عدم اعتماد کا موسم
ماہ ستمبر جب حیرت میں مبتلا ہندوستان جموں و کشمیر کو شدید ترین سیلاب کی گرفت دیکھ رہا تھا، جسے اس ریاست کے وزیراعلیٰ نے بدترین قرار دیا، اس وقت ایک شناسا ریٹائر پروفیسر کی جانب سے کال آئی اور اس نے کہا" جو کچھ وہاں ہورہا ہے وہ ناقابل یقین ہے، کیا تمہارے خیال میں وہاں کس قسم کا سبوتاژ ہورہا ہے؟۔
غضب ناک جہلم کی لہروں نے پشتوں کو توڑ کر سرینگر کو غرق کردیا جس سے وہاں کے رہائشی ایک ہفتے تک گھربار چھوڑ کر مارے مارے پھرنے پر مجبور ہوگئے۔
یہ ایک پریشان کن سوال ہے، اس پروفیسر نے اس بات کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا کہ سیلاب خدا کے حکم پر آیا، جیسا کہ انشورنس انڈسٹری اس اصطلاح کو استعمال کرتی ہے، بلکہ اس سے بڑے پیمانے پر نااہلی کی عکاسی ہوتی ہے آخر کیوں اس بڑے پیمانے کی آفت آئی، شدید موسمیاتی ایونٹس کو عام معمول کے موسم سے الگ کرنا آسان نہیں، حالانکہ موسمیاتی تبدیلی اب ہماری لغت کا حصہ بن چکی ہے، اور کشمیر کے ساتھ ہمیشہ جو بھی کیا جاتا ہے وہ مشتبہ ہی قرار پاتا ہے، مگر کشمیر کے موسم کی تاریخ کو دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ دہائیوں میں کبھی بھی صرف تین دن میں 450 ملی میٹر بارش نہیں برسی، اور یہ تبدیلی ایک آفت کی شکل اختیار کرگئی۔
کسی کے لیے ایک آئینہ بھی ثابت ہوسکتا ہے جیسا کہ سرحد کی دوسری جانب پاکستان میں بھی ایسا ہی کچھ وہا، رپورٹس اور فوٹیجز کے مطابق پاکستان کے زیرتحت کشمیر میں بھی شدید سیلاب کے نتیجے میں اسی نوعیت کی ہلاکتیں اور تباہی ریکارڈ ہوئی اور ممکنہ طور پر یہ پہلی بار تھا کہ مشترکہ ہدف بننے کا احساس پیدا ہوا۔
اگرچہ پاکستان کو اس سے بھی زیادہ تباہ کن صورتحال کا سامنا ہوچکا ہے یعنی 2010 کا سیلاب جسے اقوام متحدہ نے حالیہ تاریخ کی بدترین قدرتی آفات میں سے ایک قرار دیا تھا، مگر اس کے مقابلے میں حالیہ سیلاب سرحد کی دونوں جانب زیادہ تشویش کا باعث بنا۔
دونوں اطراف کی جانب سے جو چیز زیادہ واضح ہوکر سامنے آئی وہ اس انداز کی آفت سے نمٹنے کے حوالے دونوں حکومتوں کی نااہلی تھی جس کے باعث لاکھوں افراد بے گھر اور روزگار سے محروم ہوکر مزید غربت کا شکار ہوگئے، اس کے علاوہ یہ بات بھی سامنے آئی کہ سرکاری سطح پر جنوبی ایشیا کے موسم میں تبدیلی کو تسلیم نہ کرنا پہلے ہی تبدیل ہوچکا ہے اور اب اس میں تاخیر کوئی آپشن نہیں رہی۔
اس کے اثرات صرف سیلاب نہیں بلکہ ہر شعبے میں محسوس کیے جاسکتے ہیں، اس کے علاوہ بڑھتے درجہ حرارت جس نے زراعت کو چھوٹے اور غربت کے شکار کاشتکاروں کے لیے مزید خطرناک بنادیا ہے، ان سب کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتاہ ے کہ موسمیاتی تبدیلی آئندہ دہائیوں میں اقتصادی نشوونما اور ترقی کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہوگی۔
رواں برس کے شروع میں اقوام متحدہ کے انٹرگورنمنٹل پینل آن کلائمٹ چینج(آئی پی سی سی) نے کی پانچویں رپورٹ میں کئی انتباہ سامنے آئے، جس میں جنوبی ایشیا کے لیے سب سے اہم وارننگ استحصال زدہ برادریوں یا افراد کے لیے تھی جو سماجی، اقتصادی، ثقافتی، سیاسی اور ادارہ جاتی طور پر مشکلات کا سامنا کررہے ہیں اور وہی موسمیاتی تبدیلیوں کے سب سے بڑے ہدف بھی بن رہے ہیں۔
اس کے نتیجے میں منصفانہ اور مستحکم ترقی کا حصول مزید مشکل ہوگیا ہے، چونکہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اقتصادی شرح نمو پر مرتب ہورہے ہیں جس سے فوڈ سیکیورٹی کا مسئلہ مزید سنگین ہوسکتا ہے، جنوبی ایشیا کو مستحکم اقتصادی ترقی کے ساتھ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے اقدامات کو جڑنا ہوگا۔
