امریکی صدر کی جانب سے سزا میں تخفیف کے بعد بدنام سابق ریپبلکن قانون ساز جیل سے رہا
امریکی صدر کی جانب سے سزا میں تخفیف کیے جانے کے بعد بدنام سابق ریپبلکن قانون ساز جارج سینٹوس کو جیل سے رہا کر دیا گیا ہے، وہ وائر فراڈ اور شناختی چوری کے جرم میں سزا یافتہ تھے۔
ڈان اخبار میں شائع فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا سائٹ ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک طویل پوسٹ میں لکھا کہ جارج کو طویل عرصہ تنہائی میں رکھا گیا اور تمام اطلاعات کے مطابق اس کے ساتھ انتہائی برا سلوک کیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اور کم از کم سینٹوس میں اتنی ہمت، یقین اور ذہانت تھی کہ اس نے ہمیشہ ریپبلکن کے حق میں ووٹ دیا۔
ان کے وکیل جوزف مرے نے بتایا کہ سینٹوس فیئرٹن فیڈرل کریکشنل انسٹی ٹیوٹ (نیو جرسی) سے رہا ہوئے اور اپنے گھر کی راہ پر ہیں، مرے نے سینٹوس کے ’ایکس‘ اکاؤنٹ پر ایک بیان میں کہا کہ ’خدا صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کو برکت دے، وہ امریکی تاریخ کے سب سے عظیم صدر ہیں!‘۔
صدر کی طرف سے دی گئی سزا میں تخفیف ایک معافی سے مختلف ہوتی ہے، اس میں اصل سزا برقرار رہتی ہے، مگر قید یا سزا کی مدت کم کر دی جاتی ہے۔
37 سالہ سابق رکنِ کانگریس، جو نیویارک سے منتخب ہوئے تھے، جولائی میں جیل گئے تھے، جب اپریل میں انہیں 7 سال اور تین ماہ قید کی سزا سنائی گئی تھی، ان پر الزام تھا کہ انہوں نے انتخابی مہم کے عطیہ دہندگان کی شناختیں چُرا کر ان کے کریڈٹ کارڈز استعمال کیے، اور دیگر الزامات بھی شامل تھے۔
کانگریس کی اخلاقی کمیٹی کی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ انہوں نے چوری کیے گئے پیسوں کو بوٹوکس کے علاج، پورن ویب سائٹ، لگژری اطالوی سامان اور ہیپٹن اور لاس ویگاس کی چھٹیوں پر خرچ کیا۔
سینٹوس کی سوانحی کہانیاں بھی عجیب و غریب تھیں، انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ گولڈمین ساکس میں کام کر چکے ہیں، وہ یہودی ہیں، اور کالج میں والی بال کے اسٹار رہے ہیں۔
انہیں 2023 میں اپنے انتخاب کے صرف ایک سال بعد ایوانِ نمائندگان (ہاؤس) سے نکال دیا گیا تھا۔
امریکی خانہ جنگی کے بعد یہ صرف تیسرا موقع تھا، جب کسی قانون ساز کو ایوان سے نکالا گیا ہو، جو عام طور پر غداروں یا سزا یافتہ مجرموں کے لیے مخصوص سزا تھی۔












لائیو ٹی وی