بحران کی پانچ وجوہات

14 اگست 2014

ای میل

پاکستان کے عدم استحکام کی ایک وجہ اس کی بنیادوں میں ملائیت کا بیج ہے
پاکستان کے عدم استحکام کی ایک وجہ اس کی بنیادوں میں ملائیت کا بیج ہے

آج تک کبھی بھی ایسا نہیں ہوا کہ پاکستان کے لوگوں کو یوم آزادی پر اپنے مستقبل کو لے کر اتنی بے یقینی ہو، جیسا کہ آج کے دن ہے. ان کی یہ پریشانی اس لیے بڑھتی جا رہی ہے کیونکہ وہ یہ بات سمجھ چکے ہیں کہ نعروں کی سیاست میں بحران کی بنیادی وجوہات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے.

پاکستان کے بحران کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ ملک ایک ماڈرن اور جمہوری ریاست کے قیام میں ناکام ہو چکا ہے. آزادی کے وقت اس ملک کے حصّے میں کولونیل دور کی جو انتظامیہ آئی تھی، وہ تمام لوگوں کی برابری کو یقینی بنانے والی ایک جمہوری ریاست کے قیام کے لیے مناسب نہیں تھی. ساتھ ہی ساتھ یہ 1940کی قرارداد لاہور سے بھی متصادم تھی، جس میں تمام اکائیوں کو مساوی حقوق، اور خودمختاری دینے کا وعدہ کیا گیا تھا.

1947 سے لے کر 1956 کے دوران جب گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935 کو بنیادی قانون کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا تو ایک جمہوری سیاسی نظام کا ویژن کافی حد تک دھندلا گیا. جس سے غیر جمہوری قوّتوں کو با اختیار مقامات حاصل کرنے کا موقع ملا.

گزشتہ 6 عشروں میں اپنائے گئے تمام آئین کولونیل دور کے اس نظام کو بدلنے میں ناکام رہے ہیں، جس میں ایک صاحب حیثیت طبقہ ہی با اختیار ہوتا ہے. جمہوری سکیل پر یہ طبقہ انڈیا میں 1950 میں قائم کی جانے والی ریاست سے بھی کم جمہوری ہے.


پاکستان کے حالات پر ریسرچ کرنے والوں کو ڈاکٹر امبیدکر کی تقریر سے بہت مدد حاصل ہو سکتی ہے. ڈاکٹر امبیڈکر برصغیر کے سب سے دور اندیش سیاست دانوں میں سے ہیں. انہوں نے ہندوستان کے آئین کی منظوری کے وقت کہا تھا،

"26 جنوری 1950 کو ہم تضادات سے بھری ایک دنیا میں قدم رکھنے جا رہے ہیں. سیاست میں ہم ایک آدمی ایک ووٹ، اور ایک ووٹ کی ایک اہمیت کے قانون پر عمل کریں گے، لیکن ہمارے سماجی اور اقتصادی نظام میں ہم ایک آدمی کی اہمیت کے قانون پر عمل نہیں کریں گے. آخر ہم کب تک اپنے سماجی اور اقتصادی نظام میں لوگوں کو برابری فراہم کرنے سے کتراتے رہیں گے؟ اگر ہم لمبے عرصے تک برابری فراہم کرنے میں ناکام رہے، تو ہم اپنی سیاسی جمہوریت کو خطرے میں ڈال دیں گے. اس لیے ہمیں اس تضاد کو جلد سے جلد ختم کرنا ہوگا، ورنہ جو لوگ نا انصافیاں جھیل رہے ہیں، وہ سیاسی جمہوریت کے اس ڈھانچے کو تباہ کر دیں گے، جسے اس اسمبلی نے اتنی محنت سے کھڑا کیا ہے".

آزادی سے لے کر اب تک پاکستان میں نا انصافی اور عدم مساوات کا دور دورہ ہے. نہ صرف یہ کہ شہری اقتصادی طور پر برابری سے محروم ہیں، بلکہ یہ عدم مساوات سیاست میں بھی ہے.

مسلم و غیر مسلم شہریوں کے درمیان سیاسی برابری نہیں ہے. تمام غیر مسلم برابر نہیں ہیں، اور نہ ہی تمام مسلم ایک دوسرے کے برابر ہیں. جب تک ایک اکثریتی آبادی کے فیصلے پیروں اور جاگیرداروں کے ہاتھ میں رہیں گے، تب تک جمہوری سیاست پروان نہیں چڑھ سکتی.

پاکستان کے مسئلے تب تک ختم نہیں ہوں گے، جب تک کہ دیہی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو پیروں اور وڈیروں کے چنگل سے آزاد نہیں کرایا جائے گا، اور جب تک بلوچوں سمیت دوسرے صوبوں کے عوام کو پنجابیوں جتنے حقوق نہیں دیئے جائیں گے.

بحران کی دوسری وجہ یہ ہے، کہ پاکستان ریاستی اداروں کو ان خطوط پر استوار کرنے میں ناکام رہا ہے، جیسا کہ ایک جمہوری ریاست کے لیے ضروری ہوتا ہے.

