!بس اب بہت ہوگیا

ای میل

وہ لوگ جو اس لڑائی میں کسی فریق کی حمایت کر رہے ہیں وہ یہ ثابت کرنے پر تلے ہیں کہ ان کا اپنا مفاد سب سے بڑھ کر ہے-
وہ لوگ جو اس لڑائی میں کسی فریق کی حمایت کر رہے ہیں وہ یہ ثابت کرنے پر تلے ہیں کہ ان کا اپنا مفاد سب سے بڑھ کر ہے-

حامد میر پر قاتلانہ حملے کے بعد جو عجیب و غریب واقعات ہوئے ہیں وہ سوجھ بوجھ اور معاملہ فہمی کے تمام ضابطوں کی خلاف ورزی کررہے ہیں اور ان کی روک تھام میں مزید دیر نہیں کی جانی چاہئے-

وہ اصل حقائق جو اب تک تسلیم کئے جاچکے ہیں وہ یہ ہیں کہ کچھ مسلح لوگوں نے کراچی میں ان کی گاڑی پر گھات لگا کر حملہ کیا تھا- جدید ترین اسلحوں سے کئی راؤنڈ فائر کئے گئے تھے اور وہ شدید زخمی ہوگئے تھے- نہ صرف میڈیا بلکہ بقیہ تمام عناصر نے اس واقعے کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جس میں پچھلے کئی سالوں سے میڈیا سے متعلق شخصیات کا قتل کیا جا رہا ہے- قتل کے ان واقعات نے ملک کو صحافیوں کیلئے دنیا کی خطرناک ترین جگہ کے لاثانی درجے پر فائز کردیا ہے-

میڈیا کا طبقہ یہ مطالبہ کرنے میں حق بجانب ہے کہ نہ صرف مجرموں کو گرفتار کیا جائے بلکہ صحافیوں کیلئے انتہائی ممکنہ تحفط کی ضمانت دی جائے، خصوصاً ان کو جو کھری اور سچی باتیں کہنے کو اپنا حق سمجھتے ہیں- جیسے وہ جوڈیشل کمیشن جن کو ایسے کسی معاملے کے حوالے سے ذمہ داری سونپی جاتی ہے، اس بارے میں اس سے زیادہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے- بہرحال، یہ بات صاف طور پر سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کمیشن کی رپورٹ کو ایسے دوسرے کمیشنز کی رپورٹوں کی طرح داخل دفتر کردینے کی روش خطرناک ہوسکتی ہے-

حامد میرکا یہ کوئی غیر معمولی فیصلہ نہیں تھا کہ انہوں نے اپنے خاندان اور دوستوں کو اس خطرے سے آگاہ کردیا تھا جو انہیں محسوس ہوا تھا- اگر ریاست پر شہریوں کے خلاف جبر کا الزام لگ سکتا ہے تو اس کا کوئی ادارہ اس سے مستثنیٰ کیسے ہوسکتا ہے- لیکن ان کے مالکان سے فیصلے کی غلطی یہ ہوئی کہ وہ آئی ایس آئی اور اس کے سربراہ کے خلاف پروگرام کو سارا سارا دن دکھاتے رہے- اس مہم جوئی کے رویے کو سمجھنے کی ضرورت ہے-

ایک زمانہ تھا جب صحافیوں کو ان ملزمان کے بارے میں خبریں دینے کے بارے میں منع کیا جاتا تھا جن کا ایف آئی آر میں ذکر ہوتا تھا- کیونکہ ان الزامات کا عدالت میں ثابت ہونا ضروری نہیں تھا اس لئے یہ الزامات ہتک عزت کے دائرے میں آ سکتے تھے- لہٰذا میڈیا کو یہ مشورہ دیا گیا تھا کہ درخواست کے متن کا ذکر اس وقت تک نہ کریں جب تک عدالت سماعت کی منظوری نہ دیدے-

پچھلے چند سالوں میں یہ احتیاطی تدابیر لوگوں کے ذہن سے محو ہو گئی تھیں، خصوصاً جب سیاسی لیڈروں اور ان کی پارٹیوں کا امیج بگاڑا جارہا تھا- کچھ ریاستی اداروں نے اس مقصد کیلئے میڈیا کی ہمت افزائی بھی کی تھی اور اگر اب وہ خود اس کا نشانہ بن رہے ہیں تو ان کو اپنے آپ کو سدھارنے کی طرف توجہ دینا چاہئے- اور اب میڈیا کو کسی پارٹی کا آلۂ کار بننے سے پرہیز کرنا چاہئے-

آئی ایس آئی کا شکوہ اس واضح قسم کے بغض کے خلاف جائز تھا- لیکں دو باتوں کو ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے- سب سے پہلے، ایف آئی آر میں بے ضابطگی اس جرم کی سنگینی کو کسی طور پر کم نہیں کرسکتی، اور حامد میر کی زندگی پر یہ حملہ باتوں میں نہیں اڑایا جا سکتا-

