابق رواں سال مئی میں بھارت کے خلاف ہونے والی چار روزہ جنگ میں استعمال کیے گئے تھے اور ان طیاروں نے رافیل سمیت 6 بھارتی طیارے مار گرائے تھے۔












لائیو ٹی وی