منی پاکستان

13 اگست 2014

ای میل

کراچی میں اپارٹمنٹ بلڈنگس شہر کے اندر خود مختار علاقے بن چکے ہیں۔
کراچی میں اپارٹمنٹ بلڈنگس شہر کے اندر خود مختار علاقے بن چکے ہیں۔

دس سال پہلے جب میں نے اپنے بنگلے کو خیر باد کہہ کر ایک فلیٹ میں منتقل ہونے کا فیصلہ کیا، تو مجھے ایک عزیز نے کہا کہ میں اس فیصلے پر نظر ثانی کروں۔ ان کے مطابق ان کے جتنے جاننے والے لوگ فلیٹوں میں مقیم ہیں، وہ ہر وقت کئی مسائل کا سامنا کرتے ہیں، جن میں سرفہرست پڑوسیوں کا عدم تعاون ہے۔

میں نے ان کے مشورے پر توجہ نہیں دی، کیونکہ میرے خیال میں کراچی میں رہنا بذات خود ایک مسئلے سے کم نہیں، بھلے ہی آپ کسی شاندار کوٹھی میں مقیم ہوں، کسی بنگلے میں، یا پھر کسی فلیٹ میں۔

میرے نزدیک پاکستانی اپارٹمنٹس ایک الگ ہی جہاں ہیں، اور اس میں کئی غیر متوقع خطرات بھی ہر وقت موجود رہتے ہیں۔ بہرحال، جب میں ایک اپارٹمنٹ میں منتقل ہوئی، تو مجھے کافی تحفّظ کا احساس ہوا، کیونکہ میں اپنے پچھلے گھر میں دو مسلّح ڈکیتیوں کا نشانہ بن چکی تھی۔ اپارٹمنٹ کافی روشن اور ہوادار تھا، اور ایسی لوکیشن پر قائم تھا جہاں سے میں سمندر کے دامن میں ڈوبتے سورج کا منظر دیکھ سکتی تھی۔

اس بات کا اعتراف کرنا پڑے گا، کہ اس فیصلے کے کچھ نقصانات بھی تھے، پر ماحول کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کر کے ان مسائل سے نمٹا جا سکتا تھا۔ بلڈر ایک خوش اخلاق شخص تھا، جو کہ بلڈنگ ہی میں مقیم تھا۔ بلڈر صاحب رضاکارانہ طور پر کام کر رہے ایک سپروائزر کی مدد سے علاقہ یونین کا کام سنبھالتے تھے۔ سپروائزر باقاعدہ طور پر آفس میں نہیں بیٹھتے تھے، اور جب بھی ہم کسی کام کے سلسلے میں ان کی مدد حاصل کرنا چاہتے، تو پتا چلتا کہ وہ بینک گئے ہوئے ہیں۔ یہ ان کا پسندیدہ مشغلہ معلوم ہوتا تھا۔ کافی دنوں بعد میرے علم میں یہ بات آئی کے وہ بلڈر کے ایک نئے پروجیکٹ کا کام سپروائز کر رہے ہیں۔

ہمیں ہر ماہ آس پاس کی دوسرے پروجیکٹس کی بہ نسبت زیادہ ماہانہ فیس ادا کرنی پڑتی تھی۔ حساب کتاب نہ کسی کو دکھائے جاتے تھے، اور نہ ہی ان کا آڈٹ کرایا جاتا تھا۔ میرے اصرار پر سپروائزر ہر ماہ مجھے ایک کاغذ کا ٹکڑا دکھا دیتے تھے، جس میں بے ترتیبی سے آمدنی و اخراجات کا حساب لکھا ہوتا تھا۔ بقایا جات کے خانے میں لاکھوں روپے درج تھے، میرے استفسار پر بتایا گیا کہ یہ پانی کے غیر ادا شدہ بل ہیں۔

کچھ سالوں بعد بلڈنگ میں مختلف سہولیات کا معیار بتدریج کم ہونے لگا۔ گارڈز سالوں سے وردیاں تبدیل نہ ہونے کے باعث خستہ حال لگتے تھے۔ سیکورٹی میں بھی اب پہلے والی سختی نہیں رہی تھی، اور اجنبی لوگ بلا روک ٹوک اندر آنے جانے لگے تھے۔ لفٹس بھی اب آہستہ آہستہ کام کرنا چھوڑ رہی تھیں۔ ایک لفٹ تو مکمّل طور پر خراب ہو چکی تھی، پر ماہانہ فیس میں اس کے اخراجات باقائدگی سے لگ کر آتے رہے۔ پانی نمکین ہوتا تھا، پر فراہمی چوبیس گھنٹے جاری رہتی تھی۔ لیکن پھر ایک وقت ایسا آیا، کہ نلکے اکثر خشک رہنے لگے، اور جنریٹر بھی ایندھن نہ ہونے کے باعث اب لوڈ شیڈنگ کی صورت میں مزید بجلی پیدا کرنے سے قاصر تھا۔ بلڈنگ میں موجود وہ جگہیں جو عام استعمال کے لئے وقف تھیں، ان پر بھی کچھ لوگوں نے قبضہ کر لیا تھا، جبکہ بلڈنگ سے متعلق تمام فیصلے صرف کچھ با اثر لوگوں کی جانب سے دوسرے لوگوں سے مشاورت کے بغیر لئے جانے لگے۔

