• KHI: Clear 23.9°C
  • LHR: Partly Cloudy 16.3°C
  • ISB: Partly Cloudy 12.3°C
  • KHI: Clear 23.9°C
  • LHR: Partly Cloudy 16.3°C
  • ISB: Partly Cloudy 12.3°C

شہزاد اکبر کا ایک ہفتے میں خود پر دوسری مرتبہ سنگین حملے کا الزام

شائع 02 جنوری 2026 02:47pm
31 دسمبر کی شام میری رہائش کو کیمبرج شائر، انگلینڈ میں ایک جان بوجھ کر اور ہدف شدہ مجرمانہ حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ فوٹو: ڈان نیوز
31 دسمبر کی شام میری رہائش کو کیمبرج شائر، انگلینڈ میں ایک جان بوجھ کر اور ہدف شدہ مجرمانہ حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ فوٹو: ڈان نیوز

پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شہزاد اکبر نے الزام عائد کیا ہے کہ انگلینڈ میں ان کی املاک کو نشانہ بنا کر نقصان پہنچایا گیا ہے۔

سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ میں انہوں نے لکھا کہ ’ 31 دسمبر کی شام میری رہائش کو کیمبرج شائر، انگلینڈ میں ایک جان بوجھ کر اور ہدف شدہ مجرمانہ حملے کا نشانہ بنایا گیا جس کا مقصد سنگین نقصان پہنچانا تھا۔ ملزمان نے جائیداد کو مجرمانہ طور پر نقصان پہنچایا اور اسے آگ لگانے کی کوشش کی، جس سے فوری طور پر جانیں خطرے میں پڑ گئیں۔‘

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ’یہ ایک ہفتے کے اندر میرے گھر، مجھ اور میرے خاندان پر دوسرا سنگین حملہ ہے، جو واضح طور پر بدنیتی کے ارادے سے کیا گیا۔‘

ان کا الزام تھا کہ ’یہ الگ تھلگ یا بے ترتیب واقعات نہیں ہیں۔ مجھے 24 دسمبر کو ایک ہدف شدہ حملے میں جسمانی طور پر مارا گیا، جس کے نتیجے میں مجھے شدید چوٹیں آئیں۔‘

شہزاد اکبر نے تفصیلی پوسٹ میں بتایا کہ ’برطانوی حکام دونوں واقعات کی فعال تحقیقات کر رہے ہیں، جنہیں ہدفی حملے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔‘

انہوں نے برطانوی حکام سے اپیل کی کہ قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے تمام دستیاب اختیارات اور وسائل استعمال کریں تاکہ ان کا ملک سب کے لیے محفوظ رہے، ’خاص طور پر سیاسی مخالفین اور ان افراد کے لیے جو ظلم و ستم کے خطرے میں ہیں۔‘

واضح رہے کہ مرزا شہزاد اکبر سابق وزیر اعظم عمران خان کے دور حکومت میں مشیر برائے احتساب اور امور داخلہ تھے اور اُن کے خلاف متعدد مقدمات پاکستانی عدالتوں میں زیر التوا ہیں۔

یاد رہے کہ پاکستان نے برطانیہ سے باضابطہ طور پر دو پاکستانی شہریوں عادل راجا اور مرزا شہزاد اکبر کی حوالگی کا مطالبہ کر رکھا ہے۔ وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ برطانوی ہائی کمشنر کو ’وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے پروپیگنڈا کرنے والے پاکستانی شہریوں کے خلاف ٹھوس شواہد فراہم کیے۔‘

واضح رہے کہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان غیرقانونی پناہ گزینوں اور مجرموں کی حوالگی کا معاہدہ تو موجود ہے لیکن یہ کوئی باقاعدہ ’ایکسٹراڈیشن ٹریٹی‘ نہیں۔ سنہ 2022 میں پاکستان اور برطانیہ نے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت مجرموں اور غیرقانونی پناہ گزینوں کی برطانیہ سے پاکستان حوالگی کی جا سکتی ہے۔ تاہم برطانیہ میں قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی شخص کی برطانیہ سے باقاعدہ پاکستان حوالگی ایک پیچیدہ معاملہ ہے۔

1000 حروف

معزز قارئین، ہمارے کمنٹس سیکشن پر بعض تکنیکی امور انجام دیے جارہے ہیں، بہت جلد اس سیکشن کو آپ کے لیے بحال کردیا جائے گا۔

کارٹون

کارٹون : 1 جنوری 2026
کارٹون : 31 دسمبر 2025