تزک بابری اور ترکی

اپ ڈیٹ 28 نومبر 2013

ای میل

آجکل تو وطن عزیز میں ہر طرف 'ترکی' اور 'ترقی' کا دور دورہ ہے۔ ڈرامے ترکی کے، بسیں ترکی کی، دورے ترکی کے، یہاں تک کہ کوڑا اٹھانے والی مشینیں بھی ترکی ہی کی ہیں۔

ویسے ترکوں اور ترکستان سے ہمارے رشتے عربوں سے بھی پرانے ہیں کہ جب نہ ہم مسلمان ہوئے تھے نہ ہی ترک۔ بس ان کے اور ہمارے درمیان "ہندو قفقاز" ہے جسے ہم "ہندو کش" بھی کہتے ہیں۔ ان پہاڑوں میں موجود درّوں سے گذر کر جانے کتنی صدیوں سے لوگ یا لشکر آتے جاتے رہے ہیں۔ انہی میں سے ایک بابر کا لشکر بھی تھا۔

ظہیرالدین بابر، شیخ مرزا کے گھر 1483 کو پیدا ہوئے اور 1530 میں محض 47 برس کی عمر میں انتقال کیا۔ 1494 میں محض گیارہ سال کی عمر میں بابر اپنی چھوٹی سی سلطنت "فرغانہ" کا حکمران بنا۔ آئندہ 36 برسوں میں 31 برس تو وہ وسط ایشیا (ثمرقند، بخارا، بدخشاں وغیرہ) ہی میں اپنے ہی رشتے داروں اور دیگر طاقتور سرداروں سے لڑتا رہا جبکہ 1526 میں اس نے بہت دفعہ لشکر کشیاں کرنے کے بعد ہمارے علاقہ میں اقتدار سنبھالا۔

بابر کی سوانح 'تزک بابری' ایک ایسی دستاویز ہے جو نہ صرف ہمیں سولھویں صدی کے وسط ایشیا اور فارس کے بارے میں معلومات دیتی ہے بلکہ آج کے افغانستان و پاکستان میں شامل علاقوں کے بارے میں بھی پتہ کی باتیں بتاتی ہے۔

باپ کی طرف سے امیر تیمور اور ماں کی طرف سے چنگیز خان سے تعلق رکھنے والے بابر کے رشتہ دار وسط ایشیا کے بہت سے مقامات کے حکمران تھے۔ سلطان الغ بیگ مرزا بابر کا سب سے چھوٹا چچا تھا اور کابل و غزنی کا حاکم بھی۔ بڑ اچچا ثمرقند و بخارا کا حاکم۔ ایک ماموں تاشقند، سیرام جبکہ چھوٹا ماموں تاشقند اور ویلدوز کے درمیانی علاقے کا حاکم تھا۔ اسی طرح ایک چچا قندوز اور بدخشاں کا حاکم تھا اور خراسان و ہرات کا حاکم بھی تیموری خاندان ہی کا سردار مرزا بیقرہ تھا۔

بابر کی مادری زبان "ترکی" تھی اور اسے اپنے ترک ہونے پر فخر بھی تھا۔ تزک بابری یعنی بابر نے جو اپنی سوانح لکھی وہ بھی ترکی زبان ہی میں تھی۔ اس کا ترکی زبان میں نسخہ 'المنسکی' نے 1857 میں شائع کیا جبکہ مسز"اے ایس بیورج" نے ایک نسخہ حیدرآباد دکن سے حاصل کیا اور 1905 میں شائع کیا۔

ترکی زبان سے ان نسخوں کو فارسی میں ترجمہ کروایا گیا۔ ایک ترجمہ پائندہ حسن نے کیا ہے جبکہ دوسرا مرزا عبدالرحیم نے۔ ارسکن اور لیڈن نے مرزا عبدالرحیم کے فارسی ترجمہ سے انگریزی میں ترجمہ کیا جسے 1826 میں چھاپا گیا۔

1871 میں پاوے ڈی کورئیل نے المنسکی کے ترکی متن سے انگریزی میں ترجمہ کیا۔ مسز اے ایس بیورج نے حیدرآبادی نسخے سے ترجمہ کیا۔ ان کتب و تراجم کو سامنے رکھ کر لین پول، کیلڈی کاٹ وغیرہ نے بابر کی مختصر سوانح لکھی ہیں مگر اُردو میں ترکی زبان سے براہِ راست ترجمہ نہیں ہوا۔