پاکستان کے حکمران جتنا بھی اچھا بننے کی کوشش کریں، پر اداروں کے طرز عمل نے انھیں پریشان کر رکھا ہے. ادارے کس طرح قوانین کو نافذ ہونے سے روکتے ہیں، یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، اور بسا اوقات یہ صرف نا اہلی کی وجہ سے نہیں ہوتا.

پاکستان کے جتنے بھی آئینی اختیارات رکھنے والے حکمران جب بھی اپنی حکومت سے محروم ہوئے، تو اس کے پیچھے اداروں کا ہی ہاتھ تھا. مثال کے طور پر 1953 میں خواجہ ناظم الدین حکومت، 1969 میں ایوب خان کی حکومت، 1977 میں بھٹو حکومت، اور 1999 میں نواز شریف کی حکومت کے خاتمے کو لیا جا سکتا ہے.

پاکستانی سیاستدانوں کو ریاستی مشینری کو دوبارہ ڈیزائن کرنا، اور اس پر قابو پانا سیکھنا پڑے گا، ورنہ حکومتیں نہ صرف ہمیشہ غیر محفوظ رہیں گی، بلکہ انتظامیہ انھیں غلط، اور اکثر تباہ کن اقدامات کرنے پر بھی مجبور کریں گی.

پاکستان کے عدم استحکام کی تیسری وجہ پاکستان کی بنیادوں میں موجود ملائیت کا بیج ہے، جس نے اب ایک قدآور درخت کی شکل اختیار کر لی ہے. کمزور اور فریب خوردہ حکومتوں نے اس تھیو کریٹک لابی کو اتنی اہمیت دی ہے، کہ اب ریاست کی باگیں مکمّل طور پر اس کے ہاتھ میں ہیں.

ایمان کی تشریح اور اس پر قائم کی جانے والی آئڈیولوجی، جسے قدامت پرست مذہبی طبقے کی حمایت حاصل ہے، ایک ماڈرن، جمہوری، وفاقی، ریاست کے قیام میں مددگار ثابت نہیں ہو سکتا. نہ صرف یہ، بلکہ اسی وجہ سے اندرونی و بیرونی مسائل کے حل میں بھی دشواری کا سامنا ہے.

اس صورتحال کو بہتر طریقے سے سمجھنے کے لیے پروفیسر مونس احمر کی کتاب "Conflict Management and Secular Pakistan" کا مطالعہ کریں. جتنا جلدی پاکستان ملائیت کے اس چنگل سے خود کو چھڑا لے، اس کے مستقبل کے لیے اتنا ہی اچھا ہوگا.

بحران کی چوتھی وجہ سول و ملٹری تعلقات میں توازن کا نا ہونا ہے. دفاعی ادارے ہمیشہ سویلین حکومت سے زیادہ با اختیار رہے ہیں، خاص طور پر جمہوری طریقے سے منتخب حکومتوں سے، اور اس کی وجہ سے دونوں کے کام کرنے پر برا اثر پڑا ہے. ملٹری کے سیکورٹی صورتحال پر نقطہ نظر کی بلاشبہ اہمیت ہونی چاہیے، پر دفاعی پالیسی کی تیاری میں سویلین حکومت کو دور رکھنا نقصان دہ ہے.

حیرانگی کی بات ہے، کہ آرمی کہتی ہے کہ وہ سویلین حکومت کے احکامات مانتی ہے، لیکن کسی بھی سویلین حکومت نے آج تک اداروں کے ذریعے اس عدم توازن کو دور کرنے کی کوشش نہیں کی ہے. جب تک یہ کام نہیں کر لیا جاتا، تب تک پاکستان کو بحران سے نکلنے کا راستہ نہیں ملے گا.

آخر میں یہ فرضی بات کہ کچھ حالات کا آئین میں کوئی حل موجود نہیں، بہت نقصان پہنچا چکی ہے. بدقسمتی سے عدلیہ نے بھی مہم جوؤں کا قرب حاصل کرنے کے لیے اس فرضی بات کو اکثر اہمیت دی ہے.

ایسی کوئی صورتحال موجود نہیں، جس کا حل آئین میں موجود نا ہو. آئین میں 1977 کے بحران کا حل نئے انتخابات کی صورت میں موجود تھا، جبکہ 1999 میں بھی اس کے پاس عدلیہ کے ذریعے بحران سے نمٹنے کا طریقہ کار تھا. اور بالفرض اگر آئین کسی مسئلے پر خاموش بھی ہے، تب بھی ترمیم کے ذریعے حل نکالا جا سکتا ہے.

اس لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ بحران تب تب پیدا ہوئے، جب جب مسائل کے حل کے لیے آئینی راستہ اختیار کرنے میں پس و پیش سے کام لیا گیا. جب تک اس مفروضے کو، کہ آئین میں حل موجود نہیں، کو تسلیم کیا جاتا رہے گا، تب تک غیر آئینی مداخلتوں کا راستہ کھلا رہے گا.

انگلش میں پڑھیں


یہ مضمون ڈان اخبار میں 14 اگست 2014 کو شائع ہوا.