سوالات جو ضروری ہیں

01 جولائ 2014

ای میل

مذہبی انتہاپسندی اور عسکریت پسندی جغرافیائی طور پر پھیل گئی ہے اور انتظامی طور پر پیچیدہ مسئلہ بن گئی ہے-
مذہبی انتہاپسندی اور عسکریت پسندی جغرافیائی طور پر پھیل گئی ہے اور انتظامی طور پر پیچیدہ مسئلہ بن گئی ہے-

سیاسی جماعتیں، قومی میڈیا اور سیول سوسائٹی کے بہت سے گروپوں نے شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کی تائید کی ہے اور اسے ایک ٹھوس حکمت عملی اور قومی فریضہ قرار دیا ہے- وزیر اعظم اور آئی ایس پی آرنے جو فوج کا میڈیا ہے عوام سے متعدد بار اپیل کی ہے کہ وہ 'فوج کی پوری پوری حمایت کریں' جو گزشتہ دہائی میں قبائیلی علاقوں میں اسکی چھٹی کارروائی ہے- فاٹا اورخیبرپختونخواہ کے عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ بھی اس ٹیم کا حصہ بن جائیں-

یہ اپیلیں، گو کہ بظاہر ضروری معلوم ہوتی ہیں دو وجوہات کی بناء پر غیر ضروری محسوس ہوتی ہیں-

ایک تواس لئے کہ ہماری تاریخ یہی بتاتی ہے کہ فوج نے سرحدی علاقوں میں کبھی بھی فوجی یا انتظامی کارروائیوں کے لئے رائے عامہ کو ہموار کرنے کی کوشش نہیں کی، اور مقامی آبادی کو تو کبھی بھی نہیں-اس لئے اس بات پر حیرت بھی نہیں ہوتی کہ جو لوگ طالبان کے تشدد سے اور فوج کی جوابی بمباری سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں ان کے خیالات ایک بار پھر بڑی حد تک بے موقع محسوس ہوتے یں-

دوسری وجہ یہ ہے کہ سوسائٹی کے بعض حصے جنھیں ریاست اہمیت دیتی ہے (مثلا، پنجاب کے شہری رائے دہندگان اور اس سے کسی حد تک کم اہم کراچی کے) پہلے ہی فوج کے ساتھ ہیں- اس کا اندازہ اس مضمون کے پہلے جملے سے ہی نہیں بلکہ انٹرنیٹ پلیٹ فارم پر ظاہر ہونے والی مختلف آرا سے ہوتا ہے جن میں فوج کی حمایت کی جارہی ہے-

اس موجودہ اتفاق رائے میں دو طرح کے جذبات نظر آتے ہیں- ایک طرف تو تائِید کی جارہی ہے (جس میں سچائی اور شفافیت کی اپیل کی جارہی ہے) اور خوشی کا اظہار کیا جارہا ہے اور فیس بک پر حب الوطنی کو ظاہر کرنے والی تصویریں لگائی جارہی ہیں 'جانے نہ پائیں، انھیں پکڑ لو' کی ٹویٹ کی جارہی ہیں اور دوسری طرف ایسے جملے لکھے جارہے ہیں جن میں 'ہائے ہائے' ہورہی ہے-

تاہم، یہ بتانا ضروری ہے کہ کسی بھی صورتحال میں، جہاں تقریباً سبھی فوجی حملے پر خوشی ظاہر کرنے کے لئے تیار ہیں ----خاص طور پر جس میں شہری ہلاک ہورہے ہیں اور بڑے پیمانے پرلوگ نقل مکانی کررہے ہیں---- غیر معمولی طور پر بے وجہ محسوس ہوتا ہے- وہ لوگ جو اس پر خوشی منا رہے ہیں انھیں سوچنا چاہیئے کہ خون کا پیاسا ہونا اور معصوم جانوں کی ہلاکتوں کو نظرانداز کردینا کیونکہ دوطرفہ نقصان لازمی ہے، قریب قریب فاشسٹ ردعمل کو ظاہر کرتا ہے- اس کے نتیجے میں یہی ہوگا کہ ملک میں جو نچلی سطح کی اخلاقی اور عقلی بحث جاری ہے وہ اور بھی پست ہوجائیگی اور پختونوں اور فاٹا نیز ملحقہ علاقوں میں رہنے والی دیگر کمیونیٹیز کی سوچ کوجو پہلے ہی غیرانسانی ہوچکی ہے مزید نقصان پہنچائیگی-

ایک اور بات جو قابل غور ہے وہ اس قسم کے آپریشن کو واحد حل سمجھنا ہے کیونکہ آپریشن اور ریاستی سرپرستی میں ہونے والا دیگر اقسام کا تشدد مذہبی عسکریت پسندی اور انتہاپسندی کے خاتمے کے ایک بڑے سیاسی منصوبے کا ایک چھوٹا سا عنصر ہے-

گزشتہ چند برسوں میں 'امن مذاکرات یا فاٹا آپریشن' کی جو دہری پالیسی اپنائی گئی اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ ملک ایک طرح کی سطحی سوچ کے رحم و کرم پر ہے جس نے عسکریت پسندی کو ایک خصوصی منحرف گروہ کی سرگرمیوں تک محدود کردیا ہے جو ملک کے ایک مخصّوص علاقے میں مرکوز ہیں- نتیجہ یہ ہے کہ ہم آج شمالی وزیرستان میں جو کچھ ہوتا دیکھ رہے ہیں وہ ایک سادہ ردعمل ہےاور جسے مکمل حمایت حاصل ہے ایک ایسے سوال کی جسے جان بوجھ کر غلط طریقے سے آسان بنادیا گیا ہے-