تاہم تزک بابری بابر اور اس کے دور کو سمجھنے کے لیے واحد کتاب نہیں۔ بابر کے خالہ زاد بھائی مرزا حیدر دوغلت کی کتاب "تاریخ رشیدی" اسی دور میں لکھی گئی تھی۔ اس کے "ترکی" زبان میں نسخے کے بارے تو کچھ معلوم نہیں البتہ اس کا انگریزی میں ترجمہ این ایلیاس اور ڈینس راس نے کیا ہے۔ خواند میر کی کتاب "جیب السیر" بھی اسی دور کی ہے کیونکہ مصنف بابر سے ملا تھا۔ اس کے اصل نسخہے کے بارے میں بھی علم نہیں۔ ویسے تو یہ دنیا کی تاریخ ہے مگر بابر کے حوالہ سے اس میں مفصل تفصیلات ہیں۔

اسی طرح "احسن السیر" بھی اسی دور کی کتاب ہے جسے مرزا برخودار ترکمان نے لکھا ہے۔ اس کا نامکمل نسخہ رامپور کے نواب عبدالسلام کے کتب خانے میں تھا اور یہ "جیب السیر" کا جواب بھی ہے۔

اسی طرح مرزا محمد صالح نے بابر کے بدترین مخالف شیبانی خان پر کتاب لکھی تھی جو شاہناموں اور مہابھارت کی روایت پر منظوم تاریخ ہے جس کا نام "شیبانی نامہ" ہے۔ ازبک نقطہ نظر سے بھی اس کتاب کی اہمیت ہے اور اس لیے بھی کہ اس دور کی بہت سی حقیقتوں کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ اے ویمبری نے اس کو ترتیب و تدوین و ترجمہ کے بعد شائع کروایا تھا۔ اسی طرح مرزا سکندر منشی کی کتاب عالم آرائے عباسی اور ہمایوں نامہ از گلبدین بیگم بنت بابر بھی اسی دور کے آس پاس لکھی گئیں تھیں۔

اس دور کے بعد بھی بہت سی کتب انگریزوں کے آنے سے قبل لکھی گئیں جن میں فرشتہ اور ابوالفضل کی کتابوں کے علاوہ احسن التواریخ، طبقات اکبری وغیرہ شامل ہیں۔

اب ہمارے ہاں تو بس تعصب و تفاخر ہی میں تاریخ لکھی جاتی ہے۔ کوئی بابر کو مسلم حملہ آور کا خطاب دیتا ہے تو کوئی اسے سلطنت اسلامیہ کا معمار بناتا ہے۔ کوئی مغل تفاخر کو سینے سے لگائے پھرتا ہے تو کسی کے لیے مغل یا وسط ایشیا سے تعلق ہونا ہی گالی ہے۔

اگر ہم بند ذہن کے ساتھ تاریخ پڑھیں گے تو تعصب و تفاخر ہی میں پھنسے رہیں گے۔ یوں نہ تو حقائق کو پوری طرح جان سکیں گے نہ ہی تاریخ سے سبق حاصل کر سکیں گے۔ مگر جہاں اعلیٰ تعلیمی ادارے ہی تعصب و تفاخر کو بڑھاوا دیں، نصابی کتب بھی اسی ڈگر کو اپنائیں تو نتیجہ تو وہی نکلتا ہے جس کا ہم آج شکار ہیں۔

پریتم سنگھ پنجابی یونیورسٹی پٹیالہ میں تاریخ کے پروفیسر تھے۔ وہ پاکستان آئے تو بتایا کہ 1947 کے بعد انہوں نے سب سے پہلے پنجابی یونیورسٹی پٹیالہ میں شعبہ فارسی بنایا تھا۔ مگر ہم ہیں کہ یہاں فارسی، ترکی و عربی زبانوں کی مدد سے اپنی تاریخ کو سمجھنے کا کام ہی نہیں لیا۔

ظہیرالدین بابر کے حوالے سے بالعموم اور 10ویں تا 16ویں صدی کی تاریخ کو جاننے کے لیے بالخصوص اگر ہمیں ترکی زبان نہیں آتی تو محققین کو بھی ترجموں پر انحصار کرنا پڑے گا۔ اب آپ خود فیصلہ کریں کہ ترکی، فارسی اور عربی کے بغیر آپ اپنی ہی عمرانی، سیاسی، معاشی تاریخ سے نابلد ہوں گے تو پھر تحقیق کون کرے گا؟

یہی ہے وہ المیہ جس کی طرف آپ کی توجہ دلانا مقصود تھا۔ بات تزک بابری سے شروع ہوئی تھی جو ترکی زبان میں لکھی گئی تھی۔ اب آج کل تو ہمارے حکمران ترکی کے دورے روز ہی کرتے ہیں۔ شائد ان کو کبھی خیال آ ہی جائے کہ 11ویں صدی سے 20ویں صدی تک ترکی زبان میں ہمارے خطوں کے حوالہ سے بھی کچھ لکھا گیا ہے اس کا ترجمہ ہی کروا لیں۔