شاہ عبدالطیف بھٹائی کا عُرس

شائع December 30, 2012 اپ ڈیٹ December 30, 2012 03:01pm

سسی پلیجو شاہ لطیف کانفرنس کے موقع پر ان پر شائع کتابوں کی رونمائی کرتے ہوئے۔ تصویریوسف ناگوری
سسئی پلیجو شاہ لطیف کانفرنس کے موقع پر ان پر شائع کتابوں کی رونمائی کرتے ہوئے۔ تصویریوسف ناگوری

بھٹ شاہ: سندھ دھرتی کے عظیم بزرگ، صوفی شاعر اور تاریخ دان، شاہ عبدالطیف بھٹائی کے سالانہ عرس کے موقع پر بھٹ شاہ میں منعقدہ عالمی ادبی کانفرنس میں محققین نے کہا کہ شاہ عبداللطیف بھٹائی نے اپنی شاعری میں دنیا بھر کے قوموں اور مذاہب کو ایک ساتھ رکھنے اور برداشت کا پیغام دیا ۔

سندھ کے عظیم صوفی شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائی کے میلے کے دوسرے دن کانفرنس کا انتظام صوبائی محکمہ ثقافت نے کیا تھا۔

اس موقع پر صوبائی وزیر ثقافت سسئی پلیجو نے بتایا کہ بھٹائی کی شاعری اور فلسفے کو راجستھانی، جاپانی، جرمن اور دیگر زبانوں میں ترجمے کرائے جائیں گے۔

اس موقع پر ڈاکٹر غلام علی الانا نے کہا کہ بھٹائی کی شاعری پر خواجہ غلام فرید کے کلام کا بہت اثر ہے۔

بھارت سے آنیوالے مہمان اسکالر ہیرو ٹھکر نے کہا کہ بھٹائی کی شاعری روح میں سما جاتی ہے اور ہم اسکو گیتا کے برابر اہمیت دیتے ہیں۔

سرحد کے اس پار سے آنے والے ایک اور اسکالر ڈاکٹرجیٹھو لالوانی نے کہا کہ انڈیا کے کچھ کے علاقے میں ایک ہزار سے زائد گاؤں میں محفلوں اور دیہاتی کچہریوں میں بھٹائی کا کلام گیااور سنا جاتا ہے۔

ایرانی اسکالر محمد حسین تسبیح نے کہا کہ شاہ لطیف کی شاعری کی وجہ سے سندھ محبت اور عشق کا مرکز ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران میں بھی بھٹائی کی تعلیمات کے لیے اقدامات کئے جائیں۔

شاہ لطیف کے مزار کا ایک منظر ۔ تصویریوسف ناگوری
شاہ لطیف کے مزار کا ایک منظر ۔ تصویریوسف ناگوری

اسیر مینگل نے کہا کہ قدرت نے قوموں کی رہنمائی کے لیے رہبر بھیجے اور سندھ کے لیے بھٹائی کو بھیجا۔

 اس کے بعد پختونخوا کے اسکالر سلیم بنگش نے کہا کہ شاہ لطیف اور رحمان بابا کی شاعری میں یکسانیت ہے۔

محکمہ ثقافت کی جانب سے مختلف اسکالرز کی مرتب کردہ  16 کتابیں شایع کی گئیں جن کی تقریبِ رونمائی میلے کے دوسرے دن کی گئی۔

شاہ کے باغ میں لگائے گئے ثقافت گاؤں دوسرے دن بھی لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا رہا۔

سندھ کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے سندھ کی روایتی کشتی ملہہ کے پہلوانوں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا اور تماشائیوں سے داد حاصل کی۔

شاہ لطیف کے ذکر کے علاوہ مختلف مقامات پر مقامی فنکار اپنے فن کا مظاہرہ کرتے نظر آئے۔

اپنی مدد آپ کے تحت گھڑدوڑ کے بعد تین روزہ میلے کی دوسری دھمال اختتام کو پہنچی۔ شائیں شاہ لطیف کے عرس کی تصاویر یہاں دیکھی جاسکتی ہیں۔

تبصرے (4) بند ہیں

Rashid Khuhro Dec 30, 2012 12:17pm
Its good to see Dawn Urdu gives coverage to Cultural Events of Sindh. I highly appreciate this, bcz of giving coverage to rich Events around will increase the readership of Dawn. Urdu.
Rashid Khuhro Dec 30, 2012 12:22pm
There is big need to cover Sindh's Cultural Events and cultural sites for the information of Urdu speaking population. It is always noted all other Urdu newspapers and webs don't give much coverage to these events and sites of Sindh. Thats's why they don't have much circulation and readership around Sindh. It was good to see DAWN URDU's photographic coverage of Urs of Hazrar Shah Abdul Latif Bhitai
Hyder Zaryaab Dec 30, 2012 12:22pm
Best report about mela of Hazrat Shah Abdul Latif Bhitai...I will appreciate Urdu dawn and Reporter of this Sufi Kind Report, Because they are not only Sindhies sents but they are also world's sent and thinkers.....
sona Dec 31, 2012 04:47pm
in bhitshah this mela of shah abdul latif bhittai presents the nicest thinking and whole hisrtorical background of hazrat shahabdul latif bhittai and this article represents the whole thinkings of their loveones in pakistan afterall out of our country

کارٹون

کارٹون : 24 اپریل 2026
کارٹون : 23 اپریل 2026