کراچی میں مائی کلاچی روڈ سے چار افراد کی تشدد زدہ لاشیں برآمد

شائع January 3, 2026
فوٹو: ڈان نیوز
فوٹو: ڈان نیوز

کراچی میں مائی کلاچی روڈ پر ایک گڑھے سے چار افراد کی تشدد زدہ لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔

پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے ہفتے کے روز بتایا کہ مائی کلاچی روڈ پر ایک گڑھے سے ملنے والے چار افراد کی بوسیدہ لاشوں پر تشدد کے متعدد واضح نشانات موجود ہیں۔

پولیس کے مطابق یہ لاشیں جمعے کو ڈاکس تھانے کی حدود میں جھاڑیوں سے گھری ایک جگہ سے برآمد ہوئیں، جن میں دو مرد اور دو خواتین شامل ہیں۔

ڈاکٹر سمیہ سید نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مقتولین کی عمریں 10 سے 40 سال کے درمیان ہیں اور لاشیں چار سے پانچ دن پرانی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ لاشوں کو سول اسپتال منتقل کیا گیا جہاں جمعے کی رات دیر گئے میڈیکو لیگل کارروائی مکمل کی گئی۔

ان کے مطابق ایک مقتول لڑکا، جس کی عمر تقریباً 13 سے 14 سال تھی، کے سر، چہرے اور گردن پر متعدد زخم تھے۔ ایک اور لڑکا، جس کی عمر لگ بھگ 10 سال تھی، کے گلے پر چوٹوں کے نشانات پائے گئے۔

تیسری مقتول، تقریباً 14 سے 15 سال کی لڑکی، کے بھی سر، چہرے اور گردن پر متعدد زخم تھے، جبکہ چوتھی مقتولہ، تقریباً 40 سالہ خاتون، کے سر کی ہڈی پر شدید چوٹیں موجود تھیں۔

ڈاکٹر سمیہ کے مطابق نشے اور جنسی تشدد کی جانچ کے لیے تمام متعلقہ نمونے حاصل کر لیے گئے ہیں۔

دوسری جانب ساؤتھ زون کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس سید اسد رضا نے بتایا کہ تاحال مقتولین کی شناخت نہیں ہو سکی اور لاشوں کو شناخت کے لیے ایدھی مردہ خانے منتقل کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جس مقام سے لاشیں ملی ہیں وہاں سے کوئی سی سی ٹی وی فوٹیج دستیاب نہیں ہو سکی۔

ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک مقدمہ درج نہیں کیا گیا کیونکہ تفتیش کار مقتولین کے لواحقین کے سامنے آنے اور لاشیں شناخت کرنے کا انتظار کر رہے ہیں۔

ڈی آئی جی کے مطابق اگر کوئی سامنے نہ آیا تو ریاست کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ بظاہر زخم کلہاڑی یا کسی تیز دھار ہتھیار سے لگائے گئے محسوس ہوتے ہیں، تاہم موت کی حتمی وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ مکمل ہونے کے بعد ہی معلوم ہو سکے گی۔

سید اسد رضا کا کہنا تھا کہ چونکہ تین مقتولین بچے اور چوتھی ایک چالیس سالہ خاتون ہیں، اس لیے امکان ہے کہ یہ سب ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے ہوں۔ ان کے مطابق اس ہولناک قتل کا تعلق نام نہاد غیرت کے نام پر قتل سے بھی ہو سکتا ہے۔

1000 حروف

معزز قارئین، ہمارے کمنٹس سیکشن پر بعض تکنیکی امور انجام دیے جارہے ہیں، بہت جلد اس سیکشن کو آپ کے لیے بحال کردیا جائے گا۔

کارٹون

کارٹون : 4 جنوری 2026
کارٹون : 3 جنوری 2026