• KHI: Partly Cloudy 26.5°C
  • LHR: Partly Cloudy 23°C
  • ISB: Partly Cloudy 21.8°C
  • KHI: Partly Cloudy 26.5°C
  • LHR: Partly Cloudy 23°C
  • ISB: Partly Cloudy 21.8°C

مائگرین سے خواتین کیوں زیادہ متاثر ہوتی ہیں؟

شائع October 20, 2025
—فوٹو: شٹر اسٹاک
—فوٹو: شٹر اسٹاک

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ خواتین میں ہارمونز اور خصوصی طور پر (ایسٹروجن اور پروجیسٹرون) کی سطح بڑھنے سے مائگرین کا زیادہ شکار ہوتی ہیں اور ان میں مذکورہ مرض کی تعداد مردوں کے مقابلے تین گنا سے بھی زیادہ ہے۔

مائگرین کو عام الفاظ میں آدھے سر کا درد بھی کہا جاتا ہے (ضروری نہیں کہ یہ درد فقط آدھے سر میں ہی ہو) عام طور پر وقفے وقفے سے ہونے والے سر درد کو بھی مائگرین کہتے ہیں۔

مائگرین میں سر کے درد کے ساتھ ساتھ دوسری علامات مثلاً متلی، قے اور وقتی طور پر بینائی کا متاثر ہونا یا تیز دھوپ، تیز روشنی، تیز آواز، کسی خاص خوشبو یا بدبو وغیرہ سے الجھن شامل ہے جوکہ آپ کی معمول کی زندگی کو متاثر بلکہ بےکار کرسکتی ہیں۔

ماہرین کہتے ہیں کہ مائگرین صرف شدید سر درد نہیں بلکہ ایک پیچیدہ دماغی حالت ہے جو حواس (دیکھنے، سننے، سونگھنے، چھونے اور چکھنے) سے متعلق معلومات کو غیر معمولی طور پر پروسیس کرتی ہے۔

مائگرین والے لوگوں کو روشنی، آواز، بو، چھونے، یا ذائقے سے پریشانی ہو سکتی ہے، اس کے علاوہ، سر میں دھڑکن جیسا درد، چکر، تھکاوٹ اور توجہ دینے میں مشکل جیسی علامات ہوتی ہیں۔

عام طورپر مائگرین کا دورہ 4 گھنٹوں سے 3 دن تک یا اس سے بھی زیادہ رہ سکتا ہے۔

طبی ویب سائٹ میں شائع رپورٹ کے مطابق مائگرین کا مرض مردوں کے مقابلے خواتین میں زیادہ ہوتا ہے لیکن بچپن میں لڑکوں اور لڑکیوں میں مائگرین کی شرح برابر ہوتی ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ بلوغت کے بعد خواتین میں مائگرین 2 سے 3 گنا زیادہ ہوتا ہے، آسٹریلیا کی ایک تحقیق کے مطابق ہر 3 میں سے 1 خاتون جبکہ مردوں میں یہ 15 میں سے 1 کو ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق بلوغت کے بعد خواتین کے جسم میں ہارمونز (ایسٹروجن اور پروجیسٹرون) کی سطح بڑھ جاتی ہے جو مائگرین کو متحرک کر سکتی ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ خاص طور پر جب مذکورہ ہارمونز کم ہوتے ہیں، خصوصی طور پر ماہواری سے پہلے، حمل کے پہلے تین مہینوں کے دوران یا پھر زچگی کے بعد خواتین میں مائگرین کے دورے بڑھ سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جب ایسٹروجن کی سطح اچانک کم ہوتی ہے تو یہ دماغ میں ایک خاص عمل (cortical spreading depression) کو متحرک کرتی ہے جو مائگرین کا سبب بنتا ہے۔

ماہرین جانتے ہیں کہ حمل کے دوران خواتین میں ہارمونز میں تیزی سے تبدیلی ہوتی ہے، خاص طور پر پہلے تین مہینوں میں، جس سے ان میں مائگرین بڑھ سکتا ہے جب کہ زچگی کے بعد بھی ہارمونز کی سطح اچانک گرنے سے بھی دورے بڑھ جاتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق مائگرین خاندانوں میں خاص طور پر ماں سے بچوں میں منتقل ہو سکتا ہے کیونکہ ماں سے مائٹوکونڈریا (خلیوں میں توانائی بنانے والے حصے) وراثت میں ملتے ہیں۔

علاوہ ازیں تناؤ، نیند کی کمی، یا بھوک کی وجہ سے مائگرین بڑھ سکتا ہے جب کہ خواتین میں تناؤ، اضطراب، اور ڈپریشن کا مائگرین سے گہرا تعلق ہوتا ہے۔

کارٹون

کارٹون : 26 مارچ 2026
کارٹون : 25 مارچ 2026