• KHI: Sunny 27.9°C
  • LHR: Heavy Rain 22.3°C
  • ISB: Partly Cloudy 21.8°C
  • KHI: Sunny 27.9°C
  • LHR: Heavy Rain 22.3°C
  • ISB: Partly Cloudy 21.8°C

'شناختی کارڈ کے معاملے پر متحدہ دھمکیوں کی سیاست ترک کرے'

شائع May 16, 2014 اپ ڈیٹ May 17, 2014

اسلام آباد: وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے متحدہ قومی موومنٹ(ایم کیو ایم) کو دھمکیوں کی سیاست نہ کرنے کا انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ الطاف حسین کے شناختی کارڈ کو ایشو بناگیا اور ان کو شناختی کارڈ جاری نہ کرکے حکومت کو کوئی فائدہ نہیں۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نادرا قوانین کے مطابق کسی کو انفرادی طور پر شناختی کارڈ جاری نہیں کیا جاتا اور شناختی کارڈ بنوانے کے لیے نادرا کے دفتر جانا پڑتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ شناختی کارڈ بنوانے کے لیے موبائل ٹیم میں کم از کم چار افراد ہوتے ہیں لیکن الطاف حسین کے پاس نادرا کا ایک افسر گیا اور اس نے کوائف لیے جس کا کوئی فائدہ نہیں اور جب تک کوائف نادرا کے دفتر میں جمع نہیں ہوتے کارروائی شروع نہیں ہوتی۔

'23 سالوں میں الطاف حسین نے شناختی کارڈ کی کوئی درخواست نہیں دی، بیرون ملک شناختی کارڈ کے حصول کے لیے درخواست دینا پڑتی ہے، الطاف حسین وقت دیں موبائل ٹیم دوبارہ ان کے گھر بھیجی جائے گی'۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ اس مسئلہ پر گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد اور متحدہ کے رہنما حیدر عباس رضوی سے بات ہوئی لیکن مسئلہ حل کرنے کے بجائے الجھایا گیا اور دھمکیاں دی گئیں، اس طرح مسئلہ حل نہیں ہوتا۔

ایک سوال کے جواب میں چوہدری نثار نے کہا کہ نادرا کے جن اہلکاروں کے تبادلے ہوئے ان کے فروری سے تبادلے کے آرڈرز تھے۔

'میں نجم سیٹھی نہیں، نہ کسی کو کپتان بنا سکتا ہوں نہ کسی کو ہٹا سکتا ہوں'۔

دوسری جانب ایم کیو ایم نے نماز جمعہ کے خلاف کراچی میں نادرا آفس کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔

متحدہ قومی موومنٹ نے الطاف حسین کو شناختی کارڈ جاری نہ کرنے پر وفاقی وزارت داخلہ، چیئرمین نادرا اور لندن میں متعین پاکستان ہائی کمیشن کو قانونی نوٹس بھیجوا دیے ہیں۔

ایم کیوایم کی جانب سے یہ نوٹص معروف قانون فروغ نسیم کے ذریعے بھیجے گئے ہیں۔

تبصرے (1) بند ہیں

فہیم May 17, 2014 12:18pm
یہ الطاف بھائی کا حق ہے کہ انکو پاکستانی پاسپورٹ اور شناختی کارڈ جاری کیا جائے، اگر الطاف بھائی کے پاسپورٹ جو انکا قومی تقاضا اور قانونی حق ہے اسکو روکنے شرمناک سازش کا ارتکاب کیا جا رہا ہے. تو پھر اس سوال کا کون جواب دے سکتا ہے کہ عام شہریوں کا کیا حشر ہوتا ہو گا...

کارٹون

کارٹون : 2 اپریل 2026
کارٹون : 1 اپریل 2026