• KHI: Clear 23.7°C
  • LHR: Partly Cloudy 14.8°C
  • ISB: Partly Cloudy 11.7°C
  • KHI: Clear 23.7°C
  • LHR: Partly Cloudy 14.8°C
  • ISB: Partly Cloudy 11.7°C

یمن تنازع کے پُرامن حل کی حمایت کرتے ہیں، دفتر خارجہ

شائع January 1, 2026 اپ ڈیٹ January 1, 2026 03:32pm
پاکستان بھارت سے سندھ طاس معاہدے پر مکمل عملدرآمد کا مطالبہ کرتا ہے۔ فوٹو ڈان نیوذ
پاکستان بھارت سے سندھ طاس معاہدے پر مکمل عملدرآمد کا مطالبہ کرتا ہے۔ فوٹو ڈان نیوذ

دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان یمن کے تنازع کے پُرامن حل کی حمایت کرتا ہے اور خطے میں استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششوں کا خیرمقدم کرتا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان صورتحال کو معمول پر لانے کے لیے ہونے والی علاقائی کاوشوں کو اہم سمجھتا ہے اور تمام فریقوں کے درمیان مذاکرات کے ذریعے مسئلے کے حل کا خواہاں ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ نئے سال کے آغاز پر پاکستان اور بھارت کے درمیان قیدیوں کی فہرستوں کا باقاعدہ تبادلہ کیا گیا۔

طاہر اندرابی کے مطابق پاکستان میں موجود 257 بھارتی قیدیوں کی فہرست بھارت کے حوالے کی گئی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان یہ تبادلہ ہر سال دو مرتبہ، یکم جنوری اور یکم جولائی کو کیا جاتا ہے، جو 2008 کے قونصلر رسائی معاہدے کے تحت عمل میں آتا ہے۔ اسی طرح نیوکلیئر تنصیبات کی فہرستوں کا سالانہ تبادلہ بھی یکم جنوری کو کیا جاتا ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد کے درمیان حال ہی میں ٹیلی فونک رابطہ ہوا، جس میں دوطرفہ تعلقات اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ اس موقع پر علاقائی امور پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔

ترجمان کے مطابق نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا سعودی وزیر خارجہ سے بھی رابطہ ہوا، جس میں باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگو ہوئی۔

دفتر خارجہ نے مزید بتایا کہ متحدہ عرب امارات کے صدر نے حال ہی میں پاکستان کا سرکاری دورہ کیا، جس دوران دوطرفہ تعلقات اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بات چیت ہوئی۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان برادر اسلامی ممالک کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کو اپنی خارجہ پالیسی کا اہم حصہ سمجھتا ہے۔

’بھارتی وزیر خارجہ سے مصافحہ، ایاز صادق وضاحت دے چکے‘

ڈھاکا میں اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اور بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کے درمیان مصافحے کی تصویر سے متعلق سوال پر طاہر اندرابی نے کہا کہ انہوں نے یہ تصویر دیکھی ہے اور اس معاملے پر ایاز صادق خود ایک ٹی وی چینل پر وضاحت بھی دے چکے ہیں۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ اس بیان میں وہ مزید کوئی اضافہ یا کمی نہیں کر سکتے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے چین سے متعلق پاکستان کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ پاکستان تائیوان سمیت چین کے تمام بنیادی اور حساس امور پر چین کی مکمل حمایت کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خطے میں موجودہ حالات کے تناظر میں ایسی سرگرمیوں اور اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو کشیدگی میں اضافے کا باعث بنیں۔

بھارت سے متعلق سوالات کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ بھارت کی جانب سے دولہتی اسٹیٹ پراجیکٹ سے متعلق رپورٹس دیکھی گئی ہیں اور پاکستان اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت سے سندھ طاس معاہدے پر مکمل عملدرآمد کا مطالبہ کرتا ہے۔

ترجمان کے مطابق پاکستانی انڈس واٹر کمشنر نے اپنے بھارتی ہم منصب کو متعدد سوالات ارسال کیے ہیں اور پاکستان ان سوالات کے بروقت اور تسلی بخش جواب کا منتظر ہے۔

افغان علما و قیادت کے بیانات مثبت پیش رفت

افغانستان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ افغان علما کی جانب سے جاری کیا گیا فتویٰ اور افغان قیادت کے حالیہ بیانات مثبت پیش رفت ہیں، تاہم پاکستان اب بھی افغانستان کی جانب سے عملی ضمانتوں کا انتظار کر رہا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ افغان سرزمین کسی بھی صورت پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔

ترجمان نے بتایا کہ پاکستان کی جانب سے افغانستان کے لیے انسانی امداد کا ایک قافلہ بھیجا گیا تھا، تاہم افغان حکام نے وزیراعظم کے اعلان کردہ اس امدادی قافلے کو روک لیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی قوانین اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کے تحت اپنا کردار ادا کرتا رہے گا اور انسانی بنیادوں پر امداد کی فراہمی اس پالیسی کا حصہ ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ وزارت خارجہ مکمل آزادی کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دے رہی ہے اور پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی مقصد علاقائی امن، باہمی احترام اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان تمام متعلقہ فریقین کے ساتھ بات چیت اور سفارتکاری کے ذریعے مسائل کے حل پر یقین رکھتا ہے۔

1000 حروف

معزز قارئین، ہمارے کمنٹس سیکشن پر بعض تکنیکی امور انجام دیے جارہے ہیں، بہت جلد اس سیکشن کو آپ کے لیے بحال کردیا جائے گا۔

کارٹون

کارٹون : 1 جنوری 2026
کارٹون : 31 دسمبر 2025