عمران خان سے ملاقاتوں کی اجازت تک حکومت سے کوئی مذاکرات نہیں ہوسکتے، علی ظفر
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ جب تک عمران خان سے ملاقاتوں کی اجازت نہیں دی جاتی، حکومت کے ساتھ کسی قسم کی بات چیت نہیں ہوسکتی۔
انہوں نے یہ بات لاہور میں اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان (ٹی ٹی اے پی) کے وفد کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے کہی، جو اپوزیشن کی اسٹریٹ موومنٹ کے تحت سیاسی اور سماجی اجتماعات کے لیے شہر کے تین روزہ دورے پر ہے۔
اپوزیشن اتحاد نے ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں بتایا کہ ٹی ٹی اے پی کے سربراہ محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس جمعے کو ایڈووکیٹ چوہدری غلام عباس کی رہائش گاہ پر ہونے والے اجتماع میں پہنچے، جہاں صحافیوں، سیاسی رہنماؤں اور پی ٹی آئی کارکنان کی بڑی تعداد موجود تھی۔
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بیرسٹر علی ظفر نے ٹی ٹی اے پی کے وفد کو لاہور آمد پر خوش آمدید کہا۔
انہوں نے ٹی ٹی اے پی پر زور دیا کہ وہ اپنے پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے عمران خان سے ملاقات کی اجازت کے لیے دباؤ ڈالے، جن سے حالیہ ہفتوں میں کسی کو ملنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان سے ملاقاتوں کی اجازت دیے بغیر کوئی بات چیت یا مذاکرات شروع نہیں ہو سکتے۔ بیرسٹر علی ظفر نے ٹی ٹی اے پی کو لاہور میں پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنوں کی جانب سے مکمل تعاون اور حمایت کی یقین دہانی بھی کرائی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت سب سے اہم ترجیح پاکستان کی خودمختاری کا تحفظ ہے اور اسی تناظر میں عمران خان کی رہائی وقت کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت ایسا کوئی قدم نہیں اٹھا سکتی جو پاکستان کے مستقبل کو نقصان پہنچائے یا ملکی خودمختاری کے خلاف ہو۔
بیرسٹر علی ظفر نے ٹی ٹی اے پی کی قیادت کا دورے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو یہاں پہنچنے میں جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، میں کہنا چاہتا ہوں کہ ہمیں یہاں روزانہ یہی مشکلات برداشت کرنی پڑتی ہیں۔
جمعرات کو ٹی ٹی اے پی کے قافلے کی قیادت کرتے ہوئے اسلام آباد سے لاہور پہنچنے والے محمود خان اچکزئی نے قوم اور سیاسی جماعتوں سے اپیل کی تھی کہ وہ 8 فروری کے انتخابات کی دوسری برسی کے موقع پر پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کی حمایت کریں اور کہا تھا کہ یہ احتجاج حکومت سے مذاکرات کی راہ بھی ہموار کرے گا۔
پی ٹی آئی نے پنجاب پولیس پر بھی اپنے حامیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا الزام عائد کیا تھا اور کہا تھا کہ صمد اچکزئی کے دورے سے قبل رات گئے چھاپوں میں کارکنوں کو گرفتار کیا گیا جبکہ قافلے پر صوبائی دارالحکومت کی جانب آتے ہوئے نقاب پوش افراد نے حملہ بھی کیا۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ایک بھرپور احتجاج سے حکومت پر دباؤ بڑھے گا کہ وہ اپوزیشن سے مذاکرات کرے اور عمران خان کو رہا کرے۔












لائیو ٹی وی