رضوان طاہر مبین
’ابلاغ عامہ‘ کا ’انعام‘ چلا گیا

’ابلاغ عامہ‘ کا ’انعام‘ چلا گیا

ایک چمکتی ہوئی صبح ماند پڑگئی دنیا کی ویرانی مزید بڑھ گئی۔ ایک اورگھنے پیڑ جیسی ہستی چپکےسے دھرتی کے سینے میں جاکر سوگئی

شائع 30 دسمبر 2019 12:08pm
رتن تلاؤ کی مندر والی گلی

رتن تلاؤ کی مندر والی گلی

ہر ہفتے کسی مخصوص دن رتن تلاؤ کی مندر والی گلی میں واقع نانی کے گھر جانا کسی تہوار کی طرح ہوا کرتا تھا۔

اپ ڈیٹ 10 اگست 2019 10:53am
کہیں بھی تو 1992ء نہیں!

کہیں بھی تو 1992ء نہیں!

وہ لوگ وہ زمانہ نہیں۔ وہ زندگی اور وہ رنگ نہیں، دنیا بہت تیزی سے تبدیل ہوچکی اور ناجانے مزید کیا کچھ اتھل پتھل ہونا ہے۔

اپ ڈیٹ 08 جولائ 2019 11:11am
’ب سے برگر... پ سے پیزا!‘

’ب سے برگر... پ سے پیزا!‘

'بچے کو اسکول میں ’اردو لٹریچر‘ کی کاپی لانے کو کہا جاتا ہے، حالانکہ لٹریچر کے بجائے ’نثر‘ کتنا سہل لفظ ہے۔ٔ

شائع 26 فروری 2019 11:43am
پھر پہلی کے چاند کو کون پوچھے گا؟

پھر پہلی کے چاند کو کون پوچھے گا؟

اگر ’رویت ہلال کمیٹی‘ اٹھ گئی تو ’رویت‘ جیسا اردو کا ایک بہت خوبصورت لفظ ہماری عام بول چال سے بالکل ہی نکل جائے گا!

شائع 19 جنوری 2019 11:34am
ہم صحافی بھی رو دیتے ہیں!

ہم صحافی بھی رو دیتے ہیں!

ہمیں قارئین کی طرح اخبار کا صفحہ تہہ کرکے ایک طرف رکھنے، چینل، کمپیوٹر یا موبائل کی اسکرین بدلنے کی سہولت نہیں ہوتی!

شائع 08 دسمبر 2018 10:03am
’نقش سارے مٹا ڈالے تھے گولی نے!‘

’نقش سارے مٹا ڈالے تھے گولی نے!‘

’حکیم سعید اس دیس کے ہر دشمن کے چہرے سے نقاب نوچ رہے تھے۔ ان کی کتابیں مجھے اُن پر کسی ’فرد جرم‘ کی طرح معلوم ہوتی ہیں۔‘

شائع 17 اکتوبر 2018 10:24am