کیا یہ ممالک یہ سب اکیلے کرسکتے ہیں؟ آئی پی سی سی کی رواں برس کی رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا جنوبی ایشیا کو اس تبدیلی سے مطابقت پیدا کرنے اور ترقی کی حکمت عملی خطے کی سطح تک پھیلانے کے لیے کھڑا ہونا پڑے گا، موسموں میں مزید تبدیلیاں عین ممکن ہے، جس کے پیش نظر ممالک کو ایسے اقدامات کو اپنانا ہوگا جو فوری فوائد کے ساتھ ساتھ اس کے نقصانات کے اثرات کو کم کریں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حالات کے مطابق تبدیلیاں لانا بنیادی طور پر رسک منیجمنٹ سے تعلق رکھتی ہیں اور جنوبی ایشیا کو اس سے سے پہلے متعدد آپشنز کو دریافت کرنا ہوگا۔
پاکستان اور ہندوستان کا معاملہ اس حوالے سے کافی حوصلہ شکن ہے، جہاں سیاسی عدم اعتماد ہر چیز پر اثرانداز ہوتا ہے، مثال کے طور پر اس وقت جب سیلابی پانی پاکستانی کشمیر کے مختلف حصوں میں داخل ہوا تو یہ میڈیا رپورٹس سامنے آئیں کہ ہندوستان اس کا ذمہ دار ہے، تو وسیع پیمانے پر اس بات پر یقین کیا جاتا ہے کہ دریائی ڈیلٹا کے اوپر واقع ریاست اس دریا کے نچلے بہاﺅ والے علاقوں میں سیلاب کی ذمہ داری ہوتی ہے یہاں تک کہ پاکستان کے معتبر تھنک ٹینکس کے ماہرین نے بھی اس خیال کا اظہار کیا، جس پر آخرکار دونوں اطراف کے امن کے خواہش مند افراد نے ہاورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر جو 2014 کے اسٹاک ہوم واٹر پرائز کے فاتح تھے، کی مدد لی جنھوں نے واضح کیا کہ ہندوستان کی جانب دریائے چناب پر تعمیر کیے گیے بگلیہار ڈیم کے دروازے کھولنا سیلاب کی وجہ نہیں۔
سندھ طاس معاہدے کے تحت جسس پر 1960 میں دستخط کیے گئے، پاکستان کو تین مغربی دریاﺅں(سندھ، جہلم اور چناب) کے پانیوں کے استعمال کا حق دیا، ہندوستان ان دریاﺅں پر ڈیم تعمیر کیے تاہم اس کا دعویٰ ہے کہ اس نے معاہدے کے تحت پانی کا ذخیرہ کرنے کی بجائے انہیں چلتا رہنے دیا ہے۔
آئی ڈبلیو ٹی کو کھڑے ہوکر تنازعات کے حل کی بہترین مثال قائم کرنا چاہئے مگر یہاں اس وقت بھی سنگین شبہات پائے جاتے ہیں جب موسمیاتی بحران شدید ہوتا جارہا ہے اور پانی اس کا بنیادی ہدف ہے۔
پر واقعے پر ایک دوسرے پر الزامات کا کلچر عام ہے اور ہر واقعے کو قوم پرستی کا لینس چڑھا کر دیکھا جاتا ہے جو کہ آپسی تعاون کے لیے بڑی رکاوٹ ہے، مگر ڈیٹا شیئرنگ کا آغاز مشترکہ دریاﺅں کی مناسب منیجمنٹ کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے، ہندوستان اس معاملے میں زیادہ ٹرانسپیرنٹ نہیں اور بالائی و زیریں بہاﺅ پر واقع ریاستیں ڈیموں کا ڈیٹا شیئر کرنے میں ناکامی پر انڈیا کو شدید تنقید کا نشانہ بناتی ہیں۔
ان ڈیموں سے پانی کے اخراج اور آمد کے ڈیٹا کا تبادلہ اور انٹرنیٹ پر ان کی دستیابی کو یقینی بنانا افواہ سازی کے عمل کی روک تھام کا بہترین حل ہے جو کشیدگی اور گمراہ کن خبروں کا سبب بنتی ہیں، برسکوئی نے دریائی طاس پر واقع ریاستوں کے فائدے کے لیے ایک اور اہم تجویز بھی پیش کی ہے، یعنی ایک مشترکہ پروگرام جو دونوں اطراف کے عوام کو پاکستان اور ہندوستان کی جانب سے مختلف آفتوں جیسے قحط سالی اور سیلاب کے دوران اقدامات کے بارے میں بامقصد معلومات فراہم کرے، اگر یہ ٹاسک دونوں ممالک کے چند تدریسی اداروں کو دیا جائے تو زیادہ شفافیت کو یقینی بنایا جاسکے گا۔
دیٹا شیئرنگ بظاہر تو ایک چھوٹا قدم لگتا ہے مگر سیاسی عدم اعتماد کے تاریخی حقائق کو دیکھا جائے تو یہ ذہنیت میں بنیادی تبدیلی کے لیے اہم ثابت ہوسکتا ہے، ہم دونوں ممالک میں کانٹیوس جیسے رویے کے متحمل نہیں ہوسکے جب ہمیں ماحولیاتی تباہی کا سامنا ہے، گیارہویں صدی میں ڈنمارک کا بادشاہ اپنی کمانڈر کو لہروں میں کمی لانے کا حکم دینے کے حوالے سے شہرت رکھتا ہے، اس کہانی کی مختلف وضاحتیں موجود ہیں، کوئی کہتا ہے کہ کانٹیوس نے ایسا اس لیے کیا تاکہ وہ اپنی رعایا پر ثابت ہوسکے وہ اتنا طاقتور نہیں کہ قدرت کو روک سکے، دیگر کا کہنا ہے کہ وہ شیخی باز تھا اور اسے یقین تھا کہ وہ ایسا کرسکتا ہے، تاہم ہر طرح سے ایسا رویہ اپنا جنوبی ایشیا کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا۔
لکھاری ایک صحافی ہیں۔













لائیو ٹی وی