'نازیبا جملوں' کا الزام، طوطا تھانے طلب

19 اگست 2015

ای میل

ہندوستان میں 85سالہ خاتون نے اپنے سوتیلے بیٹے پر الزام لگایا کہ اس نے اپنے طوطے کو خاتون پر نازیبا جملے کسنا سکھایا ہے—۔فوٹو/ اے ایف پی
ہندوستان میں 85سالہ خاتون نے اپنے سوتیلے بیٹے پر الزام لگایا کہ اس نے اپنے طوطے کو خاتون پر نازیبا جملے کسنا سکھایا ہے—۔فوٹو/ اے ایف پی

کچھ عرصہ قبل میڈیا پر ہندوستان کی جانب سے "پاکستانی جاسوس" کبوتر پکڑنے کی خبریں گردش کر رہی تھیں اور اب ہندوستانی پولیس نے ایک عمر رسیدہ خاتون پر "نازیبا جملے" کسنے کے الزام میں ایک پالتو طوطے کو پولیس اسٹیشن میں طلب کرلیا.

ہندوستانی ریاست مہاراشٹر کے چندرا پور ڈسٹرکٹ پولیس کو اُس وقت دلچسپ صورتحال کا سامنا کرنا پڑا جب ایک خاتون نے طوطے پر "نازیبا جملے" کسنے کا الزام عائد کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ طوطے کے مالک نے اپنے پالتو جانور کو مبینہ طور پر یہ بات سکھائی ہے.

ہندوستانی نیوز ویب سائٹ آئی بی این لائیو کے مطابق چندرا پور ڈسٹرکٹ کے ضلع راجورا میں ایک 85 سالہ خاتون جانا بائی سکھارکر نے اپنے سوتیلے بیٹے سریش پر الزام لگایا کہ اس نے اپنے طوطے "ہریال" کو سکھایا ہے کہ جب بھی وہ (خاتون) اس کے گھر کے قریب سے گزریں تو وہ نازیبا جملے کسے.

خاتون کے الزام کی تصدیق کے لیے پولیس نے سریش، اس کے طوطے اور شکایت گزار خاتون کو پولیس اسٹیشن طلب کیا.

تاہم پولیس اسٹیشن میں پنجرے میں قید طوطے نے اپنا منہ بند رکھا اور کچھ بھی بولنے سے گریز کیا.

بعد ازاں پولیس انسپکٹر پی ایس ڈونگر نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ "مذکورہ خاتون اور ان کے سوتیلے بیٹے کے مابین جائیداد کا کوئی تنازع چل رہا ہے، ہم نے طوطے کو بہت اچھی طرح سے دیکھا ہے اور اس نے شکایت گزار خاتون کو پولیس اسٹیشن میں کچھ نہیں کہا".

رپورٹ کے مطابق اگرچہ طوطے نے خاتون کے لیے کسی قسم کے نازیبا الفاظ استعمال نہیں کیے تاہم عمر رسیدہ خاتون کی ذہنی حالت کو دیکھتے ہوئے پولیس نے طوطے کو محکمہ جنگلات کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے.