شمالی وزیرستان: پانچ ماہ کا بچہ پولیو کا شکار

18 جون 2014

ای میل

phpXz8jaO
phpXz8jaO
قومی ہیلتھ سروسز کی وزارت اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کررہی ہے کہ شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والے تین لاکھ بچوں کو پولیو ویکسین پلا کر اس بیماری سے محفوظ کردیا جائے۔ —. فائل فوٹو
قومی ہیلتھ سروسز کی وزارت اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کررہی ہے کہ شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والے تین لاکھ بچوں کو پولیو ویکسین پلا کر اس بیماری سے محفوظ کردیا جائے۔ —. فائل فوٹو

اسلام آباد: جہاں تک فوج کا تعلق ہے وہ شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں اور عسکریت پسندوں سے نمٹ رہی ہے، دوسری جانب ملک بھر کے شعبہ صحت کے حکام ایک دوسری قسم کے مہلک قوت کی جانب سے فکر مند ہیں جو اس کشیدگی کا شکار قبائلی ایجنسی کی حدود سے باہر نکل گئی ہے۔ یہ قوت ہمیشہ کے لیے معذوری کا سبب بننے والا پولیو وائرس ہے۔

اس ایجنسی سے بے گھر افراد کی بڑے پیمانے پر نقلِ مکانی وفاقی اور صوبائی محکمہ صحت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ اس لیے تقریباً تین لاکھ بچے جنہیں جون 2012ء سے اب تک پولیو کی ویکسین نہیں دی گئی ہے، توقع ہے کہ یہ بچے فوجی آپریشن کی وجہ سے شمالی وزیرستان سے نکلنے پر مجبور ہوں گے۔

محکمہ صحت کے حکام کا یہ خوف بے بنیاد بھی نہیں ہے۔ اس لیے کہ منگل کے روز وزیراعظم کے پولیو سیل نے تصدیق کی ہے کہ شمالی وزیرستان میں معذور کردینے والی اس بیماری کا ایک اور کیس سامنے آیا ہے۔چنانچہ اب تک اس سال کے دوران ایسے پولیو کیسز جو ریکارڈ پر آئے ہیں ان کی کل تعداد 83 ہوگئی ہے۔

اس سنگین بیماری کا تازہ ترین شکار پانچ مہینے کا بچہ بنا ہے، جس کا نام حضرت علی ہے، دتّہ خیل کے رہائشی شیر نواب کا بیٹا ہے۔ اس بچے کو ایک مرتبہ بھی پولیو ویکسین کے قطرے نہیں پلائے گئے تھے۔

پولیو کیسز کی کل تعداد اس نئے کیس کی وجہ سے اب 83 تک جاپہنچی ہے۔ ان میں سے 65 کیسز فاٹا سے رپورٹ کیے گئے تھے، بارہ کیسز خیبر پختونخوا سے اور چھ کراچی سے۔

قبائلی علاقوں میں جہاں جہاں کالعدم تحریک طالبان کی عملداری ہے، ان علاقوں میں اس کی طرف سے بچوں کو پولیو ویکسین پلانے پر پاپندی عائد تھی، طالبان کا خیال ہے کہ یہ ویکسین غیر اسلامی ہے۔

قومی ہیلتھ سروسز کی وزارت کے ایک اہلکار نے ڈان کو بتایا کہ ملک کے بہت سے حصوں سے پولیو وائرس کا خاتمہ کردیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا ’’حال ہی میں ریکارڈ کیے جانے والے پولیو کیسز کا تعلق وزیرستان سے تھا، جہاں پچھلے دو سالوں سے انسدادِ پولیو مہم کا انعقاد نہیں کیا جاسکا ہے۔ یہ وائرس لوگوں کے ساتھ سفر کررہا ہے اور لوگوں کی بڑی تعداد سرحد پار کرکے افغانستان میں داخل ہورہی ہے یا پھر یہ لوگ اپنے خطے سے نکل کر بڑے شہروں میں آرہے ہیں۔ بدقسمتی سے صحت کے محکموں کو آپریشن کے ٹائم ٹیبل سے آگاہ نہیں کیا گیا تھا، اس لیے وہ اس صورتحال سے نمٹنے کی تیاری نہیں کرسکے۔‘‘

مذکورہ اہلکار کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کو بڑے پیمانے پر نقل مکانی کا سامنا کرنا پڑے گا، اس لیے کہ بہت بڑی تعداد میں لوگ یہاں منتقل ہوں گے۔ بلاشبہ ان میں سے بہت سے لوگ ملک کے دوسرے حصوں میں اپنے رشتے داروں کے پاس چلے جائیں گے۔

قومی ہیلتھ سروسز کی وزارت کے اہلکار نے بتایا ’’ہم خیبر پختونخوا کی حکومت کے ساتھ رابطے میں ہیں اور اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کررہے ہیں کہ کوئی ایک بچے بھی پولیو ویکسین پیے بغیر اس صوبے میں داخل نہ ہوسکے۔ اس کے علاوہ ہماری وزارت نے تجویز دی ہے کہ بالغوں کو بھی پولیو ویکسین پلوانے کا انتظام کیا جائے تاکہ پولیو وائرس ان کے ساتھ سفر نہ کرسکے۔‘‘

انہوں نے اس بات کا امکان ظاہر کیا کہ قبائلی علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے یہ افراد مرکزی شاہراہوں کو استعمال نہیں کریں گے اور روایتی داخلی راستوں کے ذریعے خیبرپختونخوا میں داخل ہوں گے۔لہٰذا صوبائی حکومت سے کہا گیا ہے کہ ایک انسدادِ پولیو مہم شروع کرے، تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ یہ وزیرستان سے بے گھر ہونے والے افراد کو حفاظتی ٹیکوں کے ذریعے اس بیماری سے محفوظ کردیا گیا ہے۔اس مہم کا اعلان دس دن کے اندر اندر کردیا جائے گا۔

اہلکار نے کہا کہ بنّوں میں جلد ہی ایک آپریشن سیل قائم کردیا جائے گا۔ ہم وزیرستان سے آنے والے ہر بچے کو پولیو ویکسین کے قطرے پلوا کر اس افتاد کو ایک موقع میں بدل دینا چاہتے ہیں۔

وزیراعظم کے پولیو مانیٹرنگ اور کوآرڈینیشن سیل کے ایک رکن ڈاکٹر الطاف بوسان نے ڈان کو بتایا کہ وزیرستان سے بے گھر ہونے والے افراد کی نقل مکانی پر اس ادارے کو تشویش ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’’ہم فوری طور پر اقدامات کی تیاری کررہے ہیں، اور تمام صوبوں سے بھی اس حوالے سے رابطہ ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ وزیرستان سے آنے والے ہر بچے کو پولیو کی ویکسین پلا کر اس بیماری سے محفوظ بنادیا گیا ہے۔‘‘