چمکتا ہندوستان، خودکشیاں کرتے کسان

04 اپريل 2015

ای میل

خودکشی کرنے والے ایک کسان کا خاندان اپنے سربراہ کی تصویر کے ساتھ غمزدہ بیٹھا ہے۔ —. فائل فوٹو اوپن سورس میڈیا
خودکشی کرنے والے ایک کسان کا خاندان اپنے سربراہ کی تصویر کے ساتھ غمزدہ بیٹھا ہے۔ —. فائل فوٹو اوپن سورس میڈیا

نئی دہلی: ہندوستانی کسان غیرمتوقع موسم سے متاثر ہورہے ہیں۔ بےموسم کی بارشیں اور اولے پڑنے سے فصلیں تباہ ہونے کے بعد ہندوستان میں قرضوں کے بوجھ تلے دبے کسانوں کی خود کشیوں کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

صرف ایک ریاست اترپردیش میں مارچ کے مہینے کے دوران 67 کسانوں نے خود کشی کی۔ ان میں سے 54 کا تعلق بندیل کھنڈ علاقے سے تھا۔

اُدھر ریاست مہاراشٹر کے ڈویژن اورنگ آباد میں یکم جنوری سے مارچ کے وسط تک 135 کسانوں نے خشک سالی سے فصلوں کی تباہی کے باعث خودکشی کی۔

ہندوستان کے مرکزی وزیر برائے زراعت موہن بھائی کندریا کے مطابق مہاراشٹر میں زراعت سے وابستہ افراد کی خودکشیوں کی شرح 2012ءمیں 13757 اور 2013ءمیں 11772 رہی۔

بتایا جاتا ہے کہ چونکہ ریاستی حکومت خودکشی کرنیوالے کسانوں کے خاندان کو فی کس ایک لاکھ روپے امداد دیتی ہے، اس لیے قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے یہ کسان اس ایک لاکھ کی امید میں بھی خودکشی کرلیتے ہیں کہ ان کے مرنے کے بعد ان کے گھروالوں کو ملنے والی رقم سے ان کا قرض ادا ہوجائے گا، بعض واقعات میں قرض دہندہ کی جانب سے بھی خودکشی کے لیے کسانوں کو مجبور کیا جاتا ہے۔

خودکشی کا یہ سلسلہ حکومت کی جانب سے کسانوں کے اندر خودکشی کا رجحان ختم کرنے کے لیے شروع کیے گئے مختلف پروگراموں کے باوجود جاری ہے۔

ایک اور رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں روزانہ اوسطاًچار کسان اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیتے ہیں اور 1995ء سے اب تک دو لاکھ چھیانوے ہزار سے زیادہ کی تعداد میں کسان خود کو موت کے گھاٹ اُتار چکے ہیں۔

ہندوستانی حکومت کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2010ء کے دوران ہندوستان میں ایک لاکھ پینتیس ہزار افراد نے خودکشیاں کی تھیں، اور یہ تعداد 2009ء کے دوران خودکشی کرنے والے افراد کی تعداد سے 5.9فی صد زیادہ تھی۔

بھارت کی جنوبی ریاستوں کیرالہ ،تامل ناڈو ،آندھرا پردیش اور کرناٹک میں خودکشی کے سب سے زیادہ واقعات رپورٹ ہوتے ہیں۔ان ریاستوں میں قرضوں کے بوجھ تلے دبے کسانوں کو زندگی کی قید سے آزادی کے سوا کوئی راستہ نظر نہیں آتا جس کی وجہ سے وہ زندگی پر خودکشی کو ترجیح دیتے ہیں۔

عام طور پر کسان بیجوں ،زرعی آلات یا اپنی بیٹیوں کی شادی کے لیے بنکوں یا ساہو کاروں سے قرضے حاصل کرلیتے ہیں لیکن فصلوں کے خراب ہونے کی وجہ سے وہ اپنا قرضہ بروقت چکانے میں ناکام رہتے ہیں جس کی وجہ سے وہ ذہنی دباؤ اور نفسیاتی مسائل کا شکارہوجاتے ہیں اور وہ بنکوں اور ساہوکاروں کے ہاتھوں ذلت برداشت کرنے کے بجائے اپنی زندگیوں ہی کا خاتمہ کر لیتے ہیں۔