دوسری بات یہ کہ آئی ایس آئی کا معاملات کو درست کرنے کا مطالبہ اس جرم کی مناسبت سے ہونا چاہئے- جیو ٹی وی کی نشریات کو بند کرنے کا مطالبہ نامناسب اور مضحکہ خیز ہے- اس سمت میں کوئی بھی قدم نہ صرف میڈیا کی آزادی بلکہ عوام کے جاننے کے حق اور ایک ایمان دار، سچے اور باہمت میڈیا کا ان کے اس حق پر سخت حملہ ہوگا- جیو کی نشریات کیبل آپریٹرز کے ذریعے روکنا -- جس کا ایک شکار میں بھی ہوں- اس قسم کی باتوں کی ایک تہذیب یافتہ معاشرے میں کوئی جگہ نہیں-

یہ غل غپاڑہ جو کئی دنوں سے جاری ہے اس نے شہریوں کو چکرا کر رکھ دیا ہے جن کیلئے دونوں میں سے کسی کی بھی 100 فی صد بےجا حمایت ممکن نہیں ہے- جلوس نکل رہے ہیں اور ہر طرح کے لوگ فوج کی حمایت میں اچھل کود رہے ہیں- عوام کو فوج کی خدمات کے بارے میں تو پتہ ہے لیکن فوج بھی لوگوں کے مواخذے سے بالاتر نہیں ہے-

جس طرح فوج کی عزت کا مطلب یہ نہیں کہ اسے سیاست میں دخل اندازی کرنے کی اجازت دیدی جائے بالکل اسی طرح آئی ایس آئی کے بارے میں یہ ماننا کہ وہ غلطیاں کر ہی نہیں سکتی، سراسر غلط ہے. خصوصاً اس کے گزشتہ کردار کے تناظر میں، جیسے 1988 میں آئی جے آئی کی تخلیق، اور 1990 کے انتخابات پر اثر انداز ہوکر اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنا، اور لاپتہ افراد کے کیسوں میں سپریم کورٹ کی حکم عدولی وغیرہ-

یہ بات ملک کے بنیادی مفاد میں نہیں ہوگی اگر آئی ایس آئی کی حمایت میں سڑکوں پر ہنگاموں کی وجہ سے یہ مطالبہ آئے کہ آئی ایس آئی کی تمام کارروائیاں اور تنظیم خود قانونی دائرے میں نہ لائی جائے- یہ ان لوگوں کا مطالبہ نہیں ہے جو پاکستان کے غیر ملکی دشمنوں کے تنخواہ دار ہوں (اور ان سب کو بے نقاب کرنے میں انٹیلیجنس ایجنسیوں کی ناکامی کا کوئی جواز نہیں) یہ 2010ء میں تین ججوں کے کمیشن کا اور سلیم شہزاد کے قتل کی چھان بین کرنے والے جوڈیشل کمیشن کا مطالبہ ہے-

میڈیا کے سربراہوں کے درمیان یہ بد وضع جنگ کسی کے فائدے میں نہیں بلکہ یہ قومی میڈیا کو بہت نقصان پہنچا رہی ہے کیونکہ یہ سب کو بتا رہی ہے کہ کچھ میڈیا ہاؤسز کے پاس گندے کپڑوں کا ایک ڈھیر ہے اور وہ لاپرواہی سے سب کے سامنے اسے دھو رہے ہیں-

مزید، وہ لوگ جو اس لڑائی میں کسی فریق کی حمایت کررہے ہیں وہ یہ ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں کہ ان کا اپنا مفاد سب سے بڑھ کر ہے- کبھی میڈیا سیاسی پارٹیوں کو مشورے دیا کرتی تھی کہ وہ کسی تیسرے کی سرپرستی حاصل کرنے کیلِے آپس میں نہ لڑیں اب انہیں خود اس مشورے کی ضرورت ہے-

یہ بے تکا تماشا اب بہت عرصے سے جاری ہے، اداروں کی توانائی ضائع کررہا ہے اور دوسرے بہت اہم چیلینجز کی طرف سے توجہ ہٹا رہا ہے- قانون کو اس کا موقع دیا جانا چاہئے کہ ان تمام معاملات کے بارے میں طے کرے جو ٹی وی ٹاک شو کے میزبان پر حملے کے تناظر میں اٹھ کھڑے ہوئے ہیں-

اس وقت صرف وزیر اعظم کی ذات ہی ایسی شخصیت لگتی ہے جو ان تمام فریقین کو صلح کرنے اور اپنی توانائی بچانے پر آمادہ کرسکتی ہے تاکہ وہ آئندہ سالوں میں ہونے والی جنگ کے لئے تیار رہیں-

انگلش میں پڑھیں


ترجمہ: علی مظفر جعفری