ایک چیز جس کی کمی سب سے زیادہ محسوس کی جاسکتی تھی، وہ تھی انتظامی نا اہلی، جس میں مزید اضافہ بلڈنگ کے ان رہائیشیوں کی وجہ سے ہوگیا تھا، جو مل جل کر رہنے کے آداب سے بلکل ہی ناواقف تھے۔

کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی ظاہری طور پر تو اپارٹمنٹس کی تعمیر وغیرہ جیسے معاملات کو پابند و منظم رکھتا ہے، پر ایک دفعہ تعمیر ہوجانے کے بعد اپارٹمنٹس کا نظم و نسق کی طرح برقرار رکھا جائے، اس بارے میں اس ادارے کی ایک نہیں چلتی۔ اس طرح کی اپارٹمنٹ بلڈنگس شہر کے اندر خود مختار علاقے بن چکے ہیں۔ علاقہ یونین قانوناً ضروری نہیں ہیں، اور اکثر و بیشتر یا تو وجود نہیں رکھتیں، یا پھر رجسٹرڈ نہیں ہوتیں، جس کی وجہ سے اثر رکھنے والے اشخاص علاقہ یونین کو اپنے ذاتی مفادات کے لئے استعمال کرنے میں آزاد ہوجاتے ہیں۔

ہماری بلڈنگ کی یونین کے سیکرٹری ایک پولیس افسر تھے، اور وہ یونین چلانے میں ویسا ہی رویہ رکھتے تھے، جس کے لئے ان کا ادارہ بدنام ہے۔ یہاں تک کہ ایک دفعہ انہوں نے چوکیدار کو سبق سکھانے کے لیے اس کو حوالات میں پھنکوا دیا۔

مکینوں کی اکثریت اس طرح کی نا انصافیوں پر خاموش رہتے تھے۔ کیوں؟ کیونکہ وہ ماہانہ فیس باقائدگی سے ادا نہ کرنے کے باعث آواز اٹھانے کا اپنا حق کھو چکے تھے۔ میٹنگز شاذ و نادر ہی کبھی بلائی جاتی تھیں، اور جب بھی بلائی جاتیں، تو اس میں گنے چنے چند افراد شرکت کرتے۔ تقریباً 17 فیصد گھر مالکان کی عدم ادائیگیوں کی وجہ سے ہمیشہ سے بند تھے۔ باقی لوگ کچھ دوسرے طریقوں سے بد عنوانیوں میں ملوث تھے۔

پھر ایک وقت ایسا آیا کہ بلڈر خاموشی سے اپنا فلیٹ بیچ کر سپروائزر کے ساتھ کسی کو کچھ بتائے بغیر نامعلوم مقام پر چلا گیا۔ مجھ سمیت کچھ مکینوں نے فیصلہ کیا کہ صحیح اقدامات کر کے بلڈنگ کو مزید تباہی سے بچایا جائے۔ یہ کوئی آسان کام نہیں تھا۔ وہ لوگ جنہوں نے اپنے فلیٹوں کی آرائش پر لاکھوں روپے خرچ کیے تھے، انھیں عام استعمال کی جگہوں کا خیال رکھنے سے کوئی مطلب نہیں تھا۔ ایک بلڈنگ اس میں رہنے والے تمام مکینوں کی مشترکہ ملکیت ہوتی ہے، پر یہ بات زیادہ تر لوگوں کی سمجھ سے بالاتر تھی۔ نتیجتاً ہم میں سے صرف کچھ لوگوں نے ہی اس ذمہ داری کے لیے رضاکارانہ طور پر خود کو پیش کیا۔

بہرحال، ایک چھوٹا سا گروپ اس کام میں جانفشانی سے مشغول ہوگیا، اور جلدی ہی ہم یونین کی قانون سازی میں کامیاب ہوگئے، اور مکینوں کی ایک بڑی تعداد کو ان پر عمل کرنے کے لیے قائل کر لیا گیا ۔ امید کی کرن روشن تھی، جمع و خرچ کو متوازن کرنے کے لیے پہلا قدم کرپشن کا خاتمہ تھا۔ ہم نے سب سے پہلے ایک چوکیدار کو فارغ کیا، جس کے بارے میں ہمیں شک تھا کہ اس کے ٹینکر مافیا کے ساتھ روابط ہیں۔ وہ انہی پولیس افسر سیکرٹری کے خاص لوگوں میں شامل تھا، جس نے ہمارے شک کو مزید تقویت دی۔

بس، یہ وہ آخری بہتر قدم تھا، پھر اس کے بعد اصلاح کا ذمہ اٹھانے والے عدم تحفّظ کا شکار ہو کر آہستہ آہستہ پیچھے ہٹنے لگے۔ جہاں سے ہم نے کاموں کو درست کرنا شروع کیا تھا، حالات واپس وہیں جا پہنچے۔ میں نے بھی نتجتاً کسی دوسری جگہ منتقل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔ سنا ہے کہ وہاں پر حالات اب پہلے سے بھی زیادہ خراب ہیں، ساتھ ہی پہلے سے زیادہ خاموشی بھی۔

انگلش میں پڑھیں


www.zubeidamustafa.com

یہ مضمون ڈان اخبار میں 6 اگست 2014 کو شائع ہوا۔