پشاور: وہ 44 جانیں جو بچائی جا سکتی تھیں

ای میل

پشاور کے نواحی علاقے میں ایک شخص شدید بارشوں سے تباہ ہونے والے اپنے گھر میں سے سامان اکٹھا کر رہا ہے۔ — رائٹرز
پشاور کے نواحی علاقے میں ایک شخص شدید بارشوں سے تباہ ہونے والے اپنے گھر میں سے سامان اکٹھا کر رہا ہے۔ — رائٹرز

اتوار کے روز ایک زبردست طوفان نے پشاور اور گرد و نواح میں تباہی مچائی، جس سے درجنوں افراد ہلاک، اور بیسیوں زخمی ہوئے۔ اس شدید موسم نے وہاں کے لوگوں اور مقامی ماہرینِ موسمیات کو پریشان کر دیا۔ ان کے پاس ٹورنیڈو کے لیے پشتو میں کوئی نام بھی نہیں ہے۔

26 اپریل کو 110 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہواؤں، بارش، اور اولوں نے عمارات کو نقصان پہنچایا، اور کئی جانیں لیں۔

پیر کے روز تک 44 لوگ ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہو چکے تھے، جبکہ لاکھوں روپے کی املاک اور مویشیوں کا نقصان ہو چکا تھا۔ محکمہ موسمیات پاکستان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے پشاور میں 'گرد آلود ہواؤں کے ساتھ تیز بارش' کی پیشگوئی پہلے ہی کر دی تھی۔

ٹورنیڈو، یا بگولے پاکستان میں کم ہی وارد ہوتے ہیں۔ اور یہ آتے مارچ اور اپریل کے مہینوں میں ہیں جب دن گرم ہو رہے ہوتے ہیں، لیکن راتیں ٹھنڈی ہوتی ہیں۔ ایسا ہی موسم مارچ 2001 میں چک مصراں (سرگودھا) اور ہیڈ مرالہ کے نزدیک بہادرپور گاؤں مں مارچ 2011 میں بھی تھا۔ نتیجتاً کئی لوگ مارے گئے۔ لیکن موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے اب یہ غیر متوقع چیزیں اتنی غیر متوقع بھی نہیں رہی ہیں۔

پاکستان میں سیلاب ہمیشہ آتے رہے ہیں۔ کئی سیاسی حکومتوں کی مدت سیلابوں نے کم کی۔ لیکن جان و مال کے شدید نقصانات کے باوجود معاشرے اور ریاست نے کبھی بھی قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے نہ تو کوئی منصوبہ بندی کی، اور نہ ہی ان کے اثرات کم کرنے کے لیے کچھ کام کیا۔

گیلری: پشاور میں بارش کی تباہ کاریاں

2005 کا تباہ کن زلزلہ جس میں 85,000 سے زیادہ لوگ مارے گئے تھے، آخری وارننگ ثابت ہونا چاہیے تھا۔

اور پھر 2010 میں اتنے ہی تباہ کن سیلاب نے ایک بار پھر اس قوم کو یاد دلایا، کہ وہ قدرتی آفات سے نمٹنے کی قابلیت نہیں رکھتی۔ یہ لوگ سانحے کے بعد کے اثرات سے نمٹنا زیادہ پسند کرتے ہیں، بجائے اس کے کہ سانحے سے پہلے ہی نقصانات کم کرنے کے لیے منصوبہ بندی کریں۔ موسم میں غیر متوقع تبدیلیاں، قدرتی آفات کا تسلسل، اور ان کی شدت بہت جلد عوام کی ہمت کو توڑ کر رکھ دے گی۔

پاکستان کو اب یہ سوچنا چاہیے کہ نقصانات قوم کی نقصان برداشت کرنے کی صلاحیت سے زیادہ بھی ہو سکتے ہیں، اور اس لیے آفات کی قبل از وقت تیاری رکھنی چاہیے۔

خیبر پختونخواہ کے حکام کے مطابق زیادہ تر اموات اور نقصانات بے ہنگم بستیوں میں ہوئے۔ تیز ہواؤں نے مٹی سے بنی گھر توڑ ڈالے، درخت اکھاڑ دیے، اور ان کے نیچے تعمیر شدہ گھر اور جھونپڑیاں تباہ کر دیں۔ کم آمدنی والے گھرانے تو چلیں اپنے گھروں کو زلزلوں یا بگولوں سے بچانے کے لیے مضبوط نہیں کر سکتے، لیکن باقیوں کے بارے میں کیا کہیں؟ دیہی خیبر پختونخواہ میں صاحبِ ثروت لوگوں کے حجرے بھی بے ہنگم تعمیرات کے زمرے میں ہی آتے ہیں۔

