• KHI: Rain 23.6°C
  • LHR: Partly Cloudy 18.9°C
  • ISB: Partly Cloudy 15.7°C
  • KHI: Rain 23.6°C
  • LHR: Partly Cloudy 18.9°C
  • ISB: Partly Cloudy 15.7°C

صحافی امتیاز میر قتل کیس: کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے 4 افراد گرفتار

شائع October 27, 2025
— فوٹو: ایکس / امتیاز میر
— فوٹو: ایکس / امتیاز میر

حکومت سندھ اور پولیس کے مطابق صحافی اور اینکر پرسن امتیاز میر کے قتل کیس میں ایک کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے 4 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہے۔

واضح رہے کہ میٹرو نیوز ٹیلی ویژن سے وابستہ امتیاز میر گزشتہ ماہ اپنے بڑے بھائی کی گاڑی میں گھر جا رہے تھے، جب نیشنل ہائی وے پر 2 موٹر سائیکلوں پر سوار 6 حملہ آوروں نے ان کی گاڑی پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی، اینکر پرسن کو متعدد گولیاں لگیں اور انہیں ایک نجی ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے تھے۔

صحافیوں نے پولیس کی جانب سے بروقت کارروائی نہ کرنے پر شدید احتجاج کیا اور حملہ آوروں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا تھا، وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، ان کی کابینہ کے کئی اراکین اور مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا تھا، وزیرِ اعلیٰ نے پولیس کے انسپکٹر جنرل کو فوری طور پر قاتلوں کی گرفتاری کی ہدایت کی تھی۔

وزیرِ داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار، آئی جی غلام نبی میمن اور ایڈیشنل آئی جی جاوید عالم اوڈھو نے آج کیس سے متعلق پیش رفت پر ایک مشترکہ پریس کانفرنس کی۔

صوبائی وزیرِ داخلہ لنجار نے کہا کہ صحافی امتیاز میر کے قتل میں ملوث 4 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، مزید بتایا کہ یہ کارروائی کراچی پولیس اور وفاقی تحقیقاتی ادارے نے مشترکہ طور پر کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’ملزمان ایک کالعدم تنظیم سے تعلق رکھتے ہیں جو بیرونِ ملک سے ہدایات حاصل کرتے تھے۔

ضیا لنجار نے اسے قتل کیس میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا اور بتایا کہ حملے میں استعمال ہونے والی موٹر سائیکل بھی برآمد کر لی گئی ہے۔

صوبائی وزیرِ داخلہ نے کہا کہ امتیاز میر نے ایک انٹرویو دیا تھا، جس میں انہوں نے ’اسرائیل کے حق میں‘ گفتگو کی تھی، اور ایسا لگتا ہے کہ یہی قتل کی ’اصل وجہ‘ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس کیس میں کالعدم زینبیون بریگیڈ کی ایک ذیلی تنظیم ملوث ہے۔

ضیا لنجار نے مزید کہا کہ مرکزی ملزم ایک پڑوسی ملک میں مقیم ہے، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ کس ملک کا حوالہ دے رہے ہیں، وزیرِ داخلہ نے الزام عائد کیا کہ وہ پڑوسی ملک ’پاکستان میں فنڈنگ کرکے انتشار پھیلا رہا ہے۔‘

امتیاز میر کے بھائی ریاض علی نے سعود آباد پولیس اسٹیشن میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 34 (مشترکہ نیت) اور 324 (اقدامِ قتل) کے تحت مقدمہ درج کرایا تھا، جس میں ایک شخص اور اس کے بیٹوں کو نامزد کیا گیا تھا۔

مدعی کے مطابق حملہ عمر دراز اور اس کے دو بیٹوں (احمد بخش اور آفتاب) کے کہنے پر کیا گیا، جن کے ساتھ ان کی جیکب آباد میں آبائی علاقے میں زمین کا تنازع چل رہا تھا۔

سعود آباد تھانے کے ایس ایچ او عتیق الرحمن نے ڈان کو بتایا تھا کہ دونوں فریق ایک ہی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں، انہوں نے یاد دلایا تھا کہ مرحوم اینکر پرسن نے 2023 میں انہی ملزمان کے خلاف شاہ لطیف ٹاؤن پولیس اسٹیشن میں بھی ایف آئی آر درج کرائی تھی۔

دولتِ مشترکہ ہیومن رائٹس انیشیٹیو (سی ایچ آر آئی) کی گزشتہ ماہ شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق 2006 سے 2023 کے دوران پاکستان میں 87 صحافی قتل ہوئے، جن میں سے صرف دو کیسز ’حل‘ ہوئے تھے۔

کارٹون

کارٹون : 25 مارچ 2026
کارٹون : 23 مارچ 2026