• KHI: Partly Cloudy 26.5°C
  • LHR: Partly Cloudy 23°C
  • ISB: Partly Cloudy 21.8°C
  • KHI: Partly Cloudy 26.5°C
  • LHR: Partly Cloudy 23°C
  • ISB: Partly Cloudy 21.8°C

کراچی میں انتہائی خستہ عمارتوں کو گرانے کی مہم کا آغاز

شائع October 16, 2025
— فائل فوٹو: ڈان
— فائل فوٹو: ڈان

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) نے کراچی میں خستہ حال اور غیرمحفوظ عمارتوں کو منہدم کرنے کی مہم شروع کر دی۔

واضح رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں ایس بی سی اے نے صوبے بھر میں مخدوش عمارتوں کا سروے شروع کیا تھا اور سندھ بھر میں تمام غیر قانونی تعمیرات کو فوری طور پر گرانے کے احکامات جاری کیے تھے، اس آپریشن کا مقصد عوامی تحفظ کو یقینی بنانا اور صوبے کے شہری علاقوں میں طویل عرصے سے درکار احتساب کو یقینی بنانا ہے۔

آج جاری پریس ریلیز کے مطابق وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ کی ہدایت پر ایس بی سی اے کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی نگرانی میں یہ مہم شروع کی گئی ہے۔

پریس ریلیز میں اتھارٹی کے ترجمان کے حوالے سے کہا گیا کہ لیاری کے علاقے نوآباد اور آگرہ تاج میں آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے، جہاں انتہائی خطرناک عمارتوں کو ایس بی سی اے کی ٹیموں کی جانب سے محفوظ طریقے سے گرایا جا رہا ہے۔

تازہ ترین ایس بی سی اے رپورٹ کے مطابق کراچی میں مجموعی طور پر 540 عمارتوں کو خطرناک قرار دیا گیا ہے، جن میں سے 59 کو ’انتہائی خطرناک عمارتوں‘ کی کیٹیگری میں شامل کیا گیا ہے۔

پریس ریلیز میں مزید کہا گیا کہ جن عمارتوں کو گرانا ہے، انہیں پہلے ہی خالی کرا لیا گیا ہے، اور مہندم کرنے کا عمل ضلعی انتظامیہ کی مدد سے مرحلہ وار مکمل کیا جا رہا ہے۔

مزمل حسین ہالیپوٹو نے کہا کہ ہماری اولین ترجیح یہ ہے کہ کوئی شہری کسی عمارت کے نیچے اپنی جان نہ گنوائے، یہ مہم ایک محفوظ کراچی کی سمت میں ایک اہم قدم ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ غیر قانونی اور غیر مجاز تعمیرات کے خلاف زیرو ٹالرینس پالیسی نافذ کی جا رہی ہے، جو عمارتیں گرانے کی مہم کے ساتھ جاری ہے۔

واضح رہے کہ جولائی میں صوبے بھر میں خطرناک عمارتوں اور غیر قانونی تعمیرات سے متعلق قائم کردہ ایک کمیٹی کو بتایا گیا تھا کہ کراچی کی 56 انتہائی خطرناک عمارتوں سے تقریباً 300 خاندانوں کو منتقل کر دیا گیا ہے اور انہیں تین ماہ کے لیے ماہانہ 30 ہزار روپے کرایہ کی مد میں امداد دی جا رہی ہے۔

اُس وقت کے وزیر بلدیات سعید غنی نے بتایا تھا کہ سندھ بھر میں خطرناک قرار دی گئی 740 عمارتوں (588 کراچی میں ہیں) کا ایک نیا جامع سروے سرکاری و نجی اداروں کے اشتراک سے کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے انکشاف کیا تھا کہ کراچی کی 61 انتہائی خطرناک عمارتوں میں سے 56 کا دوبارہ سروے مکمل ہو چکا ہے اور انہیں خالی کرا لیا گیا ہے۔

کارٹون

کارٹون : 26 مارچ 2026
کارٹون : 25 مارچ 2026