شبنم مجید: مدھر آواز کے ساتھ ایک بہترین انسان

اپ ڈیٹ 15 جنوری 2016

لاہور: شبنم مجید کی شناخت ان کی مدھر آواز ہے لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ وہ گلوگاری کے ساتھ ساتھ فلاحِ انسانیت کے بہت سے کاموں میں بھی مصروف رہتی ہیں.

آرٹس کونسل کے ساتھ مل کر بچوں کے لیے میوزک کلاسز کی شروعات ہو، راگوں کے لیے ایک میوزک ویڈیو ریکارڈ کرنی ہو، یا پھر منشیات کی لت میں مبتلا بچوں کے لیے ایک این جی او کا آغاز، شبنم مجید نے کئی بہتر ارادوں کی منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔

ایک ممتاز آواز، نیم کلاسیکی اور غزل گائیکی کی ملکہ شبنم مجید نے حال ہی میں لاہور آرٹس کونسل میں 10 سال کی عمر کے بچوں کی میوزک ٹیچر کے طور پر شمولیت اختیار کی ہے، جس کی پہلی کلاس اگلے ماہ الحمرا آرٹ سینٹر مال میں رکھی جائے گی۔

شبنم مجید—۔
شبنم مجید—۔

گلوکارہ نے اپنے متعدد منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا ’ہمارے بچوں کو آرٹ کے معاملے میں بڑوں کے مقابلے میں کم مواقع دیئے جاتے ہیں اور ان کے پاس ایک بڑے پلیٹ فارم کی کمی ہے۔'

بچوں کو موسیقی سکھانے کی وجوہات پر اُن کا کہنا تھا کہ ’موسیقی روح کی جمالیت کے لیے بہت ضروری ہے، چھوٹی عمر میں موسیقی سیکھنے سے بچوں کے لیے گلوکار بننے کے لیے کئی راہیں ہموار ہو سکتی ہیں۔ بڑوں کو ہر فیلڈ میں اپنی صلاحیتوں کو بہتر کرنے کے مواقع ملتے رہتے ہیں لیکن بچوں کے پاس یہ مواقع بہت کم ہیں۔ اس لیے مجھے لگتا ہے کہ آرٹس کونسل کی جانب سے یہ ایک بہت اچھا فیصلہ ہے اور اب کم از کم میوزک میں بچے کچھ بہتر سیکھ سکتے ہیں۔'

شبنم مجید الحمرا فلمز کے ساتھ مل کر مختلف راگوں کی شناخت کے حوالے سے ایک ٹریک ریکارڈ کرانے کا منصوبہ رکھتی ہیں، جسے وہ خود ہی کمپوز کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی ہدایت بھی خود دیں گی۔

پاکستانی فلم ’بول‘ کے بعد سے شبنم مجید نے کسی پاکستانی فلم میں گلوکاری کے فرائض انجام نہیں دیے. اس حوالے سے شبنم کا کہنا تھا کہ ’ اپنی ڈیبیو فلم 'جو ڈر گیا وہ مر گیا' کے بعد سے میں نے ایک پلے بیک گلوکارہ ہونے کے باعث کئی گانے گائے ہیں، لیکن اب مجھ جیسے گلوکاروں کے لیے چیزیں کافی تبدیل ہوچکی ہیں۔ نئی پاکستانی فلمیں سینما پر ایک طویل عرصے کے لیے موجود نہیں اور نئی آنے والی فلمیں کچھ ہفتوں کے اندر ہی پرانی فلموں کی جگہ لے لیتی ہیں، بہت زیادہ مسالا اور کمرشلز فلموں کا اہم حصہ بن چکے ہیں اور اس طرح کی فلموں میں گانے میں مجھے کوئی دلچسپی نہیں۔'

شبنم کا مزید کہنا تھا کہ 'زیادہ تر نئی فلموں میں پروڈیوسر میوزک کمپوزر کے ساتھ معاہدہ کرلیتے ہیں جو زیادہ پیسے بچانے کے لیے تجربہ کار گلوکاروں کے بجائے نئے نئے گلوکاروں سے گلوکاری کراتے ہیں۔'

منشیات میں مبتلا بچوں کے لیے این جی او بنانے کے حوالے سے اُن کا کہنا تھا کہ ’بچے کسی بھی قوم کے موتیوں کی طرح ہوتے ہیں اور ان کے بہتر مستقبل کے لیے اُن سے اُسی طرح سے کام لیا جاتا ہے۔ متعدد بچوں کو منشیات اور دیگر مسائل میں مبتلا دیکھنے کے بعد میں نے ان کی بہتری کے لیے اس منصوبے پر کام کرنے کا فیصلہ کیا۔ کم سے کم میں کوشش کرسکتی ہوں۔ میں یہ این جی او اپنے بیٹے لکی علی کو وقف کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہوں جو 2010 میں 10 سال کی عمر میں سیڑھیوں سے گرنے کے باعث مجھے چھوڑ کر چلا گیا تھا.'

یہ انٹرویو 15 جنوری 2016 کو ڈان اخبار میں شائع ہوا


آپ موبائل فون صارف ہیں؟ تو باخبر رہنے کیلئے ڈان نیوز کی فری انڈرائیڈ ایپ ڈاؤن لوڈ کریں.

تبصرے (0) بند ہیں