ٹرمپ اور ولادیمیر پیوٹن کے درمیان فوری ملاقات کا کوئی امکان نہیں، وائٹ ہاؤس
وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان فوری ملاقات کا کوئی امکان نہیں ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے آج کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان ’مستقبل قریب‘ میں ملاقات کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔
یہ بیان ٹرمپ کی جانب سے اپنے روسی ہم منصب کے ساتھ ایک اور سربراہی ملاقات کا عندیہ دینے کے چند روز بعد سامنے آیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے عہدیدار نے یہ بھی کہا کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے درمیان گزشتہ روز ہونے والی ٹیلی فونک کال تعمیری رہی۔
تاہم وائٹ ہاؤس نے کہا کہ دونوں وزرائے خارجہ کا بھی ذاتی طور پر ملنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔
واضح رہے کہ چار روز قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ ’ مثبت’ ٹیلی فونک بات چیت کے بعد، یوکرین جنگ کے حوالے سے دوسری سربراہی ملاقات پر رضامندی ظاہر کی تھی۔
ملاقات کی تاریخ ابھی طے نہیں ہوئی، لیکن ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ کہ یہ ملاقات بڈاپسٹ ( ہنگری ) میں ہوگی۔
امریکی صدر نے دو گھنٹے سے زیادہ جاری رہنے والی اس گفتگو کے بعد لکھا، ’ میرا ماننا ہے کہ آج کی ٹیلی فون گفتگو میں بہت بڑی پیش رفت ہوئی ہے۔’
واضح رہے کہ اگست میں الاسکا میں ہونے والی ان کی پچھلی سربراہی ملاقات، ٹرمپ کے لیے کسی خاص سفارتی پیش رفت کے بغیر ختم ہوگئی تھی۔ پیوٹن کے امور خارجہ کے مشیر یوری اوشاکوف نے کہا کہ اس کال کا آغاز روسی صدر نے کیا تھا، جسے انہوں نے ’ بہت کھلی اور بھروسے پر مبنی’ قرار دیا۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب یوکرینی صدر وولودمیر زیلنسکی مزید فوجی امداد کے لیے دباؤ ڈالنے کی غرض سے وائٹ ہاؤس جا رہے تھے، جس میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے ٹوماہاک میزائلوں کا حصول بھی شامل تھا۔












لائیو ٹی وی