اور جس طرح لوگ ان آفات سے نمٹنے کے لیے تیار نہیں ہیں، اسی طرح ریاست بھی تیار نہیں ہے۔ خیبر پختونخواہ کے وزیرِ اطلاعات مشتاق غنی کا کہنا ہے کہ صوبے کے پاس موسم کی وارننگ کا سسٹم موجود نہیں ہے۔ کتنی عجیب بات ہے نہ؟ ایٹمی ہتھیار رکھنے والے ملک کے ایک صوبے میں موسم کی وارننگ کا سسٹم ہی ناپید ہے۔

پڑھیے: نیپال میں زلزلہ کیوں آیا؟

مشتاق غنی کا دعویٰ ہے کہ وفاقی انتظام کے تحت چلنے والے محکمہ موسمیات نے موسم کی آخری پیشگوئی 17 اپریل کو کی تھی، جس میں کوئی وارننگ موجود نہیں تھی۔ محکمہ موسمیات کی ویب سسائٹ پر 17 تاریخ کی ایک پریس ریلیز موجود ہے، جس میں 18 سے 20 اپریل تک طوفانی بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ انہوں نے پشاور میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش کی پیشگوئی 26 اپریل سے دو دن پہلے کی تھی۔ لیکن ان کی ویب سائٹ پر 26 اپریل کے حوالے سے کوئی وارننگ موجود نہیں ہے۔

خیبر پختونخواہ حکومت اور محکمہ موسمیات کے درمیان جاری اس کھینچا تانی سے یہ تو واضح ہے کہ غلطی چاہے اس ادارے کی ہو یا اس کی، حتمی طور پر یہی کہا جا سکتا ہے کہ ریاست اس کے لیے تیار نہیں تھی۔ صرف اپنے اوپر سے ذمہ داری اتارنے، اور دوسروں پر الزامات عائد کرنے کا کھیل جاری ہے۔ کسی سے استعفیٰ کے توقع نہ رکھیں، کیونکہ یہ سیاستدانوں یا ریاستی اہلکاروں کے لیے بہت بڑی بات ہوگی۔

2011 کی شروعات میں ماحولیات کا قلمدان صوبوں کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ لیکن کیونکہ زیادہ تر ماحولیاتی مسائل قومی اور عالمی سطح کے ہوتے ہیں، اس لیے شاید یہ صحیح فیصلہ نہیں تھا۔ چنانچہ وزارتِ منصوبہ بندی نے موسمیاتی تبدیلی کا قلمدان لے لیا۔ نیشنل ڈزاسٹر مینیجمنٹ کے نام سے ایک نئی وزارت قائم کی گئی، جسے اپریل 2012 میں وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کا نام دے دیا گیا۔ پھر 2013 میں مسلم لیگ ن کی حکومت نے اس وزارت کو ختم کر دیا، اور پھر دوبارہ قائم کیا۔

کاغذات پر ہی سہی، لیکن پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے کچھ نہ کچھ کام کر تو رہا ہے۔ ملک میں اب اس حوالے سے ایک مکمل وزارت موجود ہے، جسے سینیٹر مشاہداللہ خان چلا رہے ہیں۔

جانیے: کیا کراچی ہمیشہ ڈوبتا رہے گا؟

ستمبر 2012 میں پہلی بار پاکستان نے قومی موسمیاتی تبدیلی پالیسی کی منظوری دی، لیکن اس کا نفاذ کروانے میں ناکام رہا۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ وزیرِ موسمیاتی تبدیلی قدرتی آفات کی وارننگ دینے کے علاوہ بھی کچھ مؤثر اقدامات کر پاتے ہیں یا نہیں۔

اس وقت قوم کو ان دیکھی اور بار بار آنے والی قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاری کی ضرورت ہے، جن کے تباہ کن اثرات معاشرے اور ریاست کی غیر مستعدی کی وجہ سے اور بھی زیادہ ہوجاتے ہیں۔ ہماری کوتاہی کی وجہ سے وہ آفات جن کے نقصانات کم کیے جا سکتے ہیں، شدید آفات اور انسانی المیے میں تبدیل ہوجاتی ہیں۔

معاشرے کا عموماً اور الیکٹرانک میڈیا کا خصوصاً ایک بڑا اور اہم کردار ہونا چاہیے، خاص طور پر تب جب ریاست اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام ہوجائے۔ الیکٹرانک میڈیا کو موسم کی وارننگز اپنے پروگراموں میں شامل کرنی چاہیئں، تاکہ لوگ تیاری کر سکیں۔ آفات کے بعد ہلاکتوں کی رپورٹنگ کرنے سے بہتر ہے کہ پیشگی اطلاعات جاری کی جائیں۔

ساتھ ہی ساتھ عام شہریوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ بابر حسین کی ایک آزاد کاوش، پاکستان ویدر پورٹل، ایک بہت اچھا موسمیاتی بلاگ تھا، لیکن افسوس ہے کہ یہ بلاگ اب فعال نہیں ہے۔

بابر اور ان جیسے دیگر پاکستانیوں کو اپنا کردار ادا کرتے رہنا چاہیے، کیونکہ ریاست اس حوالے سے غیر مستعد دکھائی دیتی ہے۔

انگلش میں پڑھیں۔