جیسا کہ تشدد کے ہولناک اور دیگر واقعات سے ظاہر ہے مذہبی انتہاپسندی اور عسکریت پسندی جغرافیائی طور پر پھیل گئی ہے اور انتظامی طور پر پیچیدہ مسئلہ بن گئی ہے جس نے معاشرے میں اپنے قدم جما لئے ہیں- اس نے مختلف شکلیں اختیر کرلی ہیں جس میں نہ صرف غیرملکی جنگجووں کے ایرپورٹ پر حملے شامل ہیں بلکہ باقاعدگی سے سماجی تفریق/ترقی پسند آوازوں کی بیخ کنی شیعہ، احمدی عیسائی اور دیگر اقلیتی گروہوں کی ہلاکتیں بھی شامل ہیں-

چنانچہ ہم بجا طور یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس مخصوص اور اکثر پرتشدد منظرنامے میں جسکے شرکاء میں قسم قسم کے گروہ شامل ہیں--- مثلاً، تحریک طالبان پاکستان، لشکر جھنگوی اور لشکر طیبہ جیسے جنگجو گروہ بلکہ قدامت پسند جو روزمرہ ہمیں کام کی جگہوں میں اطراف و اکناف اور مسجدوں میں دکھائی دیتے ہیں---- یہ سب کے سب ایک ہی مسئلہ کا حصہ ہیں-

اس تجزیہ کی روشنی میں دو امور پر گہرائی سے غور کرنا ضروری ہے- سب سے پہلے تو کیا ہم اس انفرا اسٹرکچر سے واقف ہیں جو فاٹا سے باہر بھی اور پاکستان کے 'قلب' میں واقع ہے جہاں سے فنڈنگ، بھرتیاں اور انتطامی امور چلائے جارہے ہیں؟ اور دوسرے یہ کہ آیا اس ریاست نے، جس نے شمالی وزیرستان کے آپریشن کو اس مسئلہ کا آخری حل قرار دیا ہے، بلکہ آیا اسکی حمایت کرنے والے بھی جو جوش و خروش کے ساتھ اسکی پشت پناہی کررہے ہیں، ان تمام پیچیدگیوں اور نظریاتی فضا کا، جو انتہا پسندی کی تمام بدصورت شکلوں میں سرایت کرگئی ہے---- خود کش بمباروں سے لیکر درمیانہ طبقہ کے کٹر مذہب پرست تک---- جائزہ لیا ہے؟

اور سب سے آخر میں سب سے اہم سوال جو موجودہ معاملہ سے جڑا ہوا ہے وہ ہے ریاست کی شدید خواہش جسکی ایک تاریخ ہے اور جس کا دائرہ اس کی اپنی سرحدوں سے باہر تک پھیلا ہوا ہے اور اس سے منسلک وہ تعلقات جو مختلف' قابل قبول' تشدد پسندوں کے گروہوں سے قائم ہیں-

آج جبکہ بہت سے لوگ کہہ رہے ہیں کہ صورحال تبدیل ہورہی ہے اور نئی حکمت عملی بنائی جارہی ہے، گزشتہ ہفتوں میں ایسے بہت سے واقعات رونما ہوئے ہیں جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے (مثلاً، بہت سے مسائل پر حافظ سعید کی جانب سے فوج کی با آواز بلند تائید) کہ اسلامی گروہوں کو آج بھی بعض صورتوں میں کارآمد ساتھی سمجھا جارہا ہے-

اس لئے ان تمام نیک نیت لوگوں کو----خواہ وہ انفرادی شہری ہوں، سیول سوسائٹی کا کوئی گروپ ہو یا سیاسی پارٹی----جو مذہبی انتہاپسندی کو ختم کرنا چاہتے ہیں، اس داخلی پیچیدگی کی تاریخ کو پیش نظر رکھنا ہوگا اور اس پر غورو فکر کرنا ہوگا اور آزادانہ تجزیہ کرنا ہوگا کہ آیا یہ طویل تعلق جو فوج اور عسکریت پسندوں کے درمیان موجود تھا واقعی ختم ہوگیا ہے-

اگلے چند مہینوں میں شمالی وزیرستان میں آپریشن کی حمایت کو حب الوطنی اور دانشمندانہ/'حل-طلب' سوچ کا لٹمس ٹسٹ سمجھا جاتا رہے گا- تاہم، اس طرح کا رجحان جو ایک نقصان دہ حد تک سادہ دہری حکمت عملی کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور ریاست کے غیر شفاف تشدد کو اور کھوکھلی سوچ کو اسکی ظاہری شکل میں قبول کرتا ہے، ضروری ہے کہ اسکا آزادانہ تجزیہ کیا جائے اور نڈر ہو کر اس پر تنقید کی جائے-

جمہوری سیاسی کلچر کا رواج اور مذہبی انتہا پسندی کے ناسور کا حل، اس بات کا متقاضی ہے کہ اس پر زیادہ موثر طور پر تبادلہ خیال کیا جائے-

انگلش میں پڑھیں


ترجمہ: سیدہ صالحہ