بک ریویو: تاریخ جو مقتل گاہ

17 دسمبر 2014

ای میل

اس کتاب میں ماضی قریب کے انسانی قتلوں کے بارے میں دنیا کے مشہور صحافیوں کے مضامین سندھی میں پیش کیے گئے ہیں۔
اس کتاب میں ماضی قریب کے انسانی قتلوں کے بارے میں دنیا کے مشہور صحافیوں کے مضامین سندھی میں پیش کیے گئے ہیں۔

پاکستان کی قومی زبانوں میں سندھی وہ واحد زبان ہے جو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہے۔ سندھی ادب اور شاعری کے اردو، انگریزی اور دیگر زبانوں میں ترجمے ہوتے رہے ہیں اور شعر و ادب کے قارئین اور نقادوں میں خاصے مقبول رہے ہیں۔ ادب کی ایک اور صنف ترجمے میں بھی سندھی ترجمہ نگاروں نے بھی اپنا آپ منوایا۔ ادب، سیاسیات، سماجیات سمیت دنیا بھر میں جو کچھ شائع ہوتا ہے، اس میں سے منتخب مضامین کا سندھی زبان میں بھی ترجمہ کیا جاتا ہے۔

ہمارے دوست ہم سفر گاڈھی کا شمار بھی سندھی زبان کے ایسے ہی ترجمہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ ہم سفر اس وقت سندھی زبان میں چھپنے والے مقبول 15روزہ رسالے افیئر سے وابستہ ہیں۔ ان کے ترجمے رسالے میں تواتر کے ساتھ شائع ہوتے ہیں۔ حال ہی میں دنیا بھر کے مشہور لکھاریوں کے مختلف موضوعات پر لکھے گئے مضامین کے سندھی تراجم پر مبنی کتاب تاریخ کی مقتل گاہ (تاریخ جو مقتل گاھ) کے عنوان سے شائع ہوئی ہے۔ کتاب میں ترجمے کے لیے جن مضامین کا انتخاب کیا گیا ہے، ان میں ایسے مضامین بھی شامل ہیں جن میں جہاں ایک طرف جنگِ عظیم کے دوران انسان ذات پر ہونے والے مظالم کا تذکرہ ہے تو انقلاب روس کے بعد اسٹالن کے دور میں لاکھوں روسیوں کے قتل عام کا بھی ذکر ہے۔

کتاب میں عصر قدیم سے لے کر عصر حاضر تک دنیا میں ہونے والی خوں ریزیوں کا احوال شامل ہے۔ ہندوستانی دانشور کلدیپ نائر کے مضمون سے آپ کو برعظیم کی تقسیم، ہندوستان و پاکستان کے وجود اور ہندوستانی مسلمانوں کے حوالے سے ایک مختلف نقطہ نظر سے آگاہی ملے گی۔ کلدیپ نائر نے اپنے مضمون کی بنیاد پاکستانی سیاست دان چوہدری شجاعت کے دورہ ہندوستان کے دوران دیے گئے ایک بیان کو بنایا ہے جس میں ہندوستانی مسلمانوں کو ہندوستان سے وفادار رہنے کا مشورہ دیا گیا تھا۔ کلدیپ نے پاکستانی رہنما کے بیان کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ اسی طرح مشاہد حسین کے اس بیان پر بھی کڑی تنقید کی ہے کہ ہندوستانی مسلمان ہندوستان میں سلام کرنے سے بھی ڈرتے ہیں۔

کتاب میں امرتا پریتم کے حوالے سے خشونت سنگھ کی ایک تحریر بھی شامل ہے، جس میں امرتا کی تخلیقی صلاحیتوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ گیبریل مولینا نے اپنے مضمون میں مقتول امریکی صدر کینیڈی کے قتل کو موضوع سخن بنایا۔ یہ قتل امریکی تاریخ میں آج تک ایک معمہ ہے۔ 52 سال قبل کینیڈی کو قتل کیا گیا تھا۔ 1963 میں ہونے والے اس قتل کی ذمہ داری کیوبا پر عائد کی گئی تھی۔ 2006 میں ایک بار پھر ایک جرمن ٹی وی چینل نے اپنے ایک دستاویزی پروگرام میں کینیڈی کے قتل کو کیوبا کی سازش قرار دیا۔ یہ مضمون خاصا دل چسپ ہے۔

رابرٹ فِسک کا مضمون ”تاریخ کی مقتل گاہ“ جو کتاب کا عنوان بھی ہے، ایک انتہائی اہم اورتاریخی حقائق سے بھرپور مضمون ہے۔ ان کا مضمون پہلی جنگ عظیم سے شروع ہوتا ہے، اور اس کے بعد دنیا بھر میں مختلف حیلوں بہانوں سے طاقتور ریاستوں کی جانب سے توسیع پسندی کے جنون میں مختلف ممالک پر قبضے کرنے کا ذکر کیا گیا ہے۔ مضمون میں صدام حسین کے دور میں عراق کی جانب سے ایران پر حملوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ مصنف کے بقول عراق نے ایران پر یہ حملے مغربی ممالک کی ایماء پر کیے تھے۔ صدام حسین کو کامیاب کرنے کے لیے روایتی ہتھیاروں کے علاوہ کیمیائی ہتھیاروں کی بھی مدد فراہم کی گئی۔ لیکن جب امریکا نے عراق پر حملہ کیا تو اس وقت صدام کا چل چلاؤ تھا اور وہ تمام فوجی لیفٹیننٹ اور کرنل بوڑھے ہوچکے تھے اور اپنی صلاحیتوں کو زیادہ بہتر انداز میں امریکا کے خلاف بروئے کار لانے میں کامیاب نہیں رہے۔

اس مضمون میں 1970ء میں ویتنام میں ہونے والے قتل عام کا بھی ذکر ہے۔ غرض کتاب میں شامل تمام مضامین کا انتخاب انتہائی سنجیدگی سے کیا گیا ہے اور اس مختصر کتاب میں دنیا کی تاریخ میں تبدیلیاں پیدا کرنے والے مضامین شامل ہیں۔

کتاب کا نام: تاریخ کی مقتل گاہ

مرتب کردہ: ہمسفر گاڈھی

صفحات: 155

قیمت: 200 روپے

ناشر: سندھیکا اکیڈمی کراچی

سن اشاعت: